انصاف کی متلاشی پولیس!
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

ہر آنے والی حکومت پورے جوش و جذبے کے ساتھ پولیس کے پوسٹ مارٹم کی باتیں کرتی ہے ذلیل کرتی ہے یہاں تک کہ کوئی شریف انسان محکمے میں رہنا ہی نہیں چاہتا بعد ازاں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اپوزیشن جماعتوں پر استمال کرتی ہے مگر اسکا کریڈٹ پولس کو نہیں ملتا اب تو ویسے ہی سٹیٹس سمبل کے طور پر محکمہ پولیس کے خلاف حسب توفیق حصہ کسی نہ کسی طرح ڈالا جاتا ہے وہ بھی اسی ملک کے شہری ہیں انکے بھی خاندان ہیں انکی عزت نفس بھی کوئی چیز ہے ایک دور تھا کہ انگریز حکمران نے ایس ڈی پی او تک انگریز افسر رکھے تھے جبکہ فیلڈ کے لئے ایشینز کو نوکریاں دی ہوئی تھیں عوام سے گھتم گتھا وہ ہوتے برا بھلا وہ فیس کرتے جبکہ گورے پرتعیش دفاتر میں بیٹھ کر صرف حکم چلاتے تاکہ یہ آپس میں ہی الجھتے رہیں۔ حالات اب بھی وہی ہیں جس نے سی ایس ایس کوالیفائی کر لیا وہ تو گورے کا فالور بن گیا اور گوروں سے زیادہ پر تعیش لگثری لائف اپنا کر فیلڈ سٹاف کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے لگے اور شکائیت کی صورت میں انتہائی سخت سزائیں دیتے ہیں ڈی ایس پی سے سپاہی تک پولیس کی نوکری گالی بن چکی جبکہ اے ایس پی سے آئی جی تک معزز شمار ہوتے ہیں ۔جناب وزیراعظم عمران خان صاحب پولیس کلچر تبدیلی کے نام پہ عوام کو بے وقوف بنانا بند کریں اگر کچھ کرنا ہے تو تھانوں کی گاڑیوں کو فیول دو، تھانیدار اپنی جیب سے فیول ڈلواتا ہے، اگر تم 10 لیٹر روزانہ دے کر کہو کہ 2300 cc گاڑی 24 گھنٹے دوڑاؤ تو کسی دن یہ کامیاب تجربہ کر کے ہمیں عملی نمونہ تو دوشراب یا چرس پکڑ کر پرچہ دے دیا تو سمجھو ہو گیا تھانیدار پہ پرچہ، کیونکہ دوسرے دن ہی جانا ہو گا فورینزک لیب لاہور، کرایہ، خرچہ سب تھانیدار کی جیب سے، عمران خان صاحب آؤ تو سہی ایک دن ہمارے ساتھ تھانے میں بطور تھانیدار، آپ کو پتہ چلے کہ مسئلہ وردی ہے یا جیب سے ہونے والے اخراجات،گاڑیوں کی مرمت تھانیدار کی جیب سے کروانا بند کرو تفتیش کے اخراجات تفتیشی افسر کے بنک اکاؤنٹ میں FIR درج ہوتے ہی منتقل کرو، پاکستان بھر میں وہ کون سے فرشتے ہیں جو تفتیشی افسر کے یہ پیسے کھا کر ایماندار کہلواتے ہیں اگر تفتیشی غلطی سے بھی ان پیسوں کی ڈیمانڈ کر لے تو ڈسمس یا پھر نوکری کرنا عذاب، تھانیدار کو سرکاری کام کروانے کیلئے جو کلرکوں ریڈروں اور عدالتی عملے کو پیسے دینے پڑتے ہیں ان کی روک تھام کرو، تمام ادارے تھانیدار کو کھاتے ہیں ، تھانیدار کو چالان پاس کرانے کیلئے پراسیکیوشن کے عملے کو پیسے دینے پڑتے ہیں، پراسیکیوٹر کی ذمہ داری نقائص نکالنے کی بجائے نقائص ٹھیک کرنا لگائی جائے۔

پراسیکیوٹر کو تو کبھی کالی بھیڑ نہیں کہا حالانکہ وہ 90 فیصد تھانیداروں سے سینہ تان کے پیسے لیتے ہیں۔تھانیدار ملزمان کو جیل میں بند کروانے کیلئے جیل لے کر جاتا ہے تو وہاں بھی پیسے دینا پڑتے ہیں، جیل حکام کو درست کر لو یا پھر جیل حکام کی رشوت کے پیسے بھی برائے مہربانی اپنے سرکاری خزانہ سے دو جیل حکام کو درست کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تھانیدار کی نہیں۔ دیگر محکموں کی طرح پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی ٹائمنگ اور چھٹی کیلئے کوئی حقیقی اور مستقل میکنزم بناؤ، ہم بھی انسان ہیں کوہلو میں چلنے والے بیل نہیں، اگر یہ آپ کچھ نہیں کر سکتے تو پلیز جتنی نوکری ہم نے کی ہے ہمیں ہمارا حساب دے دو کوئی گولڈن ہینڈ شیک دے دو ہم گھر چلے جاتے ہیں کیونکہ اب آپ ہمیں باعزت طریقہ سے گھر بھی جانے نہیں دیتے 25 سال کی سروس 50 سال میں پوری ہوتی ہے کیونکہ 25سال سروس کر کہ دیکھو تو پتہ چلتا 22 سال نور سے بنے ہوئے افسران نے کاٹ لیے ہیں،اب کرو اور 22 سال، پولیس کیا خاک انصاف دے جو خود انصاف کی تلاش میں ہے۔


ای پیپر