U ٹرن لینیاں اور آنیاں جانیاں
19 اکتوبر 2019 2019-10-19

اپوزیشن کہتی ہے کہ چیئرمین FBR جناب شبر زیدی IMF کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے نئے پاکستان کیلئے۔ PTI کے اپنے وزیر ِ خزانہ اور سقراطِ زماں جناب اسد عمر بھی ناکام نکلے تو تبدیلی سرکار نے امریکہ سے مشیر خزانہ عہد الحفیظ شیخ کو منگوا لیا رینٹ پر۔ موصوف مشیر خزانہ فرماتے ہیں کہ حکومت نے تجارتی اور مالیاتی خسارہ پر قابو پا لیا ہے‘ مشکل فیصلوں کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں‘ معیشت بہتر‘ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گیا ہے‘ سٹاک مارکیٹ اور کرنسی مستحکم ہو گئی ہے‘ مزید اربوں روپے آئیں گے‘ 5 لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو چکے اور آمدنی میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سبحان اللہ سرکار۔

شیخ جی نے کیا خوب کمال کر دکھایا ہے شیخ چلی کی مانند کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی یکدم سب کچھ ہی ٹھیک کر دیا ہے اپنے بول بیانات بلکہ جادو کی چھڑی سے لیکن کاش یہ بہتر معیشت و معاشرت کہیں نظر بھی آتی۔ درحقیقت پچھلی حکومتوں کی طرح تبدیلی سرکار بھی ملک و قوم کو قرضوں کی گہری دلد ل میں دھکیل رہی ہے۔ جنرل پرویز مشرت کے 9 سالہ دورِ حکومت میں ملکی و غیر ملکی قرضوں میں 3 ہزار 200 ارب روپے اضافہ ہوا تھا جبکہ پیپلز پارٹی کے 2008؁ء تا 2013؁ء کے دور حکومت میں ملکی و غیر ملکی قرضوں میں 8 ہزار 200 ارب روپے اضافہ ہوا تھا اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور ِ حکومت میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں15 ہزار 600 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پہلے سال میں ہی 7 ہزار 509 ارب روپے کا قرض لے لیا ہے جس سے قرضوں کا حجم مجموعی طور پر 32 ہزار 240ارب روپے ہو گیا ہے۔ جی ہاں یہ عمرانی عہد ہے ‘ ان کے U ٹرن لینیاں اور آنیاں جانیاں دیکھتے جائیں اس کے علاوہ ان کی عمرانیات اوربیانات بولیاں بھی مت بھولیے گا۔ آپ چشم تصور میں وہ منظر تو لائیں جب کپتان IMF سے قرض لینے کو خود کشی گردانا کرتے تھے۔

شیخ رشید پچھلے پانچ سال ٹی وی پہ فرماتے رہے کہ ایک عام مزدور ملازم پہلے سکیل ‘کلاس فور اور ڈرائیور وغیرہ کی کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر ہونی چاہیے۔ نئے پاکستان میں تبدیلی سرکار پہلے سکیل کی کم از کم تنخواہ آدھا تولہ سونا کے برابر بھی کرکے دکھا دے تو مان جائیں گے کیونکہ مہنگائی کے سونامی طوفان نے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ سفید پوش‘ تنخواہ دار اور غریب طبقے کیلئے دالیں اور سبزیاں بھی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ چینی 17 روپے اضافے سے 75 روپے کلو‘ تیل 220 روپے‘ پیاز90 روپے‘ گوشت 700 روپے کلو‘ بیس کلو آٹے کا تھیلا 840 روپے‘ دودھ 130 روپے کلو‘ انڈے 120 روپے درجن‘ شملہ مرچ 200 روپے ‘ ٹماٹر 70روپے ‘ آلو 40 روپے‘ مٹر 240 روپے ‘کدو 100 روپے‘ ادرک 400 ‘ لہسن 280 ‘ کریلا 120 ‘ لیموں 140 ‘ گوبھی 100 ‘ شلجم80 ‘ گاجر 80 اور ٹینڈے 80 روپے کلو ۔ اس کے علاوہ گرانفروشوں کو من مانے نرخ مقرر کرنے کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ عام آدمی کا گھریلو بجٹ درہم برہم ہو چکا ہے۔ غریب عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے لیکن آپ نے گھبرانا بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ کپتان نے قوم کو صبر و استقلال کی تلقین فرمائی ہے۔

ان حالات میں وزیر اعظم نے احساس لنگر سکیم کا اعلان فرمایا ہے پورے ملک میں 112 لنگر خانے قائم ہوں گے جہاں غریب کو مفت کھانا ملے گا اور یہ خالی خولی اعلان ہی نہیں بلکہ بذاتِ خود وزیرِ اعظم نے اسلام آباد میں ایک لنگر خانے کا باقاعدہ طور پر افتتاح بھی کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے نظریہ ہائے فکر و مذاہب کے نزدیک بھوکے کو روٹی دینا سب سے بڑی نیکی ہے۔ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے ہمارے PM کامیاب جوان پروگرام کا باضابطہ طور پر افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔آپ اپنے وزیرِ اعظم کے منصوبے تو ملاحظہ فرمائیں کہ کس قدر مثبت و تعمیری کام ہیں اور بڑے بڑے منصوبے ہیں مثلاً شیلٹر ہوم ‘ سرسبز (گرین) پاکستان‘ نیا پاکستان ہائوسنگ پروجیکٹ‘ انڈہ مرغی‘ بکری پال اور کٹے پال منصوبے‘ مرغیاں انڈے مفت بانٹنا اور کٹے قسطوں پہ دینا۔ اس سے قبل کسی وزیرِ اعظم کے پاس اتنے بڑے بڑے آئیڈیاز ہی نہیں تھے۔ بس قوم کا کام ہے صبر‘ صبر اور پھر صبر۔ آخر میں وزیرِ اعظم کی جانب سے عوام کو بے صبر اقرار دینے پر برادرم محمد عثمان جامی کے چند متفرق اشعار بعنوان ’’اے بے صبرے لوگو‘‘ ملاحظہ فرمائیے:۔

سستے ہوں گے دوا علاج

ہو گا تبدیلی کا راج

بچے جو بھوکے سوتے ہیں

ہم پر خفا یہ ہوتے ہیں

اور الزام بھی دھرتے ہیں

لوگ بڑے بے صبرے ہیں

دیکھو لوگو! صبر کرو

یہ وعدوں کی روٹی ہے

اس سے اپنا پیٹ بھرو

اور یہ ہے دعوئوں کی دوا

جھیلو بیماری نہ مرو

مان لو سب کچھ بدلا ہے

پاکستان نیا سا ہے

میرے نور تنوں کی طرح

مجھ سے یہ دن رات کہو

لوگ بڑے بے صبرے ہیں


ای پیپر