پنجاب کے محکمہ صحت کی تباہی!
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

میں نے گزشتہ کالم میں نظام صحت کی زبوں حالی پر بات کی تھی، شہباز شریف کے دور میں پنجاب میں محکمہ صحت جتنا فعال تھا اب اُتنا ہی غیر فعال ہے، میں آپ کو ایک دلخراش واقعہ سناتا ہوں، چار ماہ قبل دو ماہ کے لیے میں نے یورپ، برطانیہ اور امریکہ جانا تھا۔ جس روز میری فلائٹ تھی، میں کچھ میڈیسن لینے سروسز ہسپتال لاہور کے بالمقابل ایک بڑے میڈیکل سٹور پر گیا، کاﺅنٹر پر موجود شخص میرے نسخے کے مطابق میری دوائیاں اکٹھی کررہا تھا، اس دوران چودہ پندرہ سال کا ایک بچہ میرے ساتھ آکر کھڑا ہوگیا، اُس نے کاﺅنٹر پر کھڑے دوسرے شخص (سیلز مین) کو سروسز ہسپتال کی ایک سلپ دی جس پرکچھ میڈیسن وغیرہ لکھی تھیں، سیلز مین وہ دوائیاں نکالنے لگا بچے نے اُس سے کہا ”انکل پہلے مجھے ان دوائیوں کے پیسے بتادیں .... سیلز مین نے حساب لگاکر اُسے بتایا اس کا بل تقریباً تیرہ ہزار سات سو روپے بنے گا .... بچے کا رنگ یکدم فق ہوگیا ، وہ بڑی معصومیت سے کہنے لگا ”انکل کچھ رعایت نہیں ہوسکتی؟“....سیلز مین بولا ”دوائیوں میں کوئی رعایت نہیں ہوتی” یہ کہہ کر نسخہ اُس نے بچے کے ہاتھ میں تھما دیا، بچہ میڈیکل سٹور سے باہر نکلنے لگا میں نے اُسے آواز دی، میں نے اُس سے پوچھا یہ دوائیاں آپ کو کس مقصد کے لیے چاہئیں ؟“....وہ بولا میرے ابوجی سامنے سروسز ہسپتال میں داخل ہیں، اُن کے پیٹ کا کوئی مسئلہ ہے، اُنہیں پیشاب بھی نہیں آرہا ، ہم بہت پریشان ہیں، ڈاکٹرز کہتے ہیں فوری آپریشن کرنا پڑے گا، اگر آپ آپریشن کا یہ سامان اور دوائیں وغیرہ لے آئیں گے، ہم صبح ہی آپریشن کردیں گے ورنہ آپریشن نہیں ہوگا اور آپ کے ابوجی کی جان بھی جاسکتی ہے“....اُس کے بعد بچے نے رونا شروع کردیا، میں نے اُس سے پوچھا” اچھا بیٹا یہ بتاﺅ آپ کے پاس پیسے کتنے ہیں ؟“ اُس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور سارے پیسے نکال کر مجھے تھمادیئے .... میں نے گنے تو یہ چارسوروپے تھے،....میرے دل میں ایسے ہی اُس وقت بُرا سا اک خیال آگیا کہیں یہ روایتی فراڈ یا نہ ہو، میں نے اس سے کہا ”آپ مجھے اپنے ابو سے ملوا سکتے ہیں ؟“،وہ مجھے اُن کے پاس لے گیا، ایک بیڈ پر اُس کے ابو لیٹے تھے، اُس کی امی اور چھوٹی بہن پاس بیٹھے تھے، اُس کے والد کو پیشاب کی نالی لگی ہوئی تھی، اُس کے چہرے کے تاثرات بتارہے تھے وہ سخت تکلیف میں ہے، میں نے وارڈ میں موجود ڈاکٹر سے پوچھا ” سرکاری ہسپتال میں تو مستحق مریضوں کا علاج اور آپریشن وغیرہ فری ہوتے تھے، پھر آپ یہ سامان ان سے کیوں منگوارہے ہیں ؟۔ اُس نے جواب دیا ” سر پچھلے چار پانچ ماہ سے ایک ڈسپرین بھی کسی کو فری دینے کے لیے نہیں ہے، جس مریض کے عزیزواقارب دوائیاں اور آپریشن کے لیے سامان وغیر ہ لے آتے ہیں اس کا آپریشن اور علاج وغیرہ ہو جاتا ہے، باقی اِسی طرح بے یارومددگار پڑے رہتے ہیں “....اس ڈاکٹر کی بات سن کر میرا جی بھر آیا ، جی کیا آنکھیں بھی بھرآئیں ، یقین کریں اس وقت میرا جی چاہا میں اپنا امریکہ، برطانیہ، اور یورپ کا دورہ کینسل کرکے اس میڈیکل سٹورکے کاﺅنٹر پر کھڑے ہو جاﺅں اور ہراُس شخص کی خدمت کروں جو مستحق ہے، میں نے زندگی میں کبھی کسی کو بددعا نہیں دی، اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی ہمیشہ اچھا سوچا۔

اُس روز مگر صبرکا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا، میں نے اُن موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کو جی بھر کر بددعائیں دیں جنہیں چھینک بھی آئے تو علاج کے لیے یورپ، امریکہ اور برطانیہ کے بہترین ہسپتالوں میں چلے جاتے ہیں اور غریبوں کے علاج معالجے کے لیے کچھ سوچنا اپنی توہین یا بدترین گناہ سمجھتے ہیں، .... میں سمجھتا ہوں وزیراعظم عمران خان کی ساری کوتاہیاں، غلطیاں اور بداخلاقیاں شاید معاف ہو جائیں مگر اُن کا یہ جرم یا گناہ کسی صورت معاف نہیں ہوگا ایک نکمّے ترین شخص کو اُنہوں نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ بنادیا۔ اُس کی وجہ سے پنجاب کے عوام خصوصاً غریب عوام کو جن اذیتوں اور تکلیفوں سے گزرنا پڑ رہا ہے اُس

کی مثال نہیں ملتی، .... میرا بس چلے میں پی ٹی آئی کی وفاقی وزیر زرتاج گل کو ایوارڈ دوں، بلکہ اپنی جان اُن پر نچھاور کردوں جنہوں نے اگلے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ”بادشاہ سلامت“ کی ناراضی کی پروا کئے بغیر اُن کے ”وسیم اکرم پلس “ کی نااہلیوں پر کھل کر تنقید کی جس کے جواب میں ”بادشاہ سلامت“ نے عورت کے وقار کا خیال بھی نہیں رکھا۔ یقین کریں کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتاہے ہمارے خان صاحب اندر کھاتے کم ازکم شہباز شریف سے ضرور ملے ہوئے ہیں، بزدار کو وزیراعلیٰ بناکر پنجاب کے عوام کے دلوں میں شہباز شریف کو زندہ رکھنے کا جو اہتمام انہوں نے کیا ہوا ہے شہباز شریف شاید خان صاحب کی اسی مہربانی کے بدلے میں کھل کر مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے پر تیار نہیں ہورہے ،....صرف یہ نہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں مستحق مریضوں کودوائیں فری نہیں مل رہیں یا ان کے بروقت آپریشن وغیرہ نہیں ہورہے، دیگر بے شمار معاملات بھی ایسے ہیں کہ سرکاری ہسپتال تباہی کے آخری دہانے پر پہنچے ہوئے ہیں، رہی سہی کسرڈاکٹروں کی ہڑتال نے نکال دی ہے، ناکام اور نکمّے وزیراعلیٰ اور بدترین وزیر صحت کو پرواہی نہیں کہ اس سے کتنی جانیں روزانہ خطرے میں پڑی ہوتی ہیں؟، ڈینگی کے مریضوں میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، اس ضمن میں ناکافی انتظامات نے پورے پنجاب کو ”ڈینگی گاہ“ بنادیا ہے، المیہ یہ ہے جن سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کا علاج ہوتا ہے ڈینگی خود وہاں ہوتا ہے، اگلے روز مجھے لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں داخل ایک مریض کی عیادت کے لیے جانا پڑا وہاں اتنی گندگی دیکھ کر میں سوچ رہا تھا یہ ہسپتال ہے یا ” پاخانہ گاہ“ ہے؟ سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان اور پرنسپل صاحبان سوائے اہم شخصیات اور ان کے بیمار عزیزوں کو پروٹوکول دینے کے کوئی کام ہی نہیں کرتے، وہ شاید سمجھتے ہیں یہی سب سے اہم کام ہے جس کے بعد اور کوئی کام کرنے کی انہیں ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایسی ہی ذلتوں کی وجہ سے پرائیویٹ ہسپتالوں کا دھندا ان دنوں اتنا چل رہا ہے کہ چل ہی صرف یہی دھندا رہا ہے۔ بلکہ مجھے تو لگتا ہے اس دھندے میں روز بروز بڑھتے ہوئے منافع کوپیش نظر رکھتے ہوئے اس ملک کے اصل طاقتور ”ہاو¿سنگ سوسائٹیاں“ بنانے کے بجائے پرائیویٹ ہسپتال بنانے لگ جائیں گے!!


ای پیپر