نہ کنواں نہ کھائی
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

گھوڑے، قلعے، پیادے سب ہی اپنی اپنی بسات میں شطرنج کی بساط پر کھیل جماتے ہیں، لڑتے ہیں، بچتے ہیں اور وار کرتے ہیں لیکن جو سحر ملکہ کا جادو کرتا ہے اسے توڑنے میں بڑے بڑے مات کھا جاتے ہیں۔ شاید مولانا صاحب نہ مانیں لیکن عالمی منظر نامے میں اس وقت پاکستان انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ اور شاید پاکستان بھی خطے کی ملکہ کی طرح سوچ سمجھ کر چل رہا ہے۔ امریکا، ایران، افغانستان، سعودی عرب، چین اور روس خطے کے ہر اہم اقدام میں پاکستان سے مشاورت لازمی قرار دے رہے ہیں۔ ایک طرف افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی ہماری کوششوں میں سہولت کاری کا اعتراف ہوچکا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب، ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے ہم سے ہی ثالثی کی درخواست بھی کی گئی ہے جس سے خطے نے استفادے کا آغاز بھی کردیا ہے۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

سات سمندر پار بھی وزیراعظم عمران خان کا دورئہ ایران اور سعودی عرب توجہ کا مرکز بنا رہا اور اس پر ممکنہ اگلی پیش رفت کے لیے بھی امیدیں باندھی جا چکی ہیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ دورئہ ایران اور سعودی عرب پر جانے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ تک کر ڈالا ہے کہ ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی کی وجہ سے خطے پر جو جنگ کے بادل منڈلانے لگے تھے پاکستان کی کوششوں سے چھٹ رہے ہیں۔ لیکن معاملات دنیا نمٹاتے نمٹاتے معاملات گھر سے بے اعتنائی نہیں برتی جاسکتی۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ملکی سیاست ایک بار پھر تجربہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ مولانا صاحب سیاست کی ہر بساط کے کھلاڑی تو معلوم ہوتے ہیں لیکن یقین مانیے اپوزیشن کا کردار ادا کرنا انہیں کبھی بھی نہیں آیا۔ یہاں تک کہ دور مشرف میں اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی وہ ہر بڑے فیصلے میں مشرف کے حامی اور ناصر ہی نظر آئے۔ لیکن لگتا ہے قدرت اس بار مولانا صاحب سے کوئی بہت بڑا کام لینا چاہتی ہے۔ جب کھونے کے لیے کچھ نہ ہو تو آگے کنواں اور پیچھے کھائی کی مثال مولانا فضل الرحمٰن کے لیے مناسب نہیں لگتی۔ یہی کم ہے پچھلے دو ہفتوں سے تمام میڈٰیا چینلز کے پرائم ٹائمز میں اگر کوئی موضوع زیر بحث ہے تو وہ صرف اور صرف آزادی مارچ ہے۔ اور تو اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن کے وہ وہ چوٹی کے عالم، رہنما جنہوں نے پچھلے کئی برسوں سے کیمرے کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی نہایت اہم تصور کیے جاتے ہوئے آٹھ آٹھ گھنٹے پردہ سکرین پر نظر آرہے ہیں۔ یعنی بارہواں کھلاڑی شور و غوغا کے ذریعے اپوزیشن کی کپتانی اختیار کرچکا ہے۔ لیکن ہائے رے اپوزیشن جس کی مصیبتیں کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ اپوزیشن نے مل کر ایک رہبر کمیٹی تو بنائی تھی اور اس کے سربراہ بھی جمعیت علمائے اسلام کے اکرم درانی کو ہی بنایا گیا۔ پھر کیا تھا فیصلے تیزی کے ساتھ ہونے لگے۔ لیکن ان دو ہفتوں میں یہ نہیں پتہ چل رہا کہ رہبر کون ہے اور کمیٹی کون۔ بحرحال مولانا صاحب نے اپنی سیاست کے ذریعے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو ایک بار دیوار سے لگا کر ضرور رکھ دیا ہے۔ اب پیپلز پارٹی جیسی libral جماعت دنیا کو کس منہ سے جواب دے گی کہ ایک تھا آزادی مارچ جس کی سربراہی مولانا فضل الرحمٰن کر رہے تھے اور ذولفقار علی بھٹو کا نواسا اور بی بی کا بیٹا مولویوں کے شانہ بشانہ ایک جمہوری حکومت گرانے کے لیے اسلام آباد کی جانب نکل پڑا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ نوید چودھری، قمرزمان کائرہ، شیری رحمٰن اور رضا ربانی جیسے لوگ پیپلز پارٹی میں موجود ہیں جو بلاول بھٹو کو دو ٹوک حمایت سے روک رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کا ایک خط تو مولانا فضل الرحمٰن نے بھری میٹنگ میں پڑھ کر سنا دیا لیکن دوسرا خط جس میں آزادی مارچ میں مسلم لیگ نون کے کردار کا تعین کا اختیار حسین نواز کے نام پر آیا تھا وہ کدھر ہے؟ کدھر ہیں کیپٹن صفدر؟ جنہوں نے پورے ملک کی امامت کی ذمہ داری اپنے سسر سے ملنے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کو سونپ دی تھی۔ اچانک سیاست سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے قریب میاں شہباز شریف اپنی منشا پر سیاست تو نہیں کرسکتے لیکن یہ سوچتے ضرور ہوں گے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے کنٹینر پر چڑھ کر اسلام آباد کی جانب چڑھائی کو ان کی اور نون لیگ کی کمر برداشت کر پائے گی؟

خاکی شلوار قمیض میں، ہاتھوں میں ڈنڈے تھامے، جے یو آئی کے جتھے نے جب مولانا فضل الرحمٰن کو اللہ ہو اللہ ہو کے ساتھ سلامی دی ہوگی تو یقنناً اس وقت بلاول اور شہباز شریف کو اپنے اپنے DJ اور establishment کو اپنی حکمت عملی بنانے میں بہت مدد مل گئی ہوگی۔ مولانا صاحب کو اپنے نعرے کے بکنے کا اتنا یقین ہے کہ وہ عمران خان کے استعفے سے پہلے مذاکرات کی ٹیبل پر آنا 73 کے آئین کی رو سے غیر آئینی سمجھتے ہیں۔ اور خان صاحب کو اپنی حکومت کے گرنا تو بہت دور کی بات ہلنے کی گنجائش بھی نظر نہیں آرہی۔ تبھی تو موجودہ حالات میں بھی پھبتی کس دی کہ پہلی بار پارلیمنٹ ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔ اس سارے منظر نامے میں مجھے مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ کوئی شخصیت بھی serious نظر نہیں آرہی۔ حالانکہ آزادی مارچ کے اعلان کو چند دن رہ گئے ہیں۔ مولانا کے انقلابی اطمینان اور حکومت کے غیر سنجیدہ بیانات، پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی نیم دلی کے ساتھ رضامندی کیوں بتا رہی ہے کہ جیسے معاملات طے ہوگئے ہیں؟


ای پیپر