پانی کا بحران ، بد سے بد تر کی طرف 
19 اکتوبر 2018 2018-10-19

الحمد اللہ پاکستان کو اس کے جغرافیائی وسائل اور حیثیت نے خطّہ کے با اثر ممالک میں سے ایک بنا دیا ہے۔ لیکن دوسری طرف پانی کے وسائل میں عدم مساوات اور خود مختاری کے معاملے میں صورتِ حال اس کے بر عکس ہے۔ آنے والے دنوں میں ملک کو در پیش خطرات میں پانی کی شدید کمی کا بحران سرِ فہرست ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق 2025تک پاکستان پینے کے ساتھ ساتھ ذرائع آبپاشی کے لیے بھی پانی کے بحران کا سامنا کر سکتا ہے۔ اگر اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو 2040تک تمام زیرِ کاشت اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورت حال میں دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلا ہمارا اندرونی بندوبست اور دوسرا بھارت کا پاکستان مخالف ایجنڈا، بیک وقت ان دونوں پہلوؤں سے خوش اسلوبی اور دانشمندی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ 

اس معاملے کو گہرائی میں سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی میں جھانکنا ہو گا۔اس تمام صورتِ حال کا سہرہ دو ممالک کی حدود متعین کرنے والے ریڈ کلف کمیشن کے سر ہے۔ آزادی کے وقت تمام چھ بڑے دریاؤں کا منبع ہندوستان تھا۔ یعنی بھارت جب چاہتا پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ کو روک سکتا تھا۔تکنیکی اعتبار سے آبی وسائل میں بھارت بالا ئی اور پاکستان زیریں ریاست بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ بینک کے مداخلت کر کے ثالثی کرنے تک دونوں ممالک میں پانی کی تقسیم کا تنازعہ جاری رہا۔ طویل غور و خوض کے بعد 1960میں پنڈت جواہر لعل نہرو اور جنرل ایوب خان سندھ طاس معاہدہ پر متفق ہو گئے۔ اس معاہدہ کے تحت مشرقی دریا ، راوی، ستلج اور بیاس ہندوستان جبکہ مغربی دریا جہلم، چناب اور سندھ پاکستان کے حصے میں آگئے۔ 1960سے 1999تک یہ معاہدہ مؤثر رہا لیکن جب یہ معاہدہ آبی سیاست کی نظر ہوا تو بھارت نے اسے سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اس معاہدہ کی پہلی خلاف ورزی 1999میں بگلیہار ڈیم کی تعمیر کی صورت میں سامنے آئی اس حوالے سے انڈس واٹر کمیشن کے طویل مذاکرات بھی بے سود ثابت ہوئے۔ 2016میں نریندر مودی نے انڈس واٹر کمیشن کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کے سود مند نکات پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ مودی نے تبصرہ کیا کہ 

’’ پانی اور خون ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘۔ 

حالیہ برسوں میں ہندوستان نے کشن گنگا ، ساولکوٹ اور ریتل ڈیم تعمیر کیے جنہوں نے مل کر چناب اور جہلم میں پانی کی فراہمی کو متاثر کیا۔ حالانکہ یہ اقدامات مندرجہ ذیل عالمی کنونشنز کی صریحاًخلاف ورزی تھے

1۔اقوامِ متحدہ کا چارٹر

2۔عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ

3۔شہری اور سیاسی انسانی حقوق کا معاہدہ

4۔اقوامِ متحدہ کا آبی وسائل کنونشن

5۔اعلامیہءِ سٹاک ہوم 

پاکستانی دریاؤں کی آبی خلاف ورزیوں کے علاوہ بھارت نے راوی ستلج اور بیاس میں بھی پانی میں رکاوٹ ڈالی۔ یہ اضافی پانی بھارت بجلی کی پیداوار اور زرعی استعمال میں لا رہا ہے۔ بھارت نے حکمتِ عملی کے تحت اس پانی کا بہاؤ بھارتی پنجاب اور ہریانہ کی طرف موڑ دیا۔ بھارت کا یہ اقدام پاکستانی پنجاب کی زراعت کو تباہ اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو کم کرنے کا باعث بنا۔ 2018تک ورلڈ بینک پاکستان کے تحفظات کے ازالے میں افسوس ناک حد تک ناکام رہا ہے۔ جبکہ اقوامِ متحدہ بھی اس ضمن میں بھارت پر مؤثر دباؤ ڈالنے میں ناکام ہے۔ ایسا لگتا ہے اس مسئلہ کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘کے اصول پر کاربند نظر آتی ہے۔ برابری کے تحت اگر دوسری طرف دیکھیں تو جہاں بھارت تفصیلاً ہر منٹ پر غورو فکر کر کے اپنے ہمسایہ ملک کے خلاف عملی طور پر سفارتی محاذ قائم کیے ہوئے ہے، وہیں پاکستانی حکومت آنے والی دہائیوں کی تباہی سے صرفِ نظر کر کے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے۔ اندرونی طور پر پاکستان صورتحال کی نزاکت کا ادراک نہیں کر سکا۔ بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھانے ،اور اس بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان حکمتِ عملی وضع کرنے میں تاحال ناکا م رہا ہے۔ آبی وسائل اور ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ پاکستان میں سیاست کی نذر ہوچکا ہے۔ کالا باغ اور دیامر بھاشا ڈیم منصوبوں کو بار بار متنازعہ بنایا گیا۔ ضروریات کے مطابق بجلی کے پیداواری منصوبوں اور پانی کے ذخیرے کے لیے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے آج تک سیاسی جماعتیں کوئی قابلِ عمل اور قابلِ قبول حل تجویز نہیں کر پائیں۔ نہ ہونے کی بہ نسبت بدیر ہی سہی، چیف جسٹس پاکستان نے ڈیم کی تعمیر کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے فنڈ جمع کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا ہے۔ معاشی ماہرین کے نزدیک قومی مفاد کی ایسی چندہ مہم کی مثال دیگر اقوام میں سننے کو نہیں ملتی۔ اب وقت بتائے گا کہ یہ مہم کس قدر سود مند ثابت ہوتی ہے۔ 

خوش آئند بات یہ ہے کہ نئی آنے والی موجودہ حکومت نے آنے والے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور مالی منصوبہ تیار کر لیاہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پانی کا استعمال کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا صارف ہے۔ پاکستان اپنے علاقوں میں آنے والے پانی کا صرف 7فیصداستعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ بھارت 30فیصد پانی زیرِ استعمال لانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اسی طرح تقریباً 10ملین ایکڑ فٹ پانی بھارت روک لیتا ہے، مجموعی طور پر یہ قابلِ تشویش صورتِ حال ہے۔ 

جیسا کہ پیشتر بھی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ آنے والے پانی کے بحران کے متعلق عوام کو تفصیلاًآگاہ کیا جانا چاہیے۔ قانونی جنگ لڑنے کے لیے عالمی برادری میں اس معاملہ کو مؤثر انداز میں اٹھایا جا نا چاہیے لیکن ظاہر ہے اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونے کی توقع نہیں ہے۔ بھارت نے ایک ماہر کھلاڑی کے طور پر اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں نشست حاصل کی ہے۔ عالمی قوتوں نے بھارت جیسے ملک کو نوازنے کے لیے نا مناسب طریقے اپنائے ہیں۔ پاکستان کے لیے دوسرا حل چین سے شراکت داری کا ہے۔ جیسے انڈیا پاکستان سے پانی کے بہاؤ کے لحاظ سے بالائی ملک ہے اسی طرح چین نڈیا سے بالا ہے۔ آسام اور ارونا چل پردیش کو سیراب کرنے والے دریا براہما پترا سے نکلتے ہیں، جس کا نقطہءِ آغاز چین میں ہے۔ چین نے بھارت کی طرف بہنے والے کچھ دریاؤں کے بہاؤ کو روک دیا ہے۔ کیونکہ ان دریاؤں کے پانی کے استعمال کے حوالے سے کسی ملک کے ساتھ کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ آخر میں ناپسندیدہ ہی سہی لیکن اگر یہ بحران اندرونی یا بیرونی کوششوں سے حل نہیں ہوتا تو آخری حل جنگ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ کیا عالمی برادری دو ایٹمی طاقتوں کے مابین ایٹمی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ جیسے کہ ایک فلسفی نے کہا تھا کہ ’’ہم کچھ انتخاب کرنے میں آزاد ہیں، لیکن اس انتخاب سے بر آمد ہونے والے نتائج سے آزاد نہیں رہ سکتے‘‘۔

(مضمون نگار جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئر مین ہیں)


ای پیپر