خود آستیں میں پالے ہیں
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

دشمن شہ رگ دبوچے ہماری سالمیت پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ بات صرف اتنی نہیں کہ مسلسل بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے ہمارے سرحدی دیہات غیر محفوظ ہو چکے ہیں ۔ دو سال میں 1970 مرتبہ یہ حملے ہوئے۔ دوسری جانب کشمیر ڈھائی ماہ سے کرفیو اور ہمہ نوع پابندیوں کی زد میں ہے۔ سری نگر میں بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے خواتین پر امن مظاہرین پر بھارتی فوج نے دھاوا بول دیا۔ آنسو گیس، تشدد، خواتین بے ہوش ہوئیں۔ درجنوں گرفتار کر لی گئیں۔ نوجوان جیلوں میں بد ترین تشدد کی زد میں ہیں ۔ زندگی مفلوج، تجارتی سرگرمیاں، دفاتر، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ بند۔ دنیا مہر بلب۔ مودی پوری ڈھٹائی سے ہمیں کشمیر پر غاصبانہ تسلط کے اگلے قدم کی دھمکی دے رہا ہے۔ ’پاکستان کی طرف بہنے والے دریائوں پر ہمارا حق ہے۔ پانی روک کر رہوں گا۔ ایک ایک قطرہ ہم استعمال کریں گے‘۔ کشمیری بھائیوں کے لیے ، سرحدی خلاف ورزیوں اور پانی پر قبضے جیسے عزائم کے ضمن میں ہم کیا کر رہے ہیں ۔؟ کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں ! ملک بھر میں گزشتہ پانچ دن ہمارے آقائوں کے بچے آئے ہوئے تھے۔ وہی برطانوی آقا جو کشمیر کی موجودہ حیثیت اور مسائل کے ذمہ دار ہیں ۔ برطانوی حکومت نے مودی اقدامات پر مذمت تو کجا تشویش تک کا اظہار نہ کیا۔ شاہی جوڑا آ رہا تھا تو ہم سمجھے شاید اب یہ ہمارا درد بانٹنے آئے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پر جا کر بیٹھیں گے۔ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اظہار یک جہتی ہو گا۔ ہمارے وزیر اعظم سے ان کا سابقہ سسرالی اور دوستی کا رشتہ ہے۔ ان کے بچے، نیز 15 لاکھ کشمیری اور پاکستانی آبادی ان کی رعیت میں شامل ہے۔ اس دکھ میں شراکت تو بنتی تھی۔ سرحد پر جاری خوں رنگ آتش بازی دیکھی ہوتی۔ کشمیری جس بلا میں گرفتار ہیں اس پر تصویری نمائش ، سیمینار ہوا کرتے ہیں ۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ دورہ برائے کشمیر ہے۔ یوں بھی برطانیہ خود بھی بریگزٹ میں پھنسا کسی جشن منانے کی کیفیت کا متحمل کہاں ہو سکتا تھا۔ لیکن مجھے پیدا کیا اس دیس میں تو نے، جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند۔ سو فدویوں کی خوئے غلامی کا ایک اندوہناک ایکس رے ان دنوں سامنے آیا۔ یہ تو ٹیکسوں ، بجلی گیس ، مہنگائی، شاپنگ بیگ کی جدائی چوریوں ڈکیتیوں کراچی کے کچرے اور آوارہ کتوں سے بلبلائے عوام کے آنسو پونچھنے کو حکومت نے ولایت سے رنگین جھنجھنا منگوایا تھا ۔ دن رات بجا کر ، سوشل میڈیا پر پوری قوم کو ملکی افراتفریوں اور کشمیر کی گھمبیرتا بھلانے کا سامان تھا۔ سویہ غنیمت ہے کہ کشمیری ابلاغی ناکہ بندی کی بنا پر نہایت رنگین کھلکھلاتے دنوں میں غرق اپنے پاکستانی بھائیوں کو نہ دیکھ پائے ہوں گے۔ ورنہ ان کے زخموں میں نمک بھر جاتا۔ خیر ہمیں مثبت رہنا چاہیے۔ سو نمک کے فوائد بیان کیے دیتے ہیں ۔ تاکہ منفیت کا طعنہ ہمارے حصے نہ آئے۔ آپ بھی گوگل سے پوچھ دیکھئے۔ نمک ( خصوصاً کھیوڑہ کا گلابی ہمالیائی نمک ) دوران خون بڑھاتا ہے۔ خلیوں کی مرمت کا کام کرتا ہے۔ جلد کو ملائم کرتا، اس کے سمّیات دور کرتا اور بحالی میں مدد دیتا ہے ۔ زخموں کو نمک ملے پانی سے دھونا مفید ہوتا ہے ۔ اگر مگر مچھ کے آنسو بھی نہ میسر ہوں تو اسی پانی کے چند قطرے ساون بھادوں رلا سکتے ہیں جن سے ہم اپنی محبت اور غم میں شراکت کی یقین دہانی کروا سکتے ہیں ۔ آخر ہم ہر جمعے اظہار یک جہتی بھی کرتے ہیں اور کشمیر پر کڑک دار بیان بھی جاری کرتے رہتے ہیں ۔ چند دن ٹینشن دور کرنے کو اگر قوم شاہی جوڑے کے جوڑے ہی دن بھر اخباروں، سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہی تو مارجن دیں اسے۔ برطانوی میڈیا نے کہا تھا اس سے پاکستان کی ساکھ بحال ہو گی ۔ سو پوری قوم ساکھ بحال کر رہی تھی۔اس ضمن میں شاہی جوڑے کے ملبوسات کی مفصل رپورٹیں لمحہ بہ لمحہ آتی رہیں۔ انگریزی معاصر اخبار کے مطابق فخر انگیز حب الوطنی کی لہریں دوڑتی رہیں کہ ان کے لباس تیار کرنے کا اعزاز پاکستانی ڈیزائینرز کو حاصل ہوا۔ یہ غم ضرور تھا کہ ’ المیہ یہ ہے کہ ’اخلاقی بریگیڈ‘ کو دو پٹے کی پڑی ہوئی تھی‘۔ اس خبط کی بنا پر شہزادی کو دوپٹہ اوڑھنا پڑا ! آزاد قوموں کے آزاد شہری غیور ہوا کرتے ہیں ۔ اپنے حقوق کی سودا گری پر کمر بستہ نہیں رہتے۔ اس کی متقابل مثال ملاحظہ فرمائیے۔ ایک امریکی سفارتکار کی بیوی این سکولاز نے برطانیہ میں اپنی گاڑی کی ٹکر سے برطانوی لڑکا ہیری ڈن حادثتاً مار دیا۔ اور سفارتی تحفظ کی آر میں امریکہ چلی گئی۔ اس پر برطانوی وزیر اعظم نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سکولاز کو واپس برطانیہ بھیجے تاکہ وہ قانون کا سامنا کرے۔ مسئلہ حل کرنے کے لیے لڑکے کے والدین کو وائٹ ہائوس کی دعوت پر امریکہ لایا گیا ۔ ٹرمپ کے دفتر میں لیجا یا گیا کہ اس پر بات چیت ہو۔ ٹرمپ کے سکیورٹی مشیر نے والدین کو وہاں سکولاز کی موجودگی کا بتا کر ملاقات کروا کر معاملہ رفع دفع کرنا چاہا۔ برطانوی جوڑا سیخ پا ہو کر انکاری ہو گیا۔ کہ کیا تم میڈیا کے سامنے ہمیں گلے ملوا کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑ کو گے ؟ یہاں نہیں ہم سکولاز کے برطانیہ میں آ کر پولیس کے آگے پیش ہونے کا مطالبہ رکھتے ہیں ۔ اپنے بیٹے کے خون پر امریکہ جیسے دوست، مائی باپ ملک کے صدر کے دفتر میں سودا گری پر راضی نہیں۔ یہاں ریمنڈ ڈیوس ( جو سی آئی اے کا ادنیٰ اہلکار تھا) کے ہاتھوں قتل اور اس پر پاکستان کا شرمناک فدویانہ رویہ یاد کر لیجیے۔ زندہ، آزاد، غیور قوموں کی خوبو ہمارے کشکول کے ہاتھوں تلف ہو گئی۔ ’نوکر کہیہ تے نخرہ کہیہ‘ ہمارا شعار ہے۔ قوم سارا وقت وزیروں کی ڈانٹ ڈپٹ، لارے لپے یا بہلائوں کی زد میں رہتی ہے ۔ فواد چوہدری تو عوام کی عزتِ نفس سے کھیلنے میں طاق ہیں ۔ فرماتے ہیں : 400 ادارے ختم کر رہے ہیں ۔ عوام نوکریاں نہ مانگیں۔ نوکریاں دیں گے تو معیشت بیٹھ جائے گی ۔ ( عوام بھو کے مریں گے تو معیشت مضبوط ہو جائے گی ؟)نیز فرمایا۔ ’ سرکاری نوکریوں کا سوچنے والے نو جوان بے وقوف اور آرام طلب ہیں ‘۔ بالفاظِ دیگر سرکاری ملازم بے وقوف اور آرام طلب ہوتے ہیں ؟ اور سرکاری وزیر۔؟ بے وقوفوں کے سردار؟ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ تو آپ ہی نے فرمایا تھا ! اب وزیر موصوف کہہ رہے ہیں : لوگ نجی سیکٹر کی طرف دیکھیں۔ جس کی تفصیل جہانگیر ترین نے دی ہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جن کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ کہتے ہیں : ’ لوگ گھر گھر مرغی اور چوزے پال لیں تو ملکی معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔ روزگار بھی بڑھے گا۔ کے پی کے مختلف علاقوں میں گھریلو مرغبانی کے منصوبے شروع کر رہے ہیں ۔ ابھی ہمارے پاس 4 سال موجود ہیں ۔‘ (اتنے عرصے میں مرغیوں کی ریل پیل ہو جائے گی ۔ عوام بھی موصوف کی طرح نجی طیاروں کے مالک بن جائیں گے!) چوزے بڑے ہونے تک عوام حکومتی لنگروں شیلٹروں سے استفادہ کریں۔ شور نہ مچائیں۔ ریلیاں دھرنے پلان کر کے ہمارا تراہ نہ نکالیں ! ہمارا صرف معاشی نہیں اخلاقی دیوالیہ بھی پٹ چکا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ اداروں میں ( بلوچستان یونیورسٹی کے ) اعلیٰ اہلکار قوم کو ترقی کی منزلیں سر کرواتے کن شرمناکیوں میں ملوث پائے گئے ہیں ؟ خفیہ کیمروں کی مدد سے نا گفتہ بہ وڈیوز طالبات کی بنا کر بلیک میلنگ سکینڈل۔ یہ روشن خیالی کے زہریلے انڈے بچے ہیں جو چہار جانب طوفان بد تمیزی برپا کیے ہوئے ہیں ۔ سیکولر، لبرل معاشرہ بناتے، اسلامی اقدار و نظریۂ پاکستان کا قلع قمع کرتے تعلیمی اداروں میں نسلوں کی تباہی کے سامان جابجا سامنے آ رہے ہیں ۔ چلیئے یہ کم از کم دہشت گرد اور انتہا پسند تو نہیں ہیں ! سیکولر لبرل فاشزم کی فتوحات ہیں یہ ساری۔ جب آزادیٔ کشمیر کا چیلنج ہمارے سر پر کھڑا ہے تو دور دور ملک و ملت کے لیے ، ظلم وحشت جبر کی چکی میں پستی عورتوں، بچوں کے لیے شجاعت عزیمت غیرت کے پیکر نوجوانوں کی جگہ نچیئے گویئے ریوڑ تیار ہیں ۔ نہ خنجراٹھے گا نہ تلوار ان سے … یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں ! یہ گٹار اٹھائیں گے، لہرائیں گے ناچیں گے۔ فیشن ریمپ پر اٹھلائیں گے۔ بھاری امتحان سر پر کھڑے ہیں ۔ اللہ کو تو دیکھنا ہے چھانٹنا ہے، حق و باطل کی صفوف میں کون اپنی جگہ کہاں بنانا چاہتا ہے ۔ ! وہ دن تو احادیث کے مطابق آنا ہے جب حق کے خیمے میں ایمان کے سوا کچھ نہ ہو گا اور باطل کے خیمے میں کفرو نفاق کے سوا کچھ نہیں۔ مشرق و سطیٰ میں اسی تیاری پر دجل کمر بستہ ہے۔ امریکہ ، سعودی عرب مزید لدی پھندی امریکی فوج، آرامکو پر حملے کی آڑ میں داخل کر رہا ہے۔ ’ سعودی عرب ہمارا بہت اچھا اتحادی ہے وہ ہم سے اربوں ڈالر کے مال و اسباب خریدتے ہیں ۔ بلکہ لاکھوں ملازمتین بھی ( امریکی) حاصل کرتے ہیں ‘۔ ٹرمپ کی یہ خوشی ملاحظہ ہو! ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو۔ شام، ترکی کے حالات، افغانستان میں بے دریغ کا رپٹ بمباریاں۔ کفر ملتِ واحد ۃ بنا امت اجاڑ رہا ہے۔

خوددامنوں میں بھرتے رہے ہیں ہم شرار

خود آستیں میں پالے ہیں سرخ و سفید مار


ای پیپر