خواب کیسے پورے کیے جائیں
19 اکتوبر 2020 (11:48) 2020-10-19

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خواب دیکھنے کا صحیح وقت کونسا ہوتا ہے، آپ کس وقت بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں اور آپ کب ڈر اور خوف کا خول توڑ کر مایوسی کے دائرے سے باہر نکل سکتے ہیں۔ نوٹ کر لیجیے کہ جب آپ کے حالات بہت برے ہو جائیں، تعلیم ادھوری رہ جائے، لوگ مخالفت کرنے لگیں، فیملی ساتھ چھوڑ دے، غربت سے تنگ آ جائیں، امید کا چراغ بجھتا جا رہا ہو، کوئی سننے والا اور بتانے والا نہ رہا ہو تو سمجھ جائیں کہ یہی وہ صحیح وقت ہے جس میں آپ خواب دیکھ سکتے ہیں۔ بڑے فیصلے کر سکتے ہیں اور ڈر کے خول توڑ سکتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کی اکثر کہانیاں ناسازگار حالات سے ہی شروع ہوئی ہیں۔ بڑے خواب مشکل ترین حالات میں دیکھے گئے ہیں۔ بلکہ اگر یوں کہیں کہ بڑے خواب محرومی کے دور میں ہی دیکھے گئے ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ سازگار ماحول تو آپ کو کمفرٹ زون سے باہر نکلنے ہی نہیں دیتا۔ مشکلات کی انتہا آپ کی تکلیف کو اتنا بڑھا دیتی ہے کہ آپ تنگ آ کر ایک بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یہی لمحہ آپ کی تقدیر کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ 

زندگی میں جب فیصلہ کریں تو انتہائی باریک بینی سے تمام پہلووں کو مدنظر رکھ کر کریں اور جب فیصلہ کر لیں تو اس پر کھڑے ہو جائیں۔ پیچھے مت ہٹیں۔ جو رکاوٹیں آئیں ان میں سے راستہ نکالیں واپسی کا سفر مت کریں۔ مشکلات دراصل سیکھنے کی درسگاہیں ہوتی ہیں۔ آپ کا جیسے ہی ان سے سامنا ہوتا ہے کامیابی کے نئے اصول وضع ہونے لگتے ہیں۔ نئے راستے بننے لگتے ہیں۔ نئے افق روشن ہونے لگتے ہیں۔نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ تازہ ہوا کے جھونکے آپ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ کائنات تسخیر ہونے کے لیے آپ کے قدموں میں بچھنے لگتی ہے۔ قدرت بھی خوشی سے جھومنے لگتی ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ اللہ نے بغیر مشکلات کے اپنے انبیا کو بھی نوازا ہو۔ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا۔قدرت پہلے انھیں مشکلات سے دو چار کرتی ہے اور پھر اس میں سے ہی کامیابی کا راستہ نکالتی ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنھیں زندگی میں اکثر مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور وہ ہر بار اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ جنھیں صاف ستھرا راستہ مل جائے، جس نے 

کبھی راستے کے کانٹے نہ چنے ہوں، جس کے آرام اور سکون میں کبھی خلل نہ آیا ہو۔ ایسے شخص کے پاس سکھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ اس کی صحبت میں بیٹھ کر کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ مشکل فیصلے مشکل حالات میں ہی کیے جاتے ہیں۔ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خطروں کے کھلاڑی بنیں۔ مشکلات کو کامیابی کے مواقع سمجھیں۔ یہی اصل زندگی ہے۔

زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے کچھ اصولوں پر عمل درآمد کریں۔ آپ درست راستے کا تعین کر سکیں گے۔ آج آپ فیصلہ کر لیں کہ آپ کو زندگی میں کس چیز کا جنون ہے۔ اس جنون کے حصول کو خواب بنالیں۔ زیادہ تر لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے خواب ہیں کیا۔ انھیں کیا حاصل کرنا ہے۔ اس لیے ساری زندگی ایسے کاموں میں گزار دیتے ہیں جن سے انھیں محبت ہی نہیں ہوتی۔ کام کرنے کا وہ جذبہ ہی پیدا نہیں ہو پاتا۔ جو کامیابی کی طرف لے جائے۔ ان حالات میں وہ عام سی زندگی تو گزار سکتے ہیں لیکن مثالی اور شاندار زندگی گزارنا ممکن نہیں ہو پاتا۔کیونکہ جب تک کام آپ کا جنون نہیں بن جاتا، آپ کو کام سے عشق نہ ہو جائے تب تک آپ عظمت کا راز نہیں پا سکتے۔ لہذا سب سے زیادہ محنت یہ جاننے میں کریں کہ آپ کو کس کام میں خوشی ملتی ہے۔ اسی میں اپنا خواب تلاش کریں۔ یاد رکھیے کہ آپ کی زندگی میں سب سے بڑی ڈسکوری آپ کی اپنی ذات کی ڈسکوری ہے۔ آپ یہ جان لیں کہ باہر کے حالات آپ کو اس قدر متاثر نہیں کرتے جتنے آپ کے اندر کے حالات یعنی کہ آپ کے خیالات، یقین، امیدیں اور جذبے آپ کے مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام کامیاب انسان وقت پر یہ قبول کر لیتے ہیں کہ ہم باہر کے حالات کو جلدی تبدیل نہیں کر سکتے۔ لیکن ہماری ذات، اعتماد اور سوچیں ہمارے اختیار میں ضرور ہوتی ہیں۔ اس لیے وہ اپنے اندر کی کائنات کو بہتر کرتے ہیں۔ دنیا کو فتح کرنے کی شروعات وہ خود سے کرتے ہیں۔ ستاروں کا حساب لگانے کی بجائے خود کا احتساب کرتے ہیں۔ کامیابی کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ 

اللہ نے دنیا متوازن بنائی ہے۔ قدرت کے بنائے ہوئے چوبیس گھنٹے سب کے لیے ایک جیسے ہیں۔ سورج سب پر ایک جیسا چمکتا ہے۔ رات سب کے لیے ہے اور دن سب کے لیے چڑھتا ہے۔ آکسیجن بلا تفریق رنگ و نسل سب کو مہیا ہے اسی طرح ہر ایک کی زندگی میں قدرت کامیابی کے برابر مواقع مہیا کرتی ہے۔ جس طرح ہم روز ملنے والی نعمتوں سے بے خبر رہتے ہیں جو قدرت بن مانگے ہماری جھولی میں ڈال رہی ہوتی ہے اس طرح ہم ان مواقعوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کی زندگی کے مطالعے اور مشاہدے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فطرت بچپن سے ہی آپ کو اشارے دے رہی ہوتی ہے۔ قدرت کبھی کسی کے منہ سے کوئی بات نکلوا کر، کبھی کسی حادثے کے ذریعے آپ کو یاد کرواتی ہے کہ آپ کے کچھ خواب ادھورے پڑے ہیں۔ زندگی گزارتے ہوئے ہمیں کبھی ربط محسوس نہیں ہوتا لیکن اگر کبھی رک کر ماضی یاد کریں تو قدرت کے اشارے محسوس بھی ہونے لگتے ہیں اور تمام واقعات میں ایک ترتیب بھی نظر آنے لگتی ہے۔ تمام کامیاب لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ ہر بندہ ہی بڑا اہم ہے۔ یہ حسن اور حسن خیال سب کے دم سے ہے۔ سب نہیں تو ہم بھی نہیں۔قدرت کے اشارے آپ کی زندگی کو معنی دیتے ہیں۔ کبھی مت بھولئیے کہ بغیر معنی اور مقصد کے زندگی فقط موت ہے۔ 

زندگی میں اپنی محنت، فیصلوں اور ان کے نتیجوں کو سوالیہ نظروں سے ضرور دیکھیں۔ خود سے سوال کرتے رہیں کہ آپ کی محنت آپ کو کس سمت لے جارہی ہے؟ کیا آپ بہت بڑی قیمت ادا کر کے بہت سستی چیز حاصل کر رہے ہیں؟ کبھی یہ سوچیں کہ میرا مقصد حیات کیا ہے؟ میں اپنی

 تلاش کو کیا نام دوں؟ میں کہاں کھڑا ہوں؟ مجھے جانا کہاں ہے؟ میری شناخت کیا ہے؟ صدیوں بعد آیا ہوں اور دوبارہ آنے کا موقع بھی نہیں ملنا۔میں دنیا سے حاصل کیا کرنا چاہتا ہوں اور اس دنیا کو کیا دے کر جا رہا ہوں؟ اگر یہ سوالات آپ کے دل میں پیدا ہوتے ہیں تو آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ یہی سوال ہر کامیاب انسان کے دل سے اٹھتے ہیں اور خوابوں کو جنم دیتے ہیں۔کامیاب لوگ جانتے ہیں کہ اگر اس کا کوئی خواب نہیں ہو گا تو وہ دوسروں کے خوابوں میں فٹ ہو جائے گا اور اپنی اہمیت کھو دے گا۔آج تھوڑا سا وقت نکالیں، خود سے ملیں اور خود سے سوال پوچھیں کہ زندگی کامیاب بن کر گزارنی ہے یا ناکام بن کر۔


ای پیپر