دھرنوں کا ری پلے
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

مولانا فضل الرحمان اس سال کے آغاز سے 2018 کے انتخاب کے بعد حکومت کے خلاف دھرنا دینے کا جو ارادہ رکھتے تھے اس کی منزل آن پہنچی ہے۔ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے پیچھے پڑی ہیں خاص طور پر مسلم لیگ ن جو مولانا کے آزادی مارچ کے حوالے سے تقسیم تھی پارٹی کے صدر شہا ز شریف جو نواز شریف کے نظریے سے الگ سوچ رکھتے تھے مولانا کی خوش قسمتی تھی کہ نواز شریف کے خلاف چودھری شوگر مل کا کیس بننا تھا کہ نواز شریف نے پارٹی میں ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کا اعادہ کیا اور کارکنوں اور قیادت کو حکم دیا کہ مولانا کے دھرنے کو پورا سپورٹ کریں ۔ پارٹی صدر ایک وفد کے ساتھ مولانا کے نام نواز شریف کا خط بھی دینے گئے۔ مولانا کے مارچ کو بلاول بھٹو پوری سپورٹ کریں گے۔ اسفند یار ولی،محمود اچکزئیں حاصل بزنجو اور آفتاب شیر پاؤ ان کے پیچھے ہیں۔ جماعت اسلامی اپنا پروگرام رکھتی ہے مگر وہ مولانا کے ساتھ رابطے میں بھی ہے۔ دھرنا کامیاب ہوتا ہے یا نہیں مگر مولانا کو اس کا فاہدہ ہوگا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی حکومت کے لیے دھچکا بنا ہے۔ جس نے مولانا فضل الرحمن کے ’آزادی مارچ‘ اور ممکنہ دھرنے کے خلاف درخواستیں نمٹاتے ہوئے مقامی انتظامیہ کو اس معاملے کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ احتجاج کسی بھی شہری کا بنیادی حق ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی کوئی عدالت احتجاج کے حق کو ختم نہیں کر سکتی۔ فیصلے کے مطابق ریاست غیر معمولی حالات میں قومی سلامتی کے معاملے پر کسی بھی فرد کو احتجاج کا حق استعمال کرنے سے روک سکتی ہے۔ احتجاج کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ پرامن اور غیر مسلح رہیں اور عائد کردہ شرائط پوری کریں ۔ دوسری جانب وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا اسلام آباد میں دھرنا خودکشی کے مترادف ہو گا۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اعلان کر چکے ہیں کہ مارچ کے شرکا کو خیبر پختونخوا سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ البتہ وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ مولانا سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ حکومت بھی اب جاکر سنجیدہ ہوئی ہے کہ مولانا انہیں کہیں لے ہی نہ جائیں ۔وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ماضی میں ایسے حالات پیدا کیے جاتے تھے کہ فوجی جرنیل مارشل لا لگا کر نجات دہندہ بن جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی اپنی مسلط کردہ ہے۔ وہی اس کے ذمے دار ہیں۔ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے بارے میں مولانا فضل الرحمن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وزرا کا لب و لہجہ اور توہین آمیز رویہ مذاکرات کی خواہش کی عکاسی نہیں کرتا۔ ہمارا بنیادی مطالبہ حکومت کا مستعفی ہونا اور دوبارہ انتخابات ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ان سے مذاکرات ممکن نہیں۔ ہمارے پُرامن رہنے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ ہم نے لاکھوں لوگوں کے مارچ کیے۔ کبھی کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس بار کچھ ہوا تو حکومت کے اداروں کی جانب سے ہو سکتا ہے۔ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے۔مولانا فضل الرحمان سیا ست میں اپنے اہداف کے حصول کے لئے’’ سب کچھ کر گذرنے ‘‘ کی صلاحیت رکھتے ہیںوہ خوبصورت انداز میں بامقصد گفتگو کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں جچی تلی بات کرتے ہیں اور الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کرتے ہیں جملے بازی میں کوئی ان کو شکست نہیں دے سکتا ’’شگتفہ بیانی اور بزلہ سنجی‘‘ ان کا طرہء امتیاز ہے برجستہ جواب دینے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں اگرچہ ان کا تعلق مکتبہ دیوبند سے ہے لیکن انہوں نے اپنے کردار و عمل سے مسلمانوں کے دیگر مکاتب فکر کے لئے اپنے ا ٓپ کو قابل قبول بنایا دینی جماعتوں کے اتحاد میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن ان کے بعض سیاسی فیصلوں نے ایم ایم اے کو’’غیر فعال ‘‘ بنا دیا مولانا فضل الرحمن اس نظریہ کا کھل کر اظہار کرتے ہیں کہ ہر سیاسی جماعت کا مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے تاکہ وہ حکومت قائم کرکے اپنے اہداف حاصل کر سکے یہ مولانا فضل الرحمن کی شخصیت ہی ہے کہ وہ آ صف علی زرداری کی سیکولر حکومت کے ساتھ کم و بیش 3سال تک رہے پھر وہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حکومت کا بھی حصہ بن گئے

پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا دلچسپ بحران اس وقت پیدا ہوا جب سنہ دو ہزار پندرہ یوم آزادی کے موقع پر تحریک انصاف اور طاہر القادری کی جماعت نے اسلام آباد کی طرف دھرنا شروع کیا۔ دونوں جماعتوں کو بندے اکٹھے کرنے کا جو ٹارگٹ ملا تھا وہ ایک ایک ملین کا تھا یعنی بیس لاکھ لوگ۔ مگر جب آزادی مارچ کے شرکا اسلام آباد میں داخل ہوئے تو گنتی نے کپتان اور علامہ طاہرالقادری بمشکل ایک لاکھ سے بھی کم تھے۔ سبکی کی بات تھی جوان کے میزبان تھے یا ایمپائر تھے وہ اس صورت سے خوش نہیں تھے ۔ جو ہوا وہ آج کل ٹی وی سکرینوں پر چل جاتا ہے ۔ سول نافرمانی کی گئی قبریں کھودی گئیں ٹی وی سٹیشن پر قبضہ کیا گیا ۔پارلیمنٹ کی دیوار کو کرین کے ساتھ گرانے کی کوشش کی گئی۔ پورے ایک سو چھبیس دن شہر اقتدار کے باسیوں کی زندگی مفلوج ہوئی تھی۔جتھے کے ساتھ نہ استعفیٰ ملنا تھا اور نہ ملا۔ایمپائر کی مہربانی سے یہ ہوا وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے اہم ارکان کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاون کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ پہلے قبریں کھودنے والے اچانک دھرنا ختم کر کے فرار ہوئے پھر کپتان کو راستہ ملا بہانہ اور محفوظ راستہ آرمی پبلک سکول کے بچوں پر دہشت گردی سے ملا۔نواز شریف نے بھی بحران کو ٹالنے کے لیے وزارت عظمی کا جوا کھیلا۔ایک کمشن بنا کر کپتان کے مطالبے اور شرائط پر جج بھی ان کی پسند کے تھے۔کس نے جاں فشانی رپورٹ مرتب کی۔ یہ کپتان کی ذمہ داری تھی مگر کپتان بہادر ثبوت لانے میں کورے ثابت ہوئے۔ تحقیقات جاری تھیں کی ملک خوفناک سیلاب کی لپیٹ میں آگیا تین صوبوں میں اس سیلاب نے تباہی مچا دی مگر کپتان کی سیاست اور نعرے نہ رکے۔عمران خان نے تو سیلاب کا ذمہ دار بھی نواز شریف کو قرار دے دیا کہ اگر مسلم لیگ ن نے کالا باغ ڈیم بنایا ہوتا تو سیلاب سے لاکھوں لوگ متا ثر نہ ہوتے۔ تئیس جولائی دو ہزار پندرہ کو جوڈیشل انکوائری کمشن کی رپورٹ کے مزید مندرجات سامنے آئے ۔ اس وقت کے چیف جسٹس ناصر الملک، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل خان نے 86 روز کمشن کی سماعت کی۔ 2 ان کیمرہ اور ایک چیمبر میں سماعت ہوئی۔ جوڈیشل کمشن کا فیصلہ تینوں ججوں نے متفقہ طور پر تحریر کیا، کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے سامنے دھاندلی کے بارے میں 3سوالات سامنے رکھے تھے، پہلا سوال تھا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کی گئی ہے؟ دوسرا سوال تھا کہ کیا آپ کے پاس2013ء کے انتخابات بارے دھاندلی کے ثبوت ہیں؟ اور آخری سوال تھا کہ دھاندلی کی منصوبہ بندی کرنے اور اس پر عملدرآمد کس نے کی؟ 237 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ سیاسی جماعتوں کو عوامی رائے کے مطابق مینڈیٹ ملا ہے، منظم دھاندلی کے کوئی شواہد نہیں ملے، الزامات لگانے والے اپنے الزامات ثابت نہیں کرسکے۔ جو مواد کمشن کے سامنے پیش کیا گیا اس میں دھاندلی ثابت نہیں ہوئی۔ دھاندلی کی منصوبہ سازی کے الزامات بھی ثابت نہیں ہو سکے، الیکشن کمشن کے ارکان نے موثر کام نہیں کیا، ان کے سٹاف کی تربیت بھی مناسب انداز میں نہیں کی گئی۔ عام انتخابات2013 میں دھاندلی اور سازش کا کوئی شائبہ نہیں ملا۔ تحریک انصاف سمیت تمام پارٹیوں کو الزامات ثابت کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا مگر کسی پارٹی نے دھاندلی ثابت نہیں کی، کمشن نے جو مکمل طور پر آزاد تھا، سچ ڈھونڈنے کی پوری کوشش کی۔ الیکشن کمشن کا دھاندلی سے متعلق سیاسی جماعتوں سے کوئی ناطہ نہیں ملا۔ ۔ 6 اپریل 2015 کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جوڈیشل کمشن بنایا گیا تھا،9 اپریل 2015 کو اس کی پہلی سماعت ہوئی، آخری سماعت3 جولائی 2015 کو کی گئی۔ تحریک انصاف نے 16 گواہ پیش کئے، 11 ریٹرننگ افسروں نے بیانات ریکارڈ کرائے۔ مجموعی طور پر 69 گواہ پیش ہوئے۔ جوڈیشل کمشن میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شاہد حامد اور تحریک انصاف کے حفیظ پیرزادہ نے دلائل دیئے۔ رپورٹ کے مطابق نجم سیٹھی کے پنجاب میں اثرانداز ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ جوڈیشل کمشن نے اپنی رپورٹ میں الیکشن کمشن کے کردار پر سخت تنقید کی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے رپورٹ پر جو رد عمل دیا وہ کافی مثبت تھا’’ جو ہوا اسے فراموش کرتے ہیں، مسائل دھرنوں نہیں ایوانوں میں حل ہوں گے، اللہ نے سرخرو کر دیا، بہتان تراشی ہمیشہ کے لئے بند ہو جانی چاہئے‘‘وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا تھا کہ جوڈیشل انکوائری کمشن نے 2013ء کے عام انتخابات کو مجموعی طور پر منصفانہ اور قانون کے مطابق قرار دیدیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا، اب دیکھتے ہیں مولانا اپنا جوہر کس طرح دکھاتے ہیں ان کو بڑی حمائت ملی ہے جو ان کے کامیاب سیاست دان کی نشان دہی کرتی ہے۔


ای پیپر