الزام تراشی اور دھمکیاں کب تک۔۔۔؟
19 اکتوبر 2018 2018-10-19

وزیراعظم جناب عمران خان کی حکومت میں شامل بعض ارکان بالخصوص حکومتی ترجمان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری کے بیانات کو سامنے رکھا جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ تحریکِ انصاف اگرچہ ملک میں حکمرانی کے ڈنکے بجا رہی ہے لیکن اس کے رہنما ابھی تک 2014 میں اسلام آباد ریڈ زون میں دیے جانے والے دھرنے کے دوران کی ہرزہ سرائی، دھمکیوں اَور الزام تراشی کی کیفیت سے باہر نکل نہیں پا رہے۔ حکومتی ارکان کے بیانات سے الزام تراشی اور دھمکیوں کا وہ ہی انداز سامنے آتا ہے جو دھرنے کے دِنوں میں سرِ شام کنٹینر پر کھڑے ہو کر تحریکِ انصاف کے چیئرمین کپتان جناب عمران خان کا روز مرّہ کا معمول تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے آئے روز کے بیانات سے صرف الزام تراشی اور ڈرانے دھمکانے کا رنگ ہی نہیں اُبھرتا ہے بلکہ بین السطور ان سے اُس بوکھلاہٹ کا اظہار بھی سامنے آتا ہے جس کی تحریکِ انصاف کی حکومت ملک و قوم کو درپیش مسائل و مشکلات بالخصوص اقتصادی شعبے کی مشکلات کو حل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے شکار ہے ۔اگلے دِن جناب فواد چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جو گوہر فشانی کی ہے اُس سے اِس کی تصدیق ہوتی ہے۔ جناب فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تمام بجلی منصوبوں کا آڈٹ ہوگا۔ قائدِ اعظم سولر، بھکی، حویلی بہادر شاہ، ساہی وال کول، پورٹ قاسم، پلانٹس سے مہنگی ترین بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ شہباز نے مہنگے ترین پلانٹ لگائے جس سے قیمت بڑھ گئی۔ مسلم لیگ ن نے مجرمانہ کاروائیاں کیں۔ بغیر کسی معاشی منصوبے کے فیصلے کیے اور اِتنے بڑے قرضے لئے جن کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ گزشتہ دورِ حکومت میں جس طرح اِداروں سے کھلواڑہ کیا گیا اس کو بھی سامنے لانا ہے۔ احتساب کے عمل پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ ہم ڈاکوؤں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور گھر چلانے کے لئے قرض مانگ رہے ہیں۔ اور حکومت وہی کر رہی ہے جو گھر میں ڈاکا پڑنے کے بعد کیا جا تا ہے۔ ڈاکوؤں کی چیخیں آپ سن رہے ہیں۔ 

جناب فواد چوہدری نے اپنی پریس کانفرنس میں اَور بھی بہت ساری باتیں کی ہیں۔ اِن میں کتنی باتیں صحیح ہیں اور کتنی غلط، مسلم لیگ ن کی ترجمان ممبر قومی اسمبلی محترمہ مریم اورنگ زیب نے اِس کا جواب دیا ہے ۔اُن کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن پر الزامات غلط ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی محنت اور ایمانداری کا ثمر قوم کو ملا کیونکہ نواز شریف اور شہباز شریف نے مخالفت پر نہیں قوم کی تعمیر اور منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دی۔ جب کہ PTIحکومت کے جھوٹ اور نااہلی کی سزا قوم بھگت رہی ہے ۔حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لئے جھوٹ ، بہانے اور جواز نہ ڈھونڈے۔ یہ پہلی حکومت ہے جس نے 52دِن رونے، دھونے اور جھوٹ بولنے کے سِوا کچھ نہیں کیا۔ جھوٹی اور نااہل حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جا رہی ہے۔ اس نے پھر رونا اور جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔ یہ کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے دورِ حکومت کے دوران مہنگائی کی شرح اور پٹرول اور بجلی کی قیمتوں کو تاریخ کی کم ترین سطح پر یقینی بنایا۔ مہنگائی اور عوام کے درمیان حائل رہے اَور اُن کے ہٹتے ہی مہنگائی عوام پر آن گری۔ مریم 

اورنگ زیب نے مزید کہا کہ آج مسلم لیگ ن پر وہ الزام لگا رہے ہیں جو خیبر پختونخواہ میں ایک میگا واٹ بجلی بھی نہیں بنا سکے۔ مسلم لیگ ن کے دور کے 11000 میگاواٹ مکمل کردہ منصوبے نیب میں ضرور لے کر جائیں لیکن اپنے خیالی 1350ڈیمز کا جواب بھی تو دیں۔ قوم کو بتائیں کہ 70ارب روپے کا پشاور میٹرو کا نامکمل منصوبہ نیب میں کب لے کر جا رہے ہیں؟

جناب فواد چوہدری کے مسلم لیگ ن کی حکومت اور قیادت پر الزامات کے جواب میں مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب کی وضاحت بلکہ کسی حد تک جوابی الزامات اپنی جگہ اہم ہیں اَور آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم کچھ مزید نکات ہیں جن کو سامنے لایا جا سکتا ہے ۔جناب فواد چوہدری کا کہنا کہ شہباز شریف نے بجلی کے مہنگے یونٹ لگائے اِس میں کچھ حقیقت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے (جس میں شہباز شریف کا اہم کردار ہا ) اپنے پانچ سالا دور میں بجلی کی پیداوار میں 11000میگاواٹ کا اضافہ کیا جب کہ اس سے قبل ماضی کی حکومتوں کے ادوار میں سرکاری شعبے میں بجلی کی پیداوار میں ایک میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے اضافے کی منصوبہ بندی نہ کی جا سکی۔ اُلٹا نندی پور جیسے بجلی کی پیداوار کے منصوبے کی تکمیل میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں ایسی رکاوٹیں ڈالی گئیں کہ یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہی نہیں ہوا بلکہ اس کی لاگت میں بھی کتنے ہی اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا۔ شہباز شریف کو بجا طور پر یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اُن کی ذاتی دلچسپی، انتھک محنت، نگرانی اور لگن سے پنجاب میں سی پیک کے تحت بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کو انتہائی قلیل مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا اور ملک سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں کامیابی ہوئی۔ جہاں تک اِن منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کے مہنگا ہونے کا تعلق ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بجلی آئی ۔پی۔پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کی طرف سے فرنس آئل ( اور ڈیزل) کو بطورِ ایندھن استعمال کر کے پیدا کی جانے والی اور حکومت کو مہنگے داموں فروخت کی جانے والی بجلی کے مقابلے میں سستے داموں دستیاب ہے۔ اَور جیسے اُوپر کہا گیا ہے اِس کے حوالے سے قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا عذاب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ 

جناب فواد چوہدری بلا شبہ تحریکِ انصاف کے نوجوان اور پُر جوش ترجمان ہیں۔ لیکن وہ جوش و جذبے میں بعض اوقات ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو برسرِ زمین حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں اور سننے اور پڑھنے والے اُنہیں خندۂ استہزاء سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 14اکتوبر کو ملک میں قومی کی 11اور صوبائی اسمبلیوں کی 24نشستوں پر ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔ قومی اسمبلی کی 11نشستوں میں چار نشستیں وہ بھی شامل تھیں جو وزیر اعظم عمران خان نے خالی کیں تھیں۔ اس طرح صوبائی اسمبلیوں کی 24نشستوں میں جہلم سے پنجاب اسمبلی کی اُس نشست پر بھی انتخابات ہوئے جسے جناب فواد چوہدری نے خالی کیا تھا۔ اتوار کی رات کو ضمنی انتخابات کی نتائج سامنے آئے تو جہاں عمران خان کی خالی کردہ بنوں اور لاہور کی قومی اسمبلی کی دو نشستوں پرتحریکِ انصاف کی سب سے بڑی متحارب اور مخالف جماعت مسلم لیگ کے اُمیدواروں نے کامیابی کے جھنڈے ہی نہیں گاڑھے بلکہ فواد چوہدری کی خالی کردہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر بھی مسلم لیگ ن کا اُمیدوار کامیاب رہا۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخواہ میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں ANPاور مسلم لیگ ن اور پنجاب میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی بھی کچھ دوسری نشستیں مسلم لیگ ن جیتنے میں کامیاب رہی۔ بحیثیت مجموعی ضمنی انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکمران جماعت کو ضمنی انتخابات میں خاصا دھچکا لگا۔ بعض قومی اخبارات نے انتخابی نتائج کی بنیاد پر تحریک انصاف کو دھچکا لگنے کی شہ سُرخیاں بھی جمائیں۔ لیکن جناب فواد چوہدری کی عقل اور سمجھ کی داد دینی چاہیے کہ وہ یہ دُور کی کوڑی سامنے لے کر آئے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے ثابت ہو گیا کہ کراچی سے خیبر تک لوگ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر عوام کی طرف سے مسترد کیے جانے کو ساتھ کھڑا ہونا کہا جا سکتا ہے تو واقعی عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ورنہ حقیقت کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہی ہے کہ آپ کی اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست اور آپ کی پارٹی کے چیئرمین کی چھوڑی ہوئی قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر ووٹرز نے پورے عزمِ صمیم اَور اکثریت کے ساتھ آپ کے اُمیدوارون کو مسترد کر دیا ہے۔ جناب فواد چوہدری سے اِتنا کہا جا سکتا ہے کہ وہ بیان بازی اور اپنی حکومت کی ترجمانی کا اپنا مشغلہ جاری رکھیں لیکن اتنی مہربانی ضرور کریں کہ بیان دیتے ہوئے حقائق کا بھی خیال رکھ لیا کریں اور اِس کے ساتھ الزام تراشی اور دھمکیوں کے سلسلے کو بھی ذرا لگام دے دیں کہ اس سے قومی سیاست میں ٹھہراؤ پیدا ہوگا۔


ای پیپر