افغان امن کوششوں کو ایک اور دھچکا
19 اکتوبر 2020 (11:55) 2020-10-19

طالبان نے صوبہ ہلمند کے صدر مقام ”لشکر گاہ“ پر ایک بڑا حملہ کیا ہے، جس نے طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت پر سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے۔ ہلمند اور اس سے منسلکہ علاقے میں، ذرائع مواصلات کی کمی ہے۔ پاور اسٹیشن پر حملے کے بعد ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس شورش زدہ علاقے سے 35,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے فضائی حملے کر کے یہ حملہ پسپا کر دیا ہے تاہم، دیکھنا یہ ہے کہ اس حملے کا اس وقت ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات پر کیا اثر پڑے گا۔ امریکی خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے کہا ہے: ”جنرل ملر اور میری طالبان کے ساتھ ہونے والی متعدد ملاقاتوں کے بعد، ہم نے امریکہ طالبان معاہدے کی تمام شقوں پر سختی سے عمل درآمد اور تمام وعدوں پر عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیا ہے۔“

یقیناً یہ سب کچھ امریکہ کے اندرونی سیاسی معاملات کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی ”مستقل جنگوں“ کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے لیکن ایسا کرنے میں ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی۔ اس کے نتیجے میں، واشنگٹن کی طرف سے ملے جلے پیغامات آ رہے ہیں، جو افغان حکومت، طالبان اور امریکہ کے اتحادیوں سے یہ امن کی راگنی سننا چاہتے ہیں۔ ایک طرف، ٹرمپ نے حالیہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ کرسمس تک امریکی افواج افغانستان سے مکمل طور پر نکال لی جائیں گی۔ یہ نعرہ انہوں نے امریکی صدارتی انتخاب میں دوسری مدت کے لئے کامیابی کے لئے لگایا ہے۔ تاہم، دوسرے سینئر امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ فوج کا کرسمس تک افغانستان سے انخلا ممکن نہیں۔ موجودہ صورتحال ایک سال قبل شام کے متعلق امریکی پالیسی کی یاد تازہ کرتی ہے جب ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا کہ امریکی فوجی شام چھوڑ رہے ہیں مگر ایک سال بعد وہ اب بھی موجود ہیں۔

ہلمند کی موجودہ صورت حالات نے دو اہم نکات اٹھائے ہیں۔ پہلا اس بات کا اشارہ ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ طے پا جانے کے باوجود افغانستان کو طویل المیعاد مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ افغانستان کے جنوب میں واقع صوبہ ہلمند ایک طویل عرصہ سے طالبان کی سرگرمیوں اور پشتون قوم پرستی کا گڑھ رہا ہے۔ یہ پچھلے کئی سال سے ملک میں لڑی جانے والی جنگوں کا مقام رہا ہے۔ 2010-11 میں لڑائی میں عروج کے وقت امریکہ اور برطانیہ کے 30,000 سے زائد فوج یہاں موجود تھی۔ افغانستان کی کل آبادی کا 3 فیصد رکھنے والے اس صوبے میں اتحادی افواج کا ایک چوتھائی حصہ یہاں موجود رہا ہے۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ دوحہ میں کسی بھی طرح کے امن معاہدے کے اثرات صوبہ ہلمند جیسے مقام کے دور دراز دیہات تک پہنچ جائیں گے۔

اس بات سے قطع نظر کہ دوحہ میں دونوں فریق کیا رائے رکھتے ہیں، طالبان امریکہ امن معاہدے سے مستقبل میں کم از کم آئندہ نسل کے لئے افغانستان ایک پُر سکون جگہ ہو گی۔ ہندوستان، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، میں آج بھی علیحدگی کی متعدد تحریکیں چل رہی ہیں۔ اس تناظر میں یہ ضروری نہیں کہ امن معاہدے سے افغانستان میں تمام لڑائیاں ختم ہو جائیں۔ یہ ناکامی کی علامت نہیں بلکہ افغانستان کے پیچیدہ زمینی حقائق کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔ اس حقیقت کے لئے رائے عامہ کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہلمند میں لڑائی، جو امن مذاکرات کے دوران جاری ہے، یہ بات بھی منکشف کرتی ہے کہ دوحہ مذاکرات کرنے والے طالبان کا افغانستان کے داخلی حالات پر کتنا اختیار ہے۔ طالبان جو 1990 کی دہائی میں افغانستان کی سب سے طاقتور ایک مرکزی تنظیم تھی وہ گزشتہ برسوں کے دوران کچھ معاملات میں مقامی جنگجو تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امن مذاکرات کے حوالے اہم بات یہ بھی ہے کہ دوحہ کے پُر تعیش ہوٹلوں میں مذاکرات کرنے والے طالبان کو موسیٰ قلعہ جیسی جگہ پر رہنے والے پیدل فوجی پر اختیار حاصل ہے یا کم از کم اس کا اثر ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ہلمند میں اس حملے سے قبل بھی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اگرچہ متحارب فریقوں کو مذاکرات کے لئے ایک میز پر بٹھانا بذات خود ایک کامیابی ہے لیکن افغانستان کے بیشتر حصوں میں لڑائی کی شدت میں کوئی زیادہ کمی نہیں آئی۔ رواں سال ہزاروں افغان سکیورٹی اہلکاروں کو طالبان نے ہلاک کیا ہے، مذاکرات کاروں کے مابین اعتماد اور اعتماد کی کمی ہے۔ صورت حالات میں اہم پیشرفت تک امن کے لئے پائیدار اور معنی خیز امکانات مفقود ہی رہیں گے۔

ان تمام چیلنجوں کے باوجود بھی عالمی برادری کو بات چیت سے دستبردار نہیں ہونا چاہئے۔ کسی بھی انقلابی تبدیلی کے لیے صبر کی ضرورت ہے۔ بات چیت کے دوران اتار چڑھاؤ آتے رہیں گے۔ بات چیت خود مہینوں اور شاید برسوں تک ہو گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دوران بہت سے زیادہ افغان ہلاک ہو جائیں گے اور بہت سے اس سے متاثر ہوں گے۔ بہر حال افغان حکومت، افغان سول سوسائٹی اور طالبان کے مابین پائیدار اور حقیقی امن وہ واحد چیز ہے جو چار دہائیوں کی لڑائی کا شکار ملک میں استحکام لا سکتی ہے۔

(بشکریہ: عرب نیوز 17-10-20)


ای پیپر