نئے انتخابات یا مارشل لاء
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

سمجھ میں نہیں آ رہا کہ حکومت یا پیمرا کو مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو بڑھاوا دینے والی سرگرمیوں، اجلاسوں اور پریس کانفرنسوں کو میڈیا پر براہ راست نشر کرنے پر کیا اور کیوں اعتراض ہے… پابندی کس مقصد کی خاطر لگا دی جاتی ہے اور اس سے حکومت کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے… میڈیا، ٹیلی ویژن چیلنوں اور اخبارات تک محدود نہیں رہا… پچھلے دس پندرہ سال سے سوشل میڈیا کی جو نئی دنیا آباد ہوئی ہے، اس نے مین سٹریم میڈیا پر حکومتی پابندیوں کو بے معنی بنا کر رکھ دیا ہے… جمعہ 18 اکتوبر کو لاہور میں مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس کی… اسے براہ راست نشر کرنے کی پابندی کے باوجود کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جس کی اس روز غروب آفتاب سے پہلے ملک کے ہر شہری تک خبر نہیں پہنچ گئی تھی… تمام مندرجات کو باربار کے خبرناموں میں دھرایا گیا۔سوشل میڈیا پر اس کا سارہ منظر دکھایا گیا… ٹیلی ویژن سیٹ اوسطاً فی گھر ایک سے زیادہ نہیں… وہ بھی تمام تر مقبولیت اور ضرورت کے باوجود ابھی تک ملک کے تمام قصبوں اور دیہاتوں کے گھرانوں تک نہیں پہنچ سکا مگر موبائل فون تو ہر کنبے کے کم ازکم دو افراد کے پاس ہوتا ہے… پریس کانفرنس جسے ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعے براہ راست نشر نہیں ہونے دیا گیا، اس کا کوئی پہلو یا اس کے دوران دیا جانے والا کوئی بیان موبائل سیٹ کے ذریعے کسی سے مخفی نہ رہا… غالباً اس طرح کی پابندیاں لگا کر حکومت کی جانب سے مشق کی جا رہی ہے کہ 27 اکتوبر اور اس کے بعد ملک کے مختلف شہروں اور یہاں تک کہ دور دراز علاقوں سے لوگ مختلف جتھوں کی شکل میں اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے… ان کے مناظر گھروں میں بیٹھے عوام کی نظروں سے اوجھل رہیں گے… اس کے باوجود آپ کسی کو سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں دیکھنے سے تو نہیں روک سکیں گے… ہر گھنٹے بعد نشر ہونے والی خبروں میں تو ان کا مقاطع نہیں کیا جا سکے گا اور اگر اسلام آباد میں دھرنے میں لوگوں کا جم غفیر جمع ہو گیا یا حکومت نے دارالحکومت پر چہار اطراف سے یلغار کرنے والے مظاہرین کو شہر میں داخل ہونے سے انتظامی اور ریاستی طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کی تو کیا یہ خبر چینلوں پر پابندی کے باوجود جنگل کی آگ کی طرح نہیں پھیل جائے گی… اس کے ساتھ لوگوں کے پاس براہ راست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کی افواہیں جنم نہ لیں گی اور ملک کے اندر ابہام و انتشار نہیں پھیلے گا… اگر ان امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا تو پھر آزادی مارچ کو براہ راست نشر کرنے کی اجازت دینے میں حکومت کو کیا امر مانع ہے… مولانا فضل الرحمن مارچ کے اعلان کے ساتھ ہی پورے ایک ماہ سے میڈیا پر اس طرح چھا گئے ہیں کہ کوئی ان کے سامنے ٹھہر نہیں پا رہا… 2014ء میں بھی تو عمران خان اور طاہر القادری صاحب نے اس وقت کی حکومت کے خلاف اسلام آباد کی جانب جلوس نکالے تھے… دارالحکومت پہنچ کر 126 دن کا دھرنا دیا تھا… چینل ایک ایک لمحے کی کارروائی اہل پاکستان نہیں پوری دنیا کو دکھا رہے تھے… اڑھائی اڑھائی گھنٹے کی تقریریں براہ راست اور بار بار نشر ہو رہی تھیں… اس کے باوجود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اگلے روز اعتراف کیا کہ ان کا 126 دن کا دھرنا حکومت وقت کا تختہ نہ الٹا سکا تو پھر موجودہ حکومت مولانا فضل الرحمن اور ان کی اتحادی جماعتوں کے آزادی مارچ سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟

آزادی مارچ کی شروعات 27 اکتوبر کو ہوں گی… یہ روز کشمیریوں کے یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے کیونکہ اس دن بھارت کی فوج نے ریاست جموں و کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے میں لے لیاتھا، اسی لیے آزادی مارچ والوں نے بھی طے کیا ہے کہ اس روز نکالی جانے والی تمام ریلیوں کے ذریعے کشمیری عوام اور ان کے جائز ترین نصب العین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا… علاوہ ازیں 27 اکتوبر کے دن پاکستان کی تاریخ کا بھی ایک سیاہ ترین باب رقم کیا گیا تھا… 1958ء میں اسی روز ہمارے پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان نے عہدہ صدارت پر بھی بزور طاقت قبضہ جما لیا تھا اور یوں اس دس سالہ عہد آمریت کا آغاز ہوا جس نے ارض پاکستان سے جمہوریت کی جڑیں کاٹ کر رکھ دینے میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دی… اسی مارشل لاء کی کوکھ سے بقیہ تین مارشل لاؤں نے جنم لیا… دوسرے کے دوران ملک ہمارا دو ٹکڑے ہو گیا… اور بھارتی جارحیت کے نتیجے میں مشرقی پاکستان نے بنگلہ دیش کا روپ دھار لیا… اس لحاط سے دیکھا جائے تو 27 اکتوبر 1947ء کا دن جہاں ہمارے کشمیری بھائیوں کے لیے ان کی قومی آزادی کو سلب کر کے رکھ دینے کا نقطۂ آغاز بنا، وہیں 27 اکتوبر 1958ء کا روز قائداعظمؒ کے نظریۂ مملکت سویلین بالادستی کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے ناپسندیدہ سفر کا سنگ میل ثابت ہوا… لہٰذا مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور اس کا ساتھ دینے والی جماعتوں نے اس روز اپنے کشمیری بھائیوں کی حرماں نصیبی اور خود اپنے امور ریاست پر غیر آئینی قوتوں کے ابھی تک پوری طرح ختم نہ ہونے والے غلبے کے خلاف نئی جدوجہد کا آغاز کیا ہے تو یہ دن اہل کشمیر کی آزادی کے ساتھ پاکستانی قوم کے لیے امور ریاست پر سول کی جگہ فوجی بالادستی کے قطعی خاتمے کے عزائم کی علامت کا درجہ بھی رکھتا ہے… مگر کیا مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام، نواز و شہباز کی مسلم لیگ (ن) اور آصف و بلاول بھٹو زرداری کی پیپلزپارٹی سمیت ان کا ساتھ دینے والی دیگر جماعتیں آنے والے آزادی مارچ کے ذریعے اپنی منزل کو پا لیں گی یعنی وزیراعظم کا استعفیٰ اور اس کے معاً بعد شفاف و آزادانہ انتخابات ! … 2014ء کے تجربے نے بتا دیا تھا کہ اکیلا کوئی مارچ یا اگر وہ دھرنے میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے اور 126دن تک اپنے جھنڈے بھی گاڑے رکھتا ہے جمی جمائی حکومت کا تختہ نہیں اُلٹ سکتا… نہ وزیراعظم کو استعفے پر مجبور کر سکتا ہے… لیکن معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے… 2014ء میں یقینا ایسا نہ ہوا حالانکہ مقتدر قوتوں کی ہمدردیاں بھی دھرنے والوں کے ساتھ تھیں کیونکہ اس کی خاطر لاہور سے اسلام آباد تک جو مارچ نکالا گیا وہ پندرہ بیس ہزار آدمیوں سے زیادہ نہ تھا… ڈی چوک کے دھرنے میں بھی کم و بیش اتنے مرد و خواتین جمع ہو جاتے تھے… حکومت وقت پریشان ضرور تھی اس لیے کہ ریڈ لائن کراس ہوئی اور ٹی وی بلڈنگ اور پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے بھی ہوئے لیکن کہانی اس سے آگے کا سفر نہ طے کر سکی… مگر اس سے پہلے مارچ 2009ء کو بھی ایک لانگ مارچ ہوا تھا جسے ہم نے بھلا دیا ہے… یہ عدلیہ کی بحالی اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو ان کے مناصب پر واپس لا بٹھانے کے مطالبے کے حق میں اس وقت کے زعیم حزب اختلاف میاں محمد نواز شریف کا مارچ تھا… جس نے لاہور سے گوجرانوالہ تک پہنچتے پہنچتے اپنے جم غفیر کی وجہ سے ملک کی فضا بدل کر رکھ دی تھی اور خدشہ تھا اگر یہ کاررواں جی ٹی روڈ کے راستے پر مزید لوگوں کو لیتا ہوا اسلام آباد پہنچ گیا تو شہر اقتدار اتنی بڑی یلغار کا سامنا نہیں کر سکے گا… چنانچہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے خطرے کو بھانپتے ہوئے اس وقت کی وکلاء تحریک کے قائد بیرسٹر اعتزاز احسن کو ٹیلی فون کر کے بتا دیا کہ مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گے… لہٰذا اسلام آباد راولپنڈی والوں کی نیندیں خراب نہ کی جائیں… اس تناظر میں اگر 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کا ارادہ رکھنے والے، آزادی مارچ کی تعداد جیسا کہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے 15کے بجائے 3 یا 5 لاکھ بھی ہو گئی تو اسے سنبھالنا اسلام آباد اور راولپنڈی دونوں توام شہروں کے لیے آسان نہ ہو گا… ڈی چوک کے پاس یا دارالحکومت کے قرب و جوار میں غیر معمولی طور پر بڑا جلسہ عام بھی ہو گیا تو حکومت کے لیے اس کے فوری اثرات سے محفوظ رہنا چنداں آسان نہ ہو گا…

اس میں شک نہیں کہ حکومت بھی تمام تر دفاعی تیاریاں کیے بیٹھی ہو گی… اس کے پاس انتظامی اور ریاستی دونوں طرح کی طاقت ہے اور فرزند راولپنڈی شیخ رشید نے تو دبے الفاظ میں کسی بڑی حادثے کے امکان کی طرف اشارہ کر کے مارشل لاء سے ڈرانے کی کوشش بھی کی ہے… اس لیے اگر لاکھوں افراد دارالحکومت تک پہنچ بھی گیا اور اس نے ملکی تاریخ کے بڑے احتجاجی اجتماع کی شکل بھی اختیار کر لی تو حکومت ضرور ہل کر رہ جائے گی مگر مارچ کے جملہ قائدین کے لیے معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنا اور غیر معمولی نوعیت کے مظاہرے کے ذریعے اپنے اعلانیہ اہداف کو حاصل کرنا اتنا آسان نہ ہو گا… لہٰذا لوگ پوچھتے ہیں آزادی مارچ اگر نقطۂ عروج کو پہنچ گیا تو اس وقت اسٹبیلمشنٹ کس کا ساتھ دے رہی ہو گی… حکومت یا مارچ کی قیادت کرنے والی اپوزیشن کا یا صحیح معنوں میں غیر جانبدار ہوگی… اس کے بارے میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا… اس وقت مقتدر قوتوں کی ہمدردیاں حکومت کے ساتھ بتائی جاتی ہیں جو اپنے سر پرستوں پر تکیہ بھی کیے بیٹھی ہے… واقعہ یہ ہے اگر ہماری بالادست قوتیں کسی بھی حکومت اور اس کی اپوزیشن کے درمیان لڑائی کے دوران صحیح معنوں میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں تو یہ ملک آئین اور جمہوریت کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے، خواہ اس کا فوری فائدہ وقت کی حکومت کو فوری ملے یا مخالف سیاسی جماعتوں کو… ایسا چونکہ نہیں ہوتا، اس لیے کسی بھی حادثے کی توقع کی جا سکتی ہے… اگرچہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے شیخ رشید کے مارشل لاء والے ڈراوے کو مسترد کر دیا ہے… تاہم اپوزیشن کا جو اصل مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان مستعفی ہو جائیں … اس کے بعد از سر نو عام انتخابات کرائیں جائیں جو فی الواقعہ شفاف اور آزاد ہوں… اس مقام پر پہنچنے کے لیے بھی اپوزیشن جماعتوں کو باہمی اتحاد، اعلیٰ درجے کی فہم و فراست اور غیر معمولی تدبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا ہو گا… ماضی کے تلخ تجربوں کو پیش نظر رکھ کر آگے بڑھنا ہو گا اور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا تا کہ ماضی کی طرح ان کی پکائی ہوئی دیگ پر اپنا مصالحہ چھڑک کر کوئی تیسری قوت اسے اچک کر نہ لے جائے…

یہ گھڑی محشر کی ہے

تو عرصۂ محشر میں ہے


ای پیپر