خلع۔یات
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

دوستو، ایک تازہ خبر کے مطابق فیملی عدالتوں میں خواتین کے جلد فیصلہ حاصل کرنے کے لئے خلع کی بنیاد پر طلاق کے دعویٰ جات دائر کرنے کی شرح میں اضافہ ہونے لگا، صرف لاہور میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے کیسوں کی تعداد زیادہ ہونے پر فیملی عدالتوں کی تعداد 15کر دی۔سول کورٹ میں فیملی کی پندرہ عدالتیں کام کررہی ہیں، جہاں پرخواتین کی طرف سے خلع کی بنیادپرطلاق کے دعوے دائر کرنے کی شرح میں ریکارڈاضافہ ہوگیاہے،ایک روزمیں تقریبا6سے 10دعوے دائر کئے جارہے ہیں،ان دعویٰ جات میں خواتین کاموقف ہے کہ خاوندتوجہ نہیں دیتے،خرچا مانگو توتشددکرتے ہیں وغیرہ۔ دوسری جانب فیملی عدالتوں سے ایک ہفتے میں 20خواتین کوطلاق کی ڈگریاں جاری کی گئی ہیں،حق مہر،جہیزواپسی کے دعووں کی تعدادزیادہ ہونے پر سیشن جج لاہورنے گارڈین کی 5عدالتوں کوبھی فیملی عدالت کا درجہ دے دیا،قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت سے طلاق لے کرخاتون کایونین کونسل جانالازمی ہے،جہاں سے 3ماہ بعدطلاق موثرہوتی ہے، خلع میں خاتون کو اداشدہ حق مہرچھوڑنالازمی ہے۔

طلاق کو اسلام نے جائز کیوں رکھا ہے اس پر بات تو علمائے کرام اور مفتیان دین ہی کرسکتے ہیں لیکن پہلے ہم ذرا اپنے گریبان میں جھانک لیں کہ دورِحاضر کے لکھے پڑھے مسلمانوں میں اس کی شرح انتہائی تیزی کے ساتھ پہلے کے مقابلے میں بڑھ کیوں رہی ہے اور یہ مسئلہ مسلم سوسائٹی کے دائرے سے باہر نکل کر ٹیلی ویڑن سے لیکر عدالت اور پارلیمنٹ تک کیوں پہنچ رہا ہے ؟ہمارا اجتماعی قصور یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کی تربیت سے غافل ہو چکے ہیں۔ہم انہیں دوسروں کی نقالی میں صرف پیسہ کمانے والی مشینیں بنا رہے ہیں ۔۔بچے جب لڑکپن میں بھی قدم رکھتے ہیں تو ہم انہیں حلال و حرام ،حق و ناحق اور جائز و ناجائز سے بے خبر رکھتے ہیں۔جب یہ شادی کی عمر میں پہنچ جاتے ہیں تو انھیں یہ تک نہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اصول و ضوابط اور واجبات و سنن کیا ہیں ؟۔۔

میاں بیوی طلاق کے لئے عدالت جاتے ہیں، جج پوچھتا ہے کہ تم لوگوں کے تین بچے ہیں، انہیں کیسے تقسیم کروگے؟ میاں بیوی کو سوچ بچار کا وقت دیاجاتا ہے، دونوں کمرہ عدالت کے کونے میں سرجوڑ کر صلاح مشورے میں لگ جاتے ہیں ،کافی دیر بحث و مباحثے کے بعد اس فیصلے پر اتفاق پاجاتا ہے کہ وہ اگلے سال طلاق کے لئے آئیں گے ،ساتھ میں ایک اور بچے کے ساتھ۔۔۔ٹھہریئے، بات ابھی ختم نہیں ہوئی، ایک سال بعد ان کے ہاں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔۔ایک شخص کی بیوی کو علم ہوا کہ اس کا شوہر دوسری شادی کا اردہ رکھتا ہے چنانچہ اس نے ایک دن بڑے اہتمام سے عشائیہ تیار کیا اور چار انڈے ابال کر ہر ایک کو الگ الگ رنگ سے رنگا اور شوہر کو پیش کردیا۔۔شوہر نے پہلے حیرانی سے رنگ برنگے انڈوں کو اور پھر استفہامیہ نظروں سے بیوی کی جانب دیکھا۔۔ بیوی نے کہا آپ کھائیں اور پھر بتائیں کہ آپ کو یہ رنگ برنگے انڈے کیسے لگے۔۔شوہر نے تین انڈے کھائے اور تعجب سے بولا کہ ان میں تو کوئی فرق نہیں سب کا یکساں ذائقہ ہے۔۔ رنگوں کا کیا فائدہ ؟؟بیوی چالاک لومڑی کی مانند مسکرائی اور گویا ہوئی ۔۔سرتاج! عورتیں بھی سب ایک جیسی ہی ہوتی ہیں بس رنگوں کا فرق ہوتا ہے۔۔شوہر بھی ڈیڑھ ہوشیار تھا،اس نے چوتھا انڈہ منہ میں ٹھونسااطمینان سے نگل کر ڈکار لی اور بولا۔۔ہاں سچ کہتی ہو رنگوں کا ہی فرق ہوتا ہے،لیکن کیا کریں کمبخت جب تک چاروں انڈے کھا نہ لیے جائیں پیٹ نہیں بھرتا۔۔۔

استاد نے اسٹوڈنٹ سے پوچھا کہ ناکام عشق اور مکمل عشق میں کیا فرق ہوتا ہے؟اسٹوڈنٹ نے جواب دیا۔۔ناکام عشق بہترین شاعری کرتا ہے، غزلیں اور گیت گاتا ہے، پہاڑوں میں گھومتا ہے۔ عمدہ تحاریر لکھتا ہے۔ دل میں اتر جانے والی موسیقی ترتیب دیتا ہے۔ ہمیشہ امر ہوجانے والی مصوری کرتا ہے۔ مکمّل عشق سبزی لاتا ہے، آفس سے واپس آتے ہوئے آلو، گوشت، انڈے وغیرہ لاتا ہے۔ لان کی سیل کے دوران بچوں کو سنبھالتا ہے۔ پیمپر خرید کر لاتا ہے۔ تیز بارش میں گھر سے نہاری لینے کے لیے نکلتا ہے۔ سسرال میں نظریں جھکا کر بیٹھتا ہے۔ ماں بہنوں سے زن مریدی کے طعنے سنتا۔ اور پھر گھر آ کر یہ بھی سنتا ہے کہ آپ کتنے بدل گئے ہیں۔ شادی سے پہلے کتنے اچھے تھے۔۔۔ایک روز رات کو بیٹھک لگی تھی اچانک ہم نے باباجی سے سوال کرلیا۔۔باباجی یہ بتائیں انسان بوڑھا کب کہلاتا ہے؟؟ باباجی نے ترچھی نظروں سے ہمیں دیکھا، کرتے کی فرنٹ پاکٹ سے ایک ٹوتھ پک نکالی، اس سے دانتوں میں پھنسی چھالیہ کونکالا،چھالیہ شاید کچھ موٹی تھی اور کافی ٹائم سے باباجی کے دانتوں میں پھنسی ہوئی تھی اس لئے انہوں نے اسے دوبارہ’’ مشق چپائی ‘‘ سے گریز کیا اور اسے زبان کی نوک پر لاکر زوردار انداز میں ۔۔پھووووووووو کیا، جس سے چھالیہ باباجی کے منہ سے نکل کر ڈرائنگ روم میں بچھے بھورے قالین میں کہیں رچ بس گئی، باباجی نے ٹوتھ پک پھر کرتے کی فرنٹ پاکٹ میں رکھی اور کہنے لگے۔۔انسان بوڑھا جب کہلاتا ہے جب بیوی کہے،میری سہیلی کو گھر چھوڑ آئیں، رات بہت ہوگئی ہے۔۔

روایت ہے کہ ارسطو، سکندراعظم کو عورتوں کی صحبت سے بچنے کی تعلیم و نصیحت کیا کرتا تھا جس کی وجہ سے حرم کی خواتین بہت تنگ تھیں۔ انہوں نے مل کر ایک منصوبہ بنایا اور ایک خوبصورت، شریر و الہڑ کنیز کو ارسطو کی خدمت میں دے دیا۔ کنیز نے اسے اپنی عشوہ طرازی کے جال میں پھانس کر ایک دن فرمائش کر دی کہ ارسطو گھوڑا بنے اور وہ اس پر سواری کرے گی۔ جب مذکور واقع، وقوع پذیر ہو رہا تھا ،ٹھیک اسی وقت خواتین حرم، سکندر سمیت کمرے میں داخل ہوئیں۔سکندر نے جب استاد کو ایک کنیز کے لیے "فرس فرشی" بنا دیکھا تو تعجب سے پوچھا۔۔اے استاد، یہ کیا استادی؟ ہمیں منع کرتے ہیں اور خود یہ۔۔۔۔ارسطو جو نہایت کائیاں تھا، کھڑا ہوا اور بولا۔۔۔عزیز شاگرد، اس عمل کا مقصود بھی تمھاری تربیت ہے، خود سوچو جو عورت تمھارے استاد کو گھوڑا بنا سکتی ہے، تمھیں تو وہ گدھا بنا کر رکھ دے گی۔۔ایک خاتون خانہ کسی ماہر نفسیات کے پاس مشورے کی غرض سے گئی اور کہنے لگی۔۔میں عاقل،بالغ،خودمختار اور معاشی طور پر مضبوط ہوں،مجھے خاوند کی ضرورت نہیں،لیکن میرے والدین بضد ہیں کہ میری شادی کریں، مشورہ دیں کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیئے۔۔ماہرنفسیات نے تسلی سے خاتون کی پوری بات سنی پھر کہنے لگا۔۔بے شک تم نے اپنی زندگی میں کافی کامیابیاں حاصل کرلیں۔۔ مگر سنو کبھی بے وجہ لڑنے کا دل کرے، کسی کو خوامخواہ ذلیل کرنا ہو یا کبھی غیر ارادی طور پر کچھ خامیاں یا ناکامیاں رہ جاتی ہیں۔۔ یا کسی غلطی سے کچھ غلط ہو جاتا ہے ۔۔ تو کیا تم وہ غلطی قبول کرو گی؟؟عورت نے برجستہ کہا۔۔نہیں بالکل بھی نہیں۔۔ ماہر نفسیات بولا۔۔بس، اسی لئے تمہیں خاوند کی ضرورت ہے، تاکہ ناکامیاں اور غلطیاں سب اس کے سرتھوپ سکو۔۔خاتون نے فوری شادی کے لئے ہاں کردی، آخر پڑھی لکھی تھی ناں۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔کرکٹ سکھانے والے کی تنخواہ بتیس لاکھ روپے اور جو قرآن پاک سکھاتا ہے اس کی تنخواہ صرف دس ہزار روپے۔ایسی قوم پر زوال نہیں آئے گا تو پھر کیا آئے گا۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر