خدارا! اپنی اولاد کو موت کی طرف مت دھکیلیں؟
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

میرے پیارے ابو اور امی!

مجھے معاف کر دینا،میرا رزلٹ بہت گندا آیا ہے اور جس کی وجہ سے میری اب کوئی عزت نہیں رہے گی

مگر میں نے نمبر لینے کی کوشش کی تھی۔

بس مجھے معاف کر دینا

اللہ حافظ!

یہ خط بھکر کے فرسٹ ائیر کے ایک طالبعلم نے خود کشی سے پہلے لکھا تھا اور اگر غور کریں تو یہ ہم سب والدین کے نام ایک کھلا خط ہی نہیں بلکہ آنے والے طوفانوں کی پیش گوئی بھی ہے۔

زاہد کا بیگ، جوتے اور خط تھل کینال کے کنارے ملا اور مقامی افراد نے ہیڈ فردوس پر لاش دیکھ کر اطلاع دی۔ یہ واقعہ والدین اساتذہ اور ہمارے نظام کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے اور ایک سوالیہ نشان بھی چھوڑ گیا ہے کہ ایسا کیا ہوگیا کہ ایک زندگی سے بھرپور انسان صرف اپنی ناکامی اور ماں باپ یا معاشرے کے خوف سے موت کو گلے لگانا بخوشی قبول کرلیتا ہے۔ آخر وہ اس نہج پر کیوں پہنچ جاتا ہے کہ اسے سوائے موت کے اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس طرح کے کئی واقعات سامنے آئے جہاں کبھی اساتذہ کے رویوں سے دل برداشتہ ہوکر تو کبھی والدین کے خوف سے نوجوان اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں مگر مجال ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہوں، اجتماعی سطح پر نہ سہی کم از کم ہم انفرادی طور پر تو اپنے رویے کو بہتر بنا سکتے ہیں نا۔

سب سے پہلے تو دیکھتے ہیں کہ اس صورت حال کا ذمہ دار آخر ہے کون؟

جس معاشرے میں غربت، مہنگائی، نا انصافی، تعلیم پرعدم توجہ،بے حیائی کا فروغ، غیر مساوی سلوک، سود ی نظام، گناہ آسان نیکی مشکل، اساتذہ کا استحصال ہو۔ جہاں روزگار کے کوئی مواقع نہ ہوں بلکہ لاکھوں نوکریاں دینے کا دعوی کرنے والے صاف مکر جائیں کہ روزگار کے لیے ہماری طرف مت دیکھیں،جہاں روزانہ کی بنیاد ہر ہزاروں لوگوں کی نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے، جہاں کاروبار بند ہورہے ہوں تو یہ سارا پریشر ایک سیلاب کی طرح والدین پر آتا ہے جو اپنی اولاد کو پڑھا لکھا کر کچھ بنادینے کے چکر میں دن رات اپنی ہڈیوں کا چورن بنا دیتے ہیں اور اس کے باوجود ان کو وہ رزلٹ یا تعلیم میں دلچسپی نظر نہیں آتی تو ظا ہر ہے وہ اپنے بچوں پر ذہنی دبائو ڈالیں گے۔لیکن یہاں جو سنگین غلطی ہم سب دہراتے ہیں وہ ہیں منفی الفاظ جو بچے کا اعتماد برباد کردیتے ہیں،

''فلاں کے بیٹے نے اتنے نمبر لیے ہیں۔۔

تمہیں کس چیز کی کمی ہے؟

دن رات محنت کرکے تمہاری فیس اور دیگر اخراجات پورے کررہے ہیں۔ پھر بھی تم ہی سب سے پیچھے ہو ''۔

تم ہو ہی نالائق!

تم کبھی زندگی میں کچھ نہیں کر سکتے لگتا ہے ریڑھی لگا ئو گے!

کیاآپ کو اندازہ ہے کہ ایسے زہرآلود جملوں کا بچوں کے دماغ پر کیا اثر پڑتا ہے؟

سب سے پہلے ان کے دل میں احساس جرم اور پھر ا حساس کمتری جنم لیتا ہے،اس کے بعد حسد،جھوٹ، بے حیائی،نشہ، بری صحبت اور انتقامی جذبات جنم لیتے ہیں یہ وہ کمزور لمحات ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر کوئی بھی آپ کے بچے کی زندگی سے کھیل سکتا ہے، پھر آپ کو کیا حاصل ہوا؟

ایک ہنستے کھیلتے زندہ دل انسان کو آ پ نے زندہ لاش بنا دیا۔

ویسے یہاں ایک بات اور بھی اہم ہے کہ ہم والدین بھی کتنے عجیب ہیں نا کہ دنیا کے امتحان کے رزلٹ سے اتنا ڈرادیتے ہیں کہ بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کاش کبھی ہم نے اپنی اس نسل کو اللہ سے، یوم حساب اور اس دن کے رزلٹ سے بھی ڈرایا ہوتا تو آج ہمارے بچوں کا یہ حال نہ ہوتا۔ کیونکہ جس کام میں اللہ کو شامل کریں تو پھر وہاں خیر ہی خیر ہوتی ہے لیکن جب ہمارے ہر عمل کا مقصد صرف دنیاوی فائدہ، دنیا میں مقام حاصل کرنا شامل ہو تو پھر اللہ بھی ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا۔صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے ذکر کے لیے وقت نکالو، میں تمہارے کام میں برکت عطا کروں گا ورنہ دنیاوی کاموں کی کثرت تم پر اس قدر مسلط کر دوں گا کہ تمہیں فرصت ہی نہ ہوگی اور سکون سے بھی محروم رہو گے۔

تو کیا ایسا نہیں ہے؟

اگر آج کے بچوں پرغور کریں تو ایک عجیب سی برائلر زدہ مخلوق نظر آئے گی جس کی فطرت میں آرام طلبی، ہٹ دھرمی، انٹرنیٹ کے ذریعے فضول قسم کی سرگرمیوں میں وقت کا ضائع کرنے کا نشہ اتر چکا ہے۔

تربیت تو اب نہ گھروں میں کی جاتی ہے نہ سکولوں میں۔ اب بچے وہی سیکھتے ہیں جو انٹرنیٹ یا حالات انہیں سکھاتے ہیں۔ ان کے لیے موجودہ دور میں کوئی رول ماڈل نہیں جس کے مطابق وہ اپنے آپ کو بدل لیں اور جو حقیقی رول ماڈل ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ان کے بارے میں ہم انہیں کچھ نہیں بتاتے ۔ پھر گھروں میں غیر متوازن رویہ یا تو بے جا لاڈ پیار یا پھر بہت زیادہ سختی کی جاتی ہے۔ یہاں سکولوں اور والدین کی بس ایک ہی ہوس ہے نمبر لینے کی کیونکہ میرٹ کی تلوار جو لٹک رہی ہے، شخصیت چاہے برباد ہوجائے نمبر پورے آنے چاہییں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہر بچہ ایک جیسی صلاحیت لے کر پیدا ہوا ہو، کوئی انگریزی میں اچھا ہے تو کوئی حساب میں، تو کوئی سائنس میں! اب ہر چیز میں پرفیکشن چاہیے تو وہ کہاں سے لائی جا سکتی ہے۔ہمارے گھوڑے اور گدھے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے باعث آج نئی نسل میں کوئی سائنس دان،مقرر، ادیب یا مفکر پیدا نہیں ہورہا۔

یا د رکھیں اللہ نے ہر بچے کو الگ الگ ذہنی استعداد سے نوازا ہے لیکن ہم معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہوکر ان پر اتنا بوجھ لاد دیتے ہیں کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ انسان کم اور خلائی مخلوق زیادہ لگتے ہیں اور اس دبائو کے نتیجے میں ان کے اندر ایک عجیب سا انتقامی رویہ پیدا ہوجاتا ہے وہ ماں باپ استاد معاشرے اور پھر اپنے آپ سے بھی نفرت کرنے لگ جاتے ہیں یہاں اگر ان کو توجہ نہ دی جائے تو وہ خود کشی کے اقدام پر مجبورہوجاتے ہیں۔

نمبر کم آنے پر طالب علموں کی خودکشی درحقیقت قتل ہے جو اسکول، والدین اور معاشرہ مل کر سرانجام دیتے ہیں۔ جن کی ناک بچے کے نمبر کم آنے پہ کٹ جاتی ہے کیا اب اس کے دنیا سے چلے جانے پر وہ عزت بحال ہوگئی۔ہمیں تو آج تک یہی معلوم نہیں ہوسکا کہ تعلیم کا اصل مقصد، شعور حاصل کرنا ہے نمبر اورنوکریاں حاصل کرنا نہیں اور اگر کامیابی کا دارومدار صرف نمبروں پر ہوتا تو دنیا کے بیشتر امیر ترین افراد پوزیشن ہولڈر ہوتے۔

خدا را ابھی بھی وقت ہے، صرف پندرہ بیس ہزار کی نوکری کے لیے اپنے بچوں کو ذہنی مریض مت بنائیں، زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اسے شرمندگی مت بنائیں۔

آپ کے دبائو سے ان کی خداداد صلاحیت دب کر رہ جاتی ہے کیا پتہ اگر وہ سامنے آجائے تو وہ بچہ انقلاب برپا کردے۔سوچیے گا ضرور!


ای پیپر