اقتدار کی خاطر سب حلال ہے
19 اکتوبر 2018 2018-10-19

پاکستان میں ضمنی الیکشن محض ایک آئینی خانہ پُری ہوتا ہے ۔ کیونکہ جو پارٹی بر اقتدار آ جاتی ہے سارا ووٹ اسی کو پڑتا ہے اس کی دو وجوہات ہیں جو دونوں میں منفی جمہوریت کی علامت ہیں پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ضمنی الیکشن کے حلقوں میں ترقیاتی سکیموں اور فنڈز کے منہ کھول دیئے جاتے ہین کہ ہمیں ووٹ دو اور علاقے کی تمام سڑکیں سیوریج صاف پانی سکول یونیورسٹی یہاں تک کہ نئے اضلاع تک بنانے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف تو ضمنی الیکشن کے جلسہ میں جا کر کہا کرتے تھے کہ میں یہاں خالی ہاتھ نہیں آیا فنڈز ریوڑیوں کی طرح بانٹے جاتے تھے اور بندر بانٹ کی عملی شکل دیکھنی ہو تو وہ ماضی میں ضمنی انتخابات کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ ضمنی الیکشن میں حکومتی کامیابی کی دوسری وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی انتخابی عملے اور ضلعی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے ۔ لیکن انتخابی اصلاحات کے بعد اب ضمنی انتخاب کے حلقے میں جا کر وزراء اور وزیر اعظم کے جلسے کرنے اور فنڈز کا اعلان کرنے پر پابندی ہے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی مرضی کے افسر مزکورہ ضلع میں لگائے جاتے تھے اس پر بھی پابندی عائد ہے ۔ لیکن ایک تیسری وجہ بھی کہ عوام کے اندر منفی سعور بلکہ عیاری چالاکی کی تفسیات اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایک معاشرتی رجحان جو کہ بالکل نیا ہے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ آپ کا امیدوار ہار جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا ووٹ ضائع ہو گیا ہیے یہ نہایت غلط سوچ ہے اس سوچ کا حامل ووٹر الیکشن کے موقع پر دونوں پارٹیوں کو وزن دیکھتا ہے اور جو پلڑا بھاری ہوتا ہے اس میں اپنا وزن ڈالتا ہے پہلے لوگ کمزور کا ساتھ دیتے تھے اب طاقتور کے ساتھ کھڑے ہونا پسند کرتے ہیں۔ گلی محلے کی سوچ یہ ہے کہ جیتنے والے کو ووٹ دیں گے تو وہ بعد میں ہمارے کام آئے گا ہمیں پٹواری اور تھانے دار کے ظلم و ستم سے بچائے گا ہمیں فنڈز دے گا نوکری لے کر دے گا وغیرہ وغیرہ ۔ 

حالیہ ضمنی الیکشن اس لحاظ سے بڑا منفرد تھا کہ اس میں پرانی روایات ختم ہو گئیں حکمران پارٹی دو مہینے پہلے جیتی جانے والی سیٹیں ہار گئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا خاص طور پر لاہور کے حلقہ 131سے جہاں عمران خان جیتے تھے ضمنی الیکشن میں وہ سیٹ خواجہ سعد رفیق نے تحریک انصاف سے چھین لی جس کی ظاہرہ وجہ تو یہ تھی کہ سعد رفیق کے مقابلے میں جو امیدوار کھڑا کیا گیا اس کا سیاسی قد کاٹھ اپنے مقابل کے برابر نہیں تھالیکن تحریک انصاف اپنے سیاسی خمار میں یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ کھمبا بھی کھڑا کر دیا تو عوام اسے ووٹ دیں گے یہ تھیوری غلط ہو گئی ڈیفنس جیسے امیر ترین علاقے میں عوام کو متاثر کرنا آسان نہیں ہوتا یہاں کی خواتین تحریک انصاف پر جان نچھاور کرنے میں مشہور تھیں لیکن ان کے جذبے سرد ہو گئے۔ ہمارے ہاں پرائیویٹ سیکٹر میں اعلیٰ سے اعلیٰ پروفیشنل کی تعیناتی کے وقت اس کی ہسٹری دیکھی جاتی ہے کہ وہ اب تک کتنی کمپنیاں بدل چکا ہے وہ اپنے پیشے کا جتنا چاہے بڑا کاریگر ہو اگر اپنے ادارے سے وفادار نہیں ہے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ زیادہ تنخواہ کی خواہش میں ہمیں بھی چھوڑ کر چلا جائے گا۔ مگر سیاسی پارٹیوں میں اس طرح کی assessment نہیں کی جاتی یہاں صرف ایک الیکشن کی جیت ہار کا مسئلہ ہوتا ہے اگلے الیکشن میں نئے سرے سے صف بندی کی جاتی ہے ۔ آپ کو بہت سے ایسے سیاستدان مل جائیں گے جو ہر الیکشن کے موقع پر نئی پارٹی میں ہوتے ہیں افسوس اس بات کا نہیں کہ وہ پارٹی کیوں بدلتے ہیں سانحہ یہ ہے کہ وہ جیت جاتے ہیں۔ 

یہ ضمنی الیکشن حکمران تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کہ صرف 2 ماہ کے عرصے میں رائے عامہ اس کے خلاف ہونا شروع ہو گئی ہے ۔ اس کی جو سب سے بڑی وجہ دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ جس عمران خان کو عوام اپنا نجات دہندہ بنا کرلے کر آئے تھے اس نے آتے ہی ملک میں مہنگائی کا ایک نہ تھمنے والا طوفان کھڑا کردیا ہے ۔ اس وقت پاکستان کی قومی سیاست میں پاکپتن کو بڑی اہمیت حاصل ہے جو بابا فرید شکر گنج کا شہر ہے بابا فریدؒ فرمایا کرتے تھے کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں مگر میں روٹی کو اسلام کا چھٹا رکن قرار دیتا ہوں۔ بابا جی نے یہ فلسفیانہ نقطہ جس مقصد کے لیے بھی پیش کیا ہو ایک عام آدمی کے لیے اس دور میں روٹی کو اسپنی بنیادی اور ناگزیر ضرورت کے معنوں میں لیتا ہے جب ہم روٹی کی بات کرتے ہیں تو اس میں تمام اشیائے خورو نوش اور روزمرہ ضروریات شامل ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی شخص پاکپتن سے محبت کا دعویٰ کرتاہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام الناس کی آسانی کی خاطر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ایک عام آدمی کی پہنچ سے دور نہ کر دے یہ بات بابا فرید کی روح خراشی کا باعث ہو گی۔ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی خراب کارکردگی کی وجہ مہنگائی اور ٹیکس تھے۔ 

کچھ دیگر وجوہات بھی ہیں جس کی بنا پر عوام کے دلوں میں بے چینی پھیل رہی ہے ۔اعلیٰ عہدوں کی تقسیم میں ذاتی تعلقات سے اپنا کام دکھا رہے ہیں مثال کے طور پر وزیراعظم کے ذاتی دوست زلفی بخاری اب ان کے مشیر ہیں حال ہی میں انہوں نے اپنے ایک اور دوست کے صاحبزادہ عالمگیر عرف چیکو کو اپنا مشیر سرمایہ کاری مقرر کیا ہے جو 40 سال سے ان کا دوست ہے وہ بھی برطانوی شہری ہے اور مالیاتی شعبے میں اچھی شہرت نہیں رکھتا تین بینکوں کا دیوالیہ ہے اور مالیاتی فراڈ میں برطانیہ میں جیل بھی کاٹ چکا ہے ۔ لیکن عمران خان پر جس تقرری پر آج تک سب سے زیادہ اعتراض ہوا ہے وہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ہیں اب جو خبریں آ رہی ہیں اس میں یہ سامنے آرہا ہے کہ عثمان بزدار کا پاکپتن کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور پنجاب کی پگ اس کے سر پر رکھنے کے فیصلے میں اصل لابنگ پاکپتن سے ہوئی ہے ۔ گویا اس وقت پاک وطن کے بارے میں سیاسی فیصلہ سازی میں پاکپتن کا ایک غیر اعلانیہ کردار موجودہے۔ عمران خان کی پاکستان کے بارے میں نیک نیتی پر شک نہیں ہے یہ درست ہے کہ انہوں نے وزیراعظم بننے سے لے کر اب تک ایک دن بھی چھٹی نہیں کی ۔ اخراجات میں کمی کی گئی ہے مگر اس طرح کے متنازع فیصلوں کی وجہ سے جو ان کی پارٹی کو اندر ہی اندر نقصان پہنچ رہا ہے یہ leaks بند کرنا بہت ضروری ہے ۔ 

ضمنی انتخاب کے حوالے سے تحریک انصاف کی ایک اور پالیسی ہے کہ یہ جس آزاد امیدوار سے شکست کھا جائیں اگلے ہی روز وہ ان کی پارٹی میں شامل ہو جاتا ہے یہ طریقہ پارتی کی پارلیمانی میں namerical برتری کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر اس حلقے میں پارٹی ورکرز کے جذبات کو ذبح کر دیا جاتا ہے ۔ ایک واقعہ یاد آ رہا ہے کہ ہمارے ایک دوست تھے مرغوں کی لڑائی ان کا بہترین مشغلہ تھا جس کے لیے وہ مہنگے سے مہنگا مرغا پالتے تھے اس پر طویل اخراجات کرتے تھے مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ جب لڑائی کے میدان میں ان کا مرغا شکست کھا جاتا تو وہ اسے اسی میدان میں ذبح کر دیتے تھے۔ تحریک انصاف نے ہر آزاد امیدوار کو جس نے پارتی کو شکست دی ہوتی ہے اگلے روز عمران خان اس کے گلے میں پی ٹی آئی کا پٹہ پہنا دیتے ہیں حلقہ پی پی 118 گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے اسد زمان چیمہ زبردست مقابلے کے بعد آزاد امیدوار بلال وڑائچ سے ہار گئے جس پر جعلی ڈگری کا کیس بھی بنا ہوا ہے ۔ اگلے روز بلال وڑائچ نے بنی گالہ جا کر عمران خان سے ملاقات کی اور تحریک انصاف کا پٹا پہنائے جانے کی تقریب ہوئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسد زمان چیمہ نے 36000 ہزار ووٹ لیے ہیں اور پی ٹی آئی کے ہر گلی محلے میں لوگوں نے اس کا ساتھ دیا ہے اور بلال وڑائچ کی ذاتی مخالفت تک مول لی ہے مگر ان کے ساتھ مذاق یہ ہے کہ اب وہ سارے لوگ بیک جنبش زبان پی ٹی آئی سے باہر اس لیے ہو گئے ہیں کہ اب گوجرہ میں پی ٹی آئی بلال وڑائچ کے ساتھ ’’نکاح ثانی‘‘ marriage of convenience کر چکی ہے ۔ ویسے تو ہم ملک میں لوٹا کریسی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں مگر اس طرح کے موقع پرست فیصلوں سے ملکی سیاست میں لوٹا سازی کو فروغ ملے گا۔ اس دزمان چیمہ کو یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس فیصلے میں ان سے نہیں پوچھا گیا مگر انہیں یاد ہونا چاہیے کہ یہ تو شاہ محمود قریشی کے ساتھ بھی ہو چکا ہے کہ صوبائی سیٹ پر شاہ محمود کو ہرانے والے آزاد امیدوار کو تحریک انصاف نے بہ خوشی قبول کیا ریس کے گھوڑوں پر رقم لگانے کا یہ کھیل تحریک انصاف کو لے ڈوبے گا۔


ای پیپر