کیا نواز شریف کو جیل میں رکھ کر بچایا گیا ہے؟
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

ہو سکتا ہے اس سوال سے لوگ اتفاق نہ کریں کہ کیا نواز شریف کو قید میں رکھ کر خطرات سے بچایا گیا ہے؟ کیونکہ اب تک جو سامنے آیا ہے وہ یہی ہے کہ نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کے لیے پسندیدہ نہیں ہیں۔ اس لیے اپنے ناپسندیدہ شخص کو خطرات سے کوئی خود کیونکر بچائے گا؟ آئیے نواز شریف کو جیل بھجوا کر تحفظ دینے کے فلسفے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ نواز شریف مقامی اسٹیبلشمنٹ کے لیے مبینہ طور پر ناقابل قبول اس لیے ہیں کہ وہ کتابوں میں لکھی سِول بالادستی کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سِول بالادستی کے لیے نواز شریف نے خفیہ اور ظاہری ہرممکن کوشش کی۔ اِن میں اپنے تینوں ادوار میں فوج کے سربراہوں کے ساتھ بطور باس کے رِٹ قائم رکھنے کی کوشش کرنا، کبھی فوجی سربراہ سے سخت موڈ رکھنا، کبھی فوجی سربراہ سے استعفیٰ لینا، کبھی فوجی سربراہ کو نکال دینا، کبھی فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنا، کبھی سابق فوجی سربراہ کو ہتھکڑیاں لگوانے کی کوشش کرنا، کبھی بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو لاہور بلا لینا، کبھی بھارتی وزیراعظم مودی کا اچانک لاہور آجانا، کبھی نیوز لیک کا الزام گلے پڑجانا، کبھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاکر طاقت کو براہِ راست چیلنج کرنا وغیرہ جیسے نواز شریف کے ایکشنز مقامی اسٹیبلشمنٹ کو مسلسل غصے میں رکھنے کے لیے کافی تھے۔ نواز شریف کا یہ رویہ ایک دو برس کی بات نہیں بلکہ 40 برس کا قصہ ہے۔ اس لیے مقامی سطح پر یہ فیصلہ کرنا مشکل نہ تھا کہ نواز شریف لاعلاج ہیں۔ دوسری طرف انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی نواز شریف اَن گائیڈڈ میزائل تھے۔ کتابوں میں لکھی ملکی خودمختاری اور خودداری کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنے خلاف کرلیا تھا۔ مثلاً پاکستان کی معیشت میں نواز شریف کا مغرب اور امریکہ کی بجائے چین کی طرف پینڈولم شفٹ لانے کی کوشش کرنا۔ معاملہ اگر پاکستان تک رہتا تو باہر والے شاید اتنا ڈسٹرب نہ ہوتے لیکن سی پیک کے ذریعے معاملہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے رزق تک جاپہنچا تھا۔ اپنے منہ کا نوالہ بچانے کے لیے تو چیونٹی بھی اپنی ہمت کے مطابق کوشش کرتی ہے۔ چہ جائیکہ وَن بیلٹ وَن روڈ یعنی سی پیک کا نظریہ مغرب اور امریکہ کے منہ سے نوالے چھین لینے کے مترادف تھا۔ گوادر پورٹ کے روشن مستقبل کے باعث دبئی، عمان اور ایران کی بندرگاہوں کے مستقبل بھی ماند پڑ جاتے۔ امریکی ڈالر دنیا کی معیشت میں ایک عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی انٹرنیشنل تجارت امریکی ڈالر کے علاوہ کسی اور کرنسی میں ہونا امریکی وجود کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ نواز شریف نے چین کے ساتھ باہمی تجارت امریکی ڈالر کی بجائے مقامی کرنسیوں میں کرنے کی بات کی۔ بیشک پاکستان کا یہ اقدام امریکی ڈالر کے خلاف ایک مقامی اور چھوٹی بغاوت تھی لیکن یہ باغیانہ پن دوسرے ترقی پذیر ملکوں کے لیے ایک مثال بھی بن سکتا تھا۔ اس کے علاوہ کتابوں میں لکھی پارلیمنٹ کی بالادستی کو بالادست بناتے ہوئے پارلیمنٹ کی قرارداد کے مطابق نواز شریف کا پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب نہ بھیجنا وغیرہ جیسے اقدامات انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے لیے راستے میں پڑی خاموش چھوٹی سی مگر خطرناک بارودی سرنگ تھے۔ مختصر یہ کہ نواز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے مقامی اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ نواز شریف نے بہت کچھ کیا لیکن پھر بھی محفوظ ہیں لیکن اُن سے پہلے والوں نے کچھ کم کیا پھر بھی مستقل ٹھکانے لگا دیئے گئے۔ مثلاً مقامی یا انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ یا دونوں کو غصہ دلانے کے باعث ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر لٹک گئے، جنرل ضیاء الحق فضائوں میں ہی دھواں بن گئے، شاہنواز بھٹو بیرون ملک اپنے گھر میں مردہ پائے گئے، مرتضیٰ بھٹو سڑک پر مردہ ہوگئے اور بینظیر بھٹو ہزاروں افراد کے سامنے خون میں نہا گئیں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایسی انٹرنیشنل مثالیں بھی موجود ہیں جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے غیض و غضب کے باعث تباہ ہوگئے۔ مثلاً لیبیا کے معمر قذافی کو سڑکوں پر گھسیٹ کر برچھیوں اور گولیوں سے چھلنی کیا گیا ۔ مصر کی ہزاروں برس کی تاریخ میں پہلے جمہوری منتخب صدر محمد مرسی کو مصر کی سب سے خوفناک بچھو جیل میں چھ برس رکھا گیا ۔ چھ برس تک وہاں انہیں زمین پر سونا پڑا۔ چھ برس تک انہیں اخبار، کتاب یا لکھنے پڑھنے کے لیے کچھ نہ دیا گیا ۔ چھ برس میں وہ اپنے بیوی بچوں سے صرف چند بار ملے۔ اس جیل کے بارے میں مشہور ہے کہ جو قیدی اس میں جاتا ہے وہ زندہ واپس نہیں آتا۔ یہی مصر کے پہلے جمہوری منتخب سابق صدر محمد مرسی کے ساتھ ہوا کہ وہ بچھو جیل سے عدالت لائے گئے اور جج کے سامنے صرف پانچ منٹ بولنے کے بعد گرگئے اور پھر کبھی نہ اٹھے۔ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے مخالف کیوبا کے مشہور انقلابی چی گویرا کی موت کا خوفناک منظر ہسٹری میں محفوظ ہے۔ جب چی گویرا کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے لایا گیا تو ان پر ایک دم گولیاں برسانے کی بجائے پہلے ان کے پائوں اور ٹانگوں پر گولیاں ماری گئیںپھر ان کے پیٹ، سینے اور منہ پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا کو کون بھول سکتا ہے۔ انہیں مقامی اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے خلاف 27 برس ایسی جیلوں میں رکھا گیا جہاں سے انہیں تپ دق کا مرض لاحق ہوگیا۔ انہیں کئی مہینوں بعد صرف اپنے بیوی بچوں سے ملنے کی اجازت ملتی۔ کئی برس تک نیلسن منڈیلا سے جیل میں پتھر تڑوائے گئے۔ کئی برس تک انہیں کم اور انتہائی خراب خوراک کھانے کو دی گئی۔ مندرجہ بالا مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مقامی یا انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے والوں کو مستقبل میں بہادر تو کہا جاتا ہے لیکن حال میں اُن کا نشان تک مٹا دیا جاتا ہے۔ نیلسن منڈیلا جیل میں تپ دق کا مرض لگوانے اور جیل میں پتھر توڑنے کے بعد ہی ا س نتیجے پر پہنچے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات ہی ان کے جمہوری نظریئے کے فروغ کا باعث ہوں گے کیونکہ وہی نیلسن منڈیلا بعد میں جنوبی افریقہ کے صدر بنے اور نوبل انعام کے حقدار بھی ٹھہرے۔ نواز شریف نے مقامی اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کو جس طرح چیلنج کیا ان کا اب تک محفوظ رہنا ایک انوکھی بات ہے۔ کیا یہ انوکھی بات خود بخود ہوئی ہوگی؟ ہوسکتا ہے لوگ اسے ازراہ مذاق ہی سمجھیں لیکن سوچا جائے تو جیل کے آلودہ اور غیرصحتمند ماحول کی طرف ڈینگی مچھر کا رخ بھی نہیں ہوا۔ مقامی اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کے باعث ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، شاہنواز بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، بینظیر بھٹو، معمر قذافی، محمد مرسی، چی گویرا اور نیلسن منڈیلا کے برعکس نواز شریف کو جیل میں رکھ کر شاید جان لیوا مصیبتوں سے محفوظ رکھا گیا ہے۔


ای پیپر