’’ می ٹو‘‘ سے ’’یو ٹو‘‘ مہم تک۔۔۔؟؟
19 اکتوبر 2018 2018-10-19

بھارت کی ’’ می ٹو ‘‘ کے مقابلے میں پاکستان میں ’’ یو ٹو ‘‘ مہم چل رہی ہے اور اس کی ’’نمائش‘‘ بڑی کامیابی سے جاری ہے ۔۔۔ اخبارات کی قیمت میں اضافہ ہونے سے ’’فیس بک‘‘ اور دوسرے سوشل میڈیا پر پہلے سے کہیں زیادہ ’’بوجھ‘‘ پڑ گیا ہے ایسی ایسی خطرناک وڈیو کلپس آ رہے ہیں کہ ’’اللہ کی پناہ‘‘ ۔۔۔ کامونکی کے مولوی صاحب کے خطاب کی ڈبنگ اور پھر اُس پر خواتین کی اداکاری ۔۔۔ توبہ ۔۔۔ کس قدر شریر ہیں یہ آج کے نوجوان ۔۔۔ مجھے لگتا ہے عنقریب کوئی بڑا ادارہ جو پہلے سے ہی نوجوانوں کو یہ کہہ کر ڈراتا چلا جا رہا ہے کہ ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ ۔۔۔ اور نوجوان پریشان ہیں کہ پہلے ہی ٹھیک طرح سے برگر پیپسی کھانے کی وجہ سے نہیں آ سکی ۔۔۔ اگر بقول عالم لوہار یہ جوانی تھوڑی بہت ادھر اُدھر ہو گئی تو پھر تو واقعی نہیں آنی ۔۔۔ یہ مزاحیہ فلمیں بنانے والا ادارہ ننھا، منور ظریف، علی اعجاز وغیرہ کے بعد کامونکی کے مولوی صاحب کے حوالے سے بھی امید ہے جلد ایک قہقہوں سے بھرپور فلم ریلیز کرے گا اور پھر آپ کو پتہ ہے ایسی فلمیں Trend Setter ہوتی ہیں اور ہمارے ہاں ویسے بھی بھیڑ چال چلتی ہے جیسا کہ دنیا بھر میں خاص طور پر بھارت میں فلمی حلقوں یا شوبز کے حلقوں میں ’’ می ٹو ‘‘ یعنی پرانے کرتوتوں پر مشتمل ایک تحریک چل رہی ہے بڑے بوڑھے بھی منہ چھپاتے اور خود ہی اپنے کئے پر پریشان و پشیمان ہیں ۔۔۔ ادھر امیتابھ بچن اور انو ملک بھی ’’ می ٹو ‘‘ میں قابل گرفت سمجھے جا چکے ہیں سیف علی خان اداکار نے بھی کچھ خوفناک باتیں کی ہیں ۔۔۔ بڑے بڑے سلجھے ہوئے فنکار بھی ’’ می ٹو ‘‘ کی گرفت میں ہیں ادھر پاکستان میں میاں شہباز شریف کے پارلیمنٹ میں خطاب کے بعد حالات مزید سنجیدگی اختیار کر چکے ہیں ۔۔۔ ’’ می ٹو ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’ یو ٹو ‘‘ مہم پر بھی لوگ چہ میگوئیاں کر رہے ہیں اور پریشانی کا اظہار بھی ۔۔۔؟! حکومت وقت دن بدن سنجیدہ ہوتی چلی جا رہی ہے سو دن پورے ہونے کو ہیں اُمید ہے سب سے پہلے پچاس لاکھ گھروں والے پراجیکٹ پرکام شروع کر کے عمران خان مخالفوں کا منہ بند کرنے کی سنجیدہ کوشش کرئے گا ۔۔۔؟!

’’آدھا کلو میٹر واک کی ہے کچھ کمزوری سی محسوس ہو رہی ہے آؤ دو اڑھائی کلو مچھلی کھا لیں‘‘ ۔۔۔ صنوبر خان کی یہ فرمائش مجھے بری نہ لگی کیونکہ میں خود بھی تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا اور گر نہ پڑوں ۔۔۔ یہ سوچ کر ڈر رہا تھا۔ ہم دونوں مشہور زمانہ مچھلی فروش (جو شاید کانوں سے بہرہ اور گونگا بھی ہے) کی دوکان پر پہنچ گئے ۔۔۔ دو اڑھائی سو کے قریب لوگ مچھلی کھا رہے تھے ایک داڑھی والے صاحب ایک بڑی سی خالی میز پر بیٹھے مچھلی ’’ادھیڑ‘‘ رہے تھے۔ ہم دونوں نے اندازہ لگایا کہ مچھلی دو کلو سے زیادہ ہے ’’صنوبر خاناں لگتا ہے اس کے دو تین اور مہمان بھی آئیں گے اکیلا تلی ہوئی مچھلی کا یہ پہاڑ ’’بیچارہ‘‘ کیسے کھائے گا اس دوران وہیں ایک میز پر سے کھانے والے اٹھے اور ہم اس پر قابض ہو گئے۔ ہم نے مچھلی منگوائی۔ پندرہ بیس منٹ بعد مچھلی آئی اور ہم نے اس بیچاری مچھلی کے ساتھ جو کیا، یہ آپ آنکھیں بند کر کے خود اندازہ لگا لیں۔ اُدھر نہ دوست، نہ کوئی سنگی ساتھی آیا۔ وہ شخص اکیلا ہی ساری کی ساری مچھلی کھا گیا اور بوتل پیتا ہوا بڑی بڑی ڈکاریں مارتا گاڑی پر بیٹھ کر ادھر اُدھر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ شاید مچھلی معدے سے دماغ کی جانب سفر کر رہی تھی؟ ۔۔۔

جس کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے

اس کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

مچھلی کھانا بھی ایک ہنر سے کم نہیں ورنہ گلے میں کانٹا اٹک جائے تو اچھا بھلا آدمی لٹک جاتا ہے۔ صنوبر خان نے اپنے ایک دوست مجمل کا واقعہ سنایا ۔۔۔ چوہدری مجمل کی دشمنی چل رہی تھی پرانی دشمنی کا مزہ کیا کہنے؟ خان بتاتا ہے کہ چوہدری مجمل کے دشمن اس سے لڑنے آئے تو چوہدری دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا۔ حسب توفیق دو اڑھائی کلو تلی ہوئی مچھلی چپل کباب اور سب کچھ جو موجود تھا۔ دشمن جو لڑائی کی غرض سے آئے تھے سر پر آ چڑھے ۔۔۔ چوہدری مجمل نے ایک پندرہ کلو کی ڈکار لی ۔۔۔ دو تین انگڑائیاں لیں اور گھٹی گھٹی آواز میں بولا ۔۔۔ ’’دشمنو ۔۔۔ جاؤ موج کرو ۔۔۔ ہن میں روٹی کھا لئی اے، یعنی اب میں نے خوب کھا لیا ہے، کھا کھا کے بے سدھ ہو گیا ہوں‘‘ ۔۔۔؟

مجھ پر غنودگی برس رہی ہے۔ آنکھیں بند ہو جانے کو ترس رہی ہیں لہٰذا مجھے معاف کر دو ۔۔۔ مجھے لیٹنے دو، مجھے سونے دو ۔۔۔ ایسے ہی شاید جنرل یحییٰ خان اور جنرل نیازی نے کیا ہو گا اور وہی جنرل جو کہتا تھا Dhaka will fall on my dead body یعنی دشمن میری لاش سے گزر کر کامیابی حاصل کرے گا۔ اور جب دشمن قابض ہو گیا تو جنرل نیازی بقول بریگیڈئر صدیق سالک شہید، اس وقت پلیٹ میں رکھے شامی کباب کھا رہا تھا جو اس کی من پسند خوراک تھی ۔۔۔ یقیناًاس وقت جنرل یحییٰ اور جنرل نیازی نے اپنی اپنی جگہوں پر دشمن کو یہی کہا ہو گا ۔۔۔ ’’دشمنو جاؤ موج کرو، ہن اسی شامی کباب ٹھونس لئے نے‘‘ ۔۔۔ اور یہ ثقیل قسم کی غذا معدے سے سیدھی دماغ میں داخل ہو چکی ہے قابض ہو چکی ہے۔۔۔ اصل میں ’’ می ٹو ‘‘ تحریک پاکستان میں بھی کام دکھا چکی ہے علی ظفر گلو کار بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں لیکن معاملہ چونکہ عدالت میں چلا گیا اس لئے ۔۔۔ ’’ہم بھی چپ ۔۔۔ عوام بھی چپ‘‘ ۔۔۔؟! ویسے الزام لگانے والی اداکارہ بھی چپ ہی ہیں میری ذاتی رائے میں ایسی باتیں نہیں اچھالنی چاہیں کیونکہ گڑھے مردے اکھاڑنے سے نئی ’’بے ہودہ‘‘ روایات جنم لینے لگتی ہیں ۔۔۔؟

میرے خیال میں یہ سب معاملات ایسے ہی شور شرابے کے لیے اٹھتے ہیں اور پھر جب لوگ انجوائے کر لیتے ہیں تو جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن ایسی ’’بری‘‘ حرکتوں کے اثرات سالوں تک محسوس ہوتے ہیں۔۔۔؟!

خاص طور پر جب سے فیس بک اور سوشل میڈیا نے عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے ۔۔۔ رسم و رواج روایات اور سوچنے سمجھنے غور کرنے کا انداز ہی بدل چکا ہے۔ جناب احمد ندیم قاسمی کی ایک نظم کہیں سے ملی ہے جو اُنھوں نے اپنے مخصوص انداز میں پڑھی تھی آپ بھی ملاحظہ کریں۔۔۔؂

زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پر بند ہیں

دیکھنا حدِ نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے

سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر 

سوچنا بھی جرم ہے

آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر

جھانکنا بھی جرم ہے

’’کیوں‘‘بھی کہنا جرم ہے 

’’کیسے‘‘ بھی کہنا جرم ہے

سانس لینے کی تو ’’آزادی‘‘ میسر ہے مگر 

زندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے

اور اس ’’کچھ اور بھی‘‘کا تذکرہ بھی جرم ہے

اے ہنر مندانا8 آئین و سیاست

اے خدا وندان ایوانِ عقائد

زندگی کے نام پر بس اک عنائت چاہئے

مجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہئے!


ای پیپر