سیاسی مشقیں جاری
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

جوں جوں ستائیس اکتوبر قریب آ رہا ہے سیاست کے میدان کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیںکہ حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اس سیاسی طوفان کو روکنے کے لیے حکمت عملی طے کرنے کے لیے سر جوڑ لیے ہیں۔ جو جے یو آئی ( ف) نے برپا کیا ہے ۔ دوسری طرف وہ جماعتیں جو مولانافضل الرحمن سے واضح طور سے ان کے سیاسی طوفان کا حصہ نہیں بن رہیں تھیں اب ذرا کھل کر کہہ رہی ہیں ہاں وہ مارچ میں شریک ہوں گی مگر دھرنے میں نہیں۔؟

حقیقت یہ ہے کہ تمام حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں مولانا فضل الرحمن کے لشکر کا حصہ بنیں گی چاہے روپ کوئی بھی ہو کیونکہ وہ کسی صورت عمران خان کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک کھرے سیاسی رہنما کے طور سے ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی انہیں پزیرائی مل رہی ہے۔ وہ عوامی لہجے میں بات کرتے ہوئے دنیا بھر کے تھنک ٹینک کو عام آدمی کی زندگی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ انہیں ذاتی کوئی لالچ نہیں ہاں اگر کوئی ہے تو عوام کے لیے ۔ مگر حیرت اس بات کی ہے کہ کیا وہ یہ اب تک نہیں سمجھ سکے کہ ان کے آس پاس جو لوگ جمع ہیں وہ انہیں عوام کی بات کیونکر کرنے دیں گے ۔ انہیں تو عوام سے کوئی غرض نہیں کہ یہ روایتی سیاسی جماعتوں کے پر وردہ ہیں لہٰذا نہوں نے وہی کچھ کرنا شروع کر دیا جو روایتی سیاستدان کیا کرتے ہیں۔ اُدھر انہیں آئی ایم ایف کی جانب دھکیل دیا گیا جبکہ اس کے بغیر بھی کام چلے جا رہا تھا ۔ اسد عمر کا یہی کہنا تھا اگر کچھ قرضہ لینا بھی پڑتا تو وہ بہت معمولی تھا اور آسان شرائط پر بھی لیا جاتا مگر نہیں ان لوگوں نے مشورہ دیا کہ وہ ایسا رسک نہ لیں کیونکہ انہیں عوام کو ریلیف دینا ہے جو قرضوں کے حصول سے ہی مل سکتا ہے۔ لہٰذا طوعاً و کرعاً عمران خان اس سمت چل پڑے۔آج آئی ایم ایف نے معیشت کی دھول اڑا کر رکھ دی ہے۔ اس قدر نئے ٹیکس لگوا دیے گئے ہیں کہ لوگوں نے رونا شروع کر دیا ہے۔ وہ اس حکومت کو بُرا بھلا کہنے لگے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ گزشتہ حکومتوں کو یاد کرتے ہیں کہ وہ آئیں اور انہیں اس بد ترین ماحول سے نجات دلائیں ایسا نہیں ہے وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سلوک کب تک ہوتا رہے گا کب تک وہ طاقتوروں کے لیے محنت مشقت کرتے رہیں گے۔ان کی نسلیں اسی طرح جئیں گی وہ قرضہ اتارنے ہی میں لگی رہیں گی اور کیا وہ روایتی طرز سیاست و حکمرانی سے چھٹکارا نہیں حاصل کر سکیں گے؟

انہیں ایسے طرز عمل سے جو ان کے حکمرانوں نے اختیار کر رکھا ہے اور مقتدد حلقوں نے سوچ رکھا ہے تب ہی گلو خلاصی حاصل کر سکیں گے جب وہ اپنی قیادت خود کریں گے ان سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں چمٹے رہیں گے جو انہیں اقتدار سے پہلے سبز باغ دکھاتی ہیں بعد ازاں وہی چلن اپناتی ہیں جو ان کا مزاج ہوتا ہے۔

بہر حال موجودہ حکومت غلطی کر بیٹھی ہے کہ اس نے روایتی انداز اختیار کر کے آگے بڑھنا چاہاہے جبکہ وہ عوام میں مقبول اس لیے ہوئی کہ وہ ماضی کے سیاسی منظر کو یکسر بدل دے گی مگر وہ اس میں فی الحال کامیاب نہیں ہو سکی اس چیز کا فائدہ اس کی مخالف جماعتوں نے اُٹھایا اور اب وہ سڑکوں پر دھما چوکڑی مچانے آ رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ ناکام نہیں ہوں گی یعنی وہ نئے عام انتخابات کروانے میں کامیاب ہو جائیںگی ۔ جس میں اتنی نشستیں حاصل کر لیں گی کہ حکومت بنا سکیں۔ ایسا ممکن ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ عوام کا مزاج تبدیل کر دیا گیا ہے کہ وہ ٹیکس دینا چاہتے ہیں نہ وہ نئے ضوابط کے تحت زندگی بسر کرنا چاہ رہے ہیں۔ کمیشن خوری، ہیرا پھیری، دھوکا دہی، سہل پسندی، رشوت اور سفارش مجموعی طور سے ان میں رچ بس گئے ہیں لہٰذا اب جب عمران خان کی حکومت انہیں ایک نئے سماج کے ڈھانچے میں ڈھالنا چاہتی ہے تو وہ کچھ پریشان ہو گئے ہیں اور اس پر سخت گیر ہونے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ جبکہ یہ بات ان کے مفاد میں جاتی ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت سے مراعات لیں اسے دیں کچھ نہیں۔ فارغ بیٹھے بھی ان کو اشیائے خورد ملتی رہیں ایسا ساٹھ ستر فیصد سوچتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ووٹرز اور سپورٹرز اس سے مختلف سوچ رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے اس وقت صورت حال خراب ہے وہ سوال کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ گزشتہ دور میں مصنوعی ابھار، ابھارے گئے اور لوگوں کو بیوقوف بنایا گیا۔ اب وہ سب نہیں ہے معیشت و معاشرت کو سیدھے رخ پر ڈالا جا رہا ہے وہ آنکھوں کا دھوکا ختم کیا جا رہا ہے جو پچھلے حکمران عوام کو دیتے رہے ہیں۔عرض کرنے کا مقصد عوام میں بے چینی تو ہے مگر اتنی بھی نہیں جتنی بیان کی جاتی ہے۔ ہاں یہ اس وقت بڑھ سکتی ہے جب دو برس بیت جائیں گے اور حالات درست نہیں ہوں گے۔ حزب اختلاف اس مضطرب کیفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو ختم کرنے آ نکلی ہے جو کہ قطعی جائز نہیں۔ اسے کم از کم دو برس تک نہیں پوچھا جانا چاہیے۔ اس پر تنقید کی جائے جہاں وہ غلطی کرے اس کی نشاندہی کی جائے مگر یہ کہاں کی سیاست ہے کہ اسے موقع ہی فراہم نہ کیا جائے اور اس کا دھڑن تختہ کر دیا جائے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے قصور وار کو سزا ملنی چاہے کوئی بھی ہو اب جن لوگوں سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے اس سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے مگر حکو متی کیمپ میں موجود احتساب کی زد میں آنے والے کیوں محفوظ رہیں ۔ انہین بھی قانون کی گرفت میں آنا چاہیے۔ حزب اختلاف مگر سمجھتی ہے کہ اسے ہی پکڑا جا رہا ہے ۔ لہٰذا کیوں نہ اس حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے۔ ؟

بہر کیف کچھ تجزیہ نگاروں کے نزدیک عمران خان کو ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت لے ڈوبے گی کیونکہ اس کے سیاسی حریفوں کو خطرہ ہے کہ کل جب وہ بنیادی مسائل پر قابو پا لیں گے تو وہ اگلے پانچ برس بھی وزیر اعظم کے عہدے پر متمکن ہوں گے یوں ان کی سیاست کا بوریا بستر گول ہو سکتا ہے لہٰذا کیوں نہ اس ’’ مقبول ‘‘ حکمران سے جان چھڑائی جائے اس کے لیے جوڑ توڑ کیے جا رہا ہے۔ ڈنڈے تیار کیا جا رہے ہیں۔ حکومت کے اندر موجود بعض روایتی سیاستدانوں کے بارے میں بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کیونکہ عمران خان وزیر اعظم انہیں راہ راست پر آنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ مگر وہ اس بات پر ان سے خفا ہیں۔ سمجھنے والے سمجھ رہے ہیں کہ ہماری سیاست اب کس طرف جا رہی ہے ۔ مگر تصویر کا دوسرا رخ دکھاتا ہے کہ سیاست بھول بھلیوں سے ہوتی ہوئی آخر کار اپنی منزل مراد کی جانب ہی جائے گی ۔ کیونکہ تجربات بہت ہو چکے۔ بار بار روایتی سیاستدان بھی دیکھ لیے گئے مگر ملک غربت افلاس اور تنگدستی کی دلدل سے باہر نہیں آ سکا جس سے عوام میں یہ خیال عام ہو گیا کہ اب ملک کی بنیادیں ڈگمگانے لگی ہیں جنہیں اصول، خلوص اور انصاف کا سہارا نہ دیا گیا تو خدانخواستہ کوئی بڑا نقصان ہونے کا اندیشہ لاحق ہو جائے گا لہٰذا مولانا فضل الرحمن کی طرف سے جاری ’’ سیاسی مشقیں ‘‘ محض ڈراوا ہیں دکھاوا ہیں عملاً وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے نہیں کر سکتے جو ہمارے لیے ایک آہ میں بدل جائے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کو تھوڑا سا جھٹکا لگا کر مولانا فضل الرحمن اپنی تسکین چاہتے ہیں۔ یہاں معذرت کے ساتھ وزیر اعظم سے گزارش کروں گا کہ اب وہ اپنے لہجے میں کچھ نرمی لائیں وہ ایک مدبر کے طور سے پوری دنیا میں ابھرے ہیں انہیں اپنے سیاسی حریفوں کا نام ادب سے پکارنا چاہیے مزید عرض ہے کہ وہ حزب اختلاف کو ساتھ لے کر چلیں اسے اپنا رفیق راہ بنائیں تاکہ ہم پاکستان کو ایک ترقی یافتہ اور مہذب ملک بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔!


ای پیپر