اپوزیشن کا احتجاج فواد چوہدری کے سنگ
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

اپوزیشن نے اسلام آباد میں آزادی مارچ اور جلسے کا اعلان کیا ہے۔ ان تقاریر میں دھرنے کا لفظ استعمال کرنے سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔

یہاں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ عمران خان نے 2014 میں تحریک کا آغاز آزادی مارچ سے کیا تھا۔ انتظامیہ سے ڈی چوک پر جلسہ کرنے اور پھر واپس جانے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن عمران خان ڈی چوک پہنچتے ہی مکر گئے اور مارچ دھرنے میں تبدیل ہو گیا۔ جس پر اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے میڈیا پر آ کر شکوہ کیا تھا۔لیکن ن لیگ کے حلقوں سے یہ آواز بھی آتی رہی کہ چوہدری نثار عمران خان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔

2016 میں جب عمران خان نے پانامہ لیکس کے مدعے پر لانگ مارچ اور دھرنا دینے کا اعلان کیا تو ن لیگ نے عمران خان کو اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی۔ بلکہ کنٹینر لگا کر پورا ملک بند کر دیا تھا۔ ن لیگ عمران خان کو دوبارہ اسلام آباد داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر عمران خان جلسے کے لیے دوبارہ اسلام آباد داخل ہو گئے تو انھیں نکالنا ناممکن ہو جائے گا۔ لہذا انھوں نے ایک ہی سوراخ سے دو بار ڈسے جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

تحریک انصاف اس ساری صورتحال سے آشنا ہے۔ دھرنا سپیشلسٹ ہونے کی بدولت وہ زمینی حقائق پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دھرنا دینا، اس پر قائم رہنا کس قدر مشکل عمل ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی لاعلم نہیں ہیں کہ دھرنا روکنے کا بہترین طریقہ کونسا ہے۔ بزرگ فرماتے تھے کہ بہترین پولیس والا وہ ہوتا ہے جو خود بھی چور رہا ہو۔ چور ہی بہتر بتا سکتا ہے کہ چوری کس طرح روکی جا سکتی ہے۔

تحریک انصاف کی باڈی لینگویج اور اعجاز شاہ صاحب کے بیانات حکومت کی پالیسی کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہو رے ہیں۔ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ حکومت اپوزیشن کو اسلام آباد میں داخل ہونے نہیں دے گی۔ اس کے لیے چاہے انھیں پورا ملک ہی بند کیوں نہ کرنا پڑے۔ گرفتاریاں، نظر بندیاں اور سرد موسم اپوزیشن کے دھرنے سے ہوا نکالنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ آنے والے دنوں میں ملک کے حالات کس نہج پر پہنچ سکتے ہیں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے لیکن مولانا جیسے زیرک اور منجھے ہوئے سیاستدان سے ایسی غلطیوں کی توقع نہیں کی جا رہی تھی جو عمران خان جیسے سیاست کے طالب علم نے 2014 میں کی تھیں۔ فی الوقت لانگ مارچ پلس دھرنا شطرنج کے کھیل کی مانند ہے۔ دور تک سوچنے والا ہی شہ اور مات کا فیصلہ کرے گا اور وقتی فائدہ اٹھانے والا پیادے کے ہاتھوں مارا جائے گا۔

جہاں ایک طرف اپوزیشن حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے جذبے سے سرشار ہے، عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے باعث اپوزیشن کے احتجاج میں شرکت کی خواہاں ہے وہاں فواد چوہدری صاحب کا نوکریوں کے لیے حکومت کی طرف نہ دیکھنے اور چار سو اداروں کو بند کرنے کا بیان جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔

باپ کو ماں کا کھسم کہہ کر پکارا جائے تو مطلب نہیں بدلتا لیکن پکارنے والا بدتمیز اور بد تہذیب ٹھہرایا جاتا ہے۔ دراصل فرق الفاظ کے چناؤ اور جملوں کی ترتیب کا ہے۔ فواد چوہدری کا ملازمتوں کے لیے سرکاری نوکریوں کی طرف نہ دیکھنے کا بیان درست ہے لیکن غلط انداز بیان اور جملوں کی غلط ترتیب انھیں تنقید کی زد میں لے آئے ہیں۔

بیان کچھ اس طرح سے بھی دیا جا سکتا تھا کہ حکومت پرائیویٹ نوکریاں دینے کے لیے ماحول پیدا کر رہی ہے۔ انشاللہ بہت جلد نوکریوں کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو جائے گا۔ سرکاری نوکریوں اور چار سو ادارے بند کرنے کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن انسان پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا فیصلہ کر لے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ فواد چوہدری اور حکومتی عہدیداروں کا یہ جواز انتہائی غیر مناسب ہے کہ فواد چوہدری کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ جناب جب آپ کو معلوم ہے کہ میڈیا بات کی کھال کھینچ لیتا ہے تو اس طرح کے ارشادات کر کے ارسطو بننے کی کیا ضرورت ہے۔

فواد چوہدری میڈیا پر چھائے رہنے کے خبط میں بھی مبتلا ہیں۔ وہ جب وزیر اطلاعات تھے تب بھی میڈیا کا بلاوجہ اور ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتے تھے۔ اب بھی جس دن میڈیا پر آجائیں تحریک انصاف کی حکومت کے لیے نئے محاذ کھول جاتے ہیں۔ فواد چوہدری صاحب شاید نہیں جانتے کہ سرکار کو کامیابی سے چلانے کے لیے میڈیا پر آنا بہتر ہے لیکن میڈیا سے دور رہنا بہترین ہے۔ نہ جانے دل میں کیوں یہ خیال وسوسے ڈال رہا ہے کہ اپوزیشن کا احتجاج کہیں فواد چوہدری کے سنگ تو نہیں ہے۔


ای پیپر