تھر: ’’لوگوں کی تذلیل سے تسکین لینے والے‘‘
19 اکتوبر 2018 2018-10-19

پانی کی تقسیم ، تھر کا قحط اور ریلوے نظام اخبارات کا خاص موضوع رہے۔ پانی کی تقسیم کے حوالے سے اخبارات میں مختلف مضامین شائع ہورہے ہیں اور دلیل دی جارہی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ سندھ کے حق میں نہیں تھا۔ماہر آبپاشی ادریس راجپوت نے ایک مضمون میں سوال کیا ہے کہ کیا بھاشا ڈیم سندھ کی معاشی ضرورت ہے؟ تھر میں قحط سالی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میڈیا میں ہی نہیں بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔قحط سالی کا ازخود نوٹس لینے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے تھر کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔ گزشتہ اتوار کو متوقع دورے کی وجہ سے سندھ حکومت اور ضلع انتظامیہ پریشان ہو گئی۔ فوری طور پر بعض ڈاکٹروں کے تبادلے کئے۔ مٹھی کے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال کی صفائی کی ۔ اخبارات نے چیف جسٹس کی بعض مسائل کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے مضامین اور اداریے لکھے۔ اور تھر کے قحط کا مستقل حل تلاش کرنے پر زور دیا۔ اخبارات کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت کے پاس گنوانے کے لئے صرف آر او پلانٹس ہیں۔ان میں سے بیشتر نہیں چل رہے ہیں۔آر او پلانٹس لگانے اور چلانے کا ٹھیکہ ایک خاص کمپنی کو دیا گیا ہے، جس سے حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں کی تعلق داری ہے۔ میڈیا میں مسلسل یہ رپورٹ ہورہا ہے کہ امدای گندم اور مویشیوں کے لئے چارے کی تقسیم تاحال موثر طور پر نہیں کی جاسکی ہے۔ جبکہ غریب لوگوں کی اکثریت روزگار کی تلاش میں صوبے کے بیراج علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں، جس طرح سے گندم تقسیم کی جارہی ہے اس پر ایک اخبار نے تبصرہ کیا ہے کہ تھر میں لوگوں کی تذلیل سے تسکین حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سندھ کے اخبارات میں قومی سطح کے امور بھی زیر بحث رہے۔ اخبارات کے مطابق عوام نے ضمنی انتخابات میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ تبدیلی کے نعرے سے قائم ہونے والی حکومت عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتری ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عام آدمی پر اس کی حیثیت سے زیادہ بوجھ بڑھے گا۔ ایک طرف انہیں بجلی کا اضافی بل ادا کرنا پڑے گا، دوسری طرف اشیائے صرف کی قیمتوں میں بجلی کے نرخ بڑھنے سے اضافہ ہو گا وہ بھی عام شہری کو بھرنا پڑے گا۔صوبے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ملازمتوں اور ان کی تنخواہوں کا مسئلہ گزشتہ آٹھ سال سے  

چل رہا ہے۔صحت کے اس شعبہ کی کارکنان گزشتہ برسوں کے دوران متعدد بار احتجاج بھی کر چکی ہیں۔جس کے دوران ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور گرفتاریاں بھی کی گئیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کو 2012 میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی مستقل نہیں کیا گیا، لیکن سندھ حکومت ان کے بقایاجات اور ڈفرنس دینے کے لئے تیار ہو گئی ہے۔ پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں ان کی تنخواہ ریگیولر کرنے کے لئے کمپیوٹرائزڈ آئی ڈی الاٹ کی گئی ہے۔لیکن ہر ضلع میں آئی ڈی اوپن کرانے کے لئے 15 سے 20 ہزار روپے طلب کئے جارہے ہیں۔ ایک بار پھر لیڈی ہیلتھ ورکرز احتجاج پر اتر آئی ہیں۔ محکمہ صحت کے بارے میں یہ خبر زیر بحث ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اربوں روپے کی ادویات سپلائی کرنے والی 80 کمپنیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا گیا ہے۔ 

’’عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرانے والا محکمہ ریلوے‘‘ کے عنوان سے روزنامہ کاوش اداریے میں لکھتا ہے کہ دنیا بھر میں ریلوے آرام دہ اور سستا سفر مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ریلوے کا نظام ترقی کر رہا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ریلوے کو ہاتھوں سے تباہ کیا جارہا ہے۔ ریلوے اسٹیشن بند اور ٹرینوں کے اسٹاپ ختم کئے جارہے ہیں۔ انگریزوں کے دیئے ہوئے ریلوے نظام میں ترقی یا توسیع دور کی بات اس کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ اقدامات لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو منافع کے مواقع فراہم کرنے کے لئے اٹھائے گئے ہیں۔ آج یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ریلوے کا پورا نظام پٹری سے اتر چکا ہے۔ ریلوے ٹریک پر حادثات معمول بن چکے ہیں جس میں درجنوں انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ حد ہے کہ ریلوے کراسنگ پر پھاٹک موجود نہیں۔ کہیں ریلوے پھاٹک موجود ہیں وہاں گیٹ کیپر غیر حاضر ہیں۔ حال ہی میں ٹنگوانی کے قریب خادم لاشاری ریلوے پھاٹک پر ایک حادثہ پیش آیا۔ جس میں آٹھ خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے دس افراد اجل کا شکار ہو گئے جبکہ سات افراد زخمی بھی ہوئے۔ حادثہ گیٹ پر پھاٹک موجود نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔ 

ریلوے کی ملک بھر میں خاص طور پر سندھ میں حالت خراب ہے۔ کئی ریلوے اسٹیشن بند اور متعدد اسٹاپ ختم کردیئے گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ محکمہ ریل صرف ایک ہی صوبے کو سفری و ٹرانسپورٹ کی سہولیات مہیا کرنے کے لئے چل رہا ہے۔ صوبے میں متعدد مقامات پر پھاٹک موجود نہیں، اور اسی طرح سے کراسنگ پر گیٹ موجود نہیں۔ پھاٹک اور کراسنگ پر گیٹ لگانا ضروری ہوتا ہے لیکن محکمہ ریل کی مجرماہ غفلت کی وجہ سے انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ پنجاب میں ایک اسکول کی وین کا ریلوے کراسنگ پر حادثے کے بعد سپریم کورٹ نے ملک بھر میں کراسنگ پر پھاٹک تعمیر کرنے اور وہاں گیٹ کیپر مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ لاتعداد ایسے ریلوے کراسنگ ہیں جہاں پر پھاٹک موجود نہیں۔ ٹنگوانی کا حادثہ پہلا واقعہ نہیں۔ 20015 میں حیدرآباد کے قریب پلیجانی کے مقام پر پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے گرین لائن ٹرین نے وہاں سے گزرنے والی کار کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ 

محکمہ ریلوے کی نااہلی ،عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود محکمہ ریلوے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے لئے تیار نہیں۔ 

’’چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا احسن فیصلہ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے صوبے میں کام کرنے والی تیل اور گیس کمپنیوں سے ملازمین کے ڈومیسائل اور ترقیاتی اخراجات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ جسٹس احمد علی شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صورت حال یہاں تک جا پہنچی ہے کہ ان کمپنیوں کو مولویوں کی بھرتی کے لئے بھی سندھ سے باہر کے لوگ چاہئیں۔ ایسی صورت حال نہ پیدا کی جائیں کہ صوبے کی آنے والی نسلیں بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس صوبے کے مختلف اضلاع میں تیل اور گیس کی سرکاری اور نجی کمپنیوں کی جانب سے علاقے کی ترقی کے لئے فراہم کئے گئے فنڈز، اس کے اخراجات اور مقامی لوگوں کو روزگار دینے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ درخواست گزاروں نے شکایت کی کہ تیل کمپنیاں ترقیاتی فنڈز کے استعمال اور مقامی لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنیوں کو عام لوگ نہیں وڈیرے، سردار اور بھوتار چاہئیں۔ 

تیل اور گیس کمپنیوں میں مختلف اسامیوں کے لئے مطلوبہ اہمیت رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے آتے ہیں ، لیکن کمپنیاں ان کے بجائے باہر کے لوگوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ ہم چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے ان ریمارکس کی تعریف کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ سندھ ہائی کورٹ لوگوں کو روزی کمانے کے حق کا تحفظ کرے گی۔ 


ای پیپر