فوٹوبشکریہ فیس بک

'ایل این جی معاہدے پاکستانی معیشت پر بھاری ہیں، معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرینگے'
19 اکتوبر 2018 (09:41) 2018-10-19

اسلام آباد: انصاف سرکار نے اعلان کیا کہ اگر ایل این جی ٹرمینل آپریٹرز کو پاکستان میں کاروبار کرنا ہے تو انہیں معاہدوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔

وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ بغیر سوچھے سمجھے عجلت اور مایوسی میں کیے جانے والے این ایل جی ٹرمینل کے معاہدوں کے باعث ملکی معیشت سخت دباؤ کا شکار ہے۔ نیب اور دیگر ادارے قطر کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی چھان بین کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے واضح کر دیا کہ معاہدے میں باہمی سمجھوتے کے تحت نظر ثانی کی شق موجود ہے جبکہ حکومت دیگر آپشنز کا بھی استعمال کرسکتی ہے۔ وفاقی کابینہ نے گزشتہ دورِ حکومت میں دیئے جانے والے این ایل جی ٹرمینل آپریٹرز کے ٹھیکوں پر دوبارہ مذاکرات کرنے کی منظوری دیدی۔

وزیر پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی میز پر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مذاکرات بے ثمر رہے تو دوسری صورت میں متعلقہ ادارے اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد بدعنوانی ریفرنس بھی دائر ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ حکومت نے این ایل جی کے 3 معاہدے کیے جس میں قطر کے ساتھ معاہدہ بھی شامل ہے۔


ای پیپر