Joe-Biden,US President,US Election 2020
19 نومبر 2020 (15:26) 2020-11-19

بالآخر ایک طویل اعصابی اور تنائو سے بھرپور جنگ جیسی انتخابی مہم کے بعد امریکہ نے جوبائیڈن کو اپنا 46واں صدر منتخب کرلیا ہے۔ بلاشبہ یہ فتح جوبائیڈن کے ساتھ ساتھ اُن سب نظریات کی فتح ہے جو موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پھیلائی گئی نفرت، تعصب اور نسلی امتیاز پر مبنی تھے۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ برسراقتدار آنے کے بعد کیا کرتے ہیں؟ ان کی ترجیحات کیا ہونگی؟ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کیساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا۔ باقی دنیا کے معاملات جو ٹرمپ بگاڑ چکے ہیں، ان کا کیا ہوگا؟ 

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے توطویل عرصے تک امریکی سینیٹر رہنے والے نومنتخب صدرجوبائیڈن بارک اوباما کے دور میں نائب صدر بھی رہے۔ وہ طویل عرصے سے سیاست میں ہیں اور پاکستان کے دو بار دورہ بھی کر چکے ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں کے دوران ان کے پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کے ساتھ براہ راست رابطے رہے ہیں اور وہاں سول ملٹری عدم توازن کے مسئلے سے بخوبی واقف ہیں۔  انہوں نے2008 اور2011 میں پاکستان کا دورہ کیا۔ انھوں نے 2011 میں اس وقت کے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتیں کی تھیں۔ سال2008  میں جوبائیڈن نے پاکستان کیلئے اربوں ڈالر کی امداد کا پیکج تیار کیا۔ اسی سال انہیں پاکستان کی مسلسل حمایت پر ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے پاکستان کیلئے1.5 بلین ڈالر غیر فوجی امداد کی حمایت کی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نومنتخب صدر پاکستان اور کشمیریوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ بائیڈن نے بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کی مذمت کی اور مظلوم عوام کے حقوق کی بحالی مطالبہ بھی کیا تھا۔بھارت کی جانب سے5 اگست کے اقدام کے بعد بائیڈن نے کہا تھا کہ’کشمیری عوام کے حقوق کی بحالی کیتمام ضروری اقدامات اٹھانے چاہئیں‘۔جوبائیڈن خارجہ امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور معاملات کو بات چیت سے سلجھانے کا فن بھی خوب جاتے ہیں۔ وہ 1973 میں امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور وہ اس وقت ملکی تاریخ کے پانچویں کم عمر ترین سینیٹر تھے۔

 اپنی فتح کے بعد نو منتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابی ٹیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ان کی ٹیم نے ان کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ امریکی شہریوں کی ٹیسٹنگ میں اضافہ کریں گے اور تمام افراد سے ماسک پہننے کا مطالبہ کیا جائے گا۔وہ کہتے ہیں کہ جو بائیڈن معیشت، نسلی تعصب اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق بائیڈن کے منصوبوں میں کئی صدارتی حکم نامے شامل ہوں گے۔ یہ حکم نامے صدر کی جانب سے وفاقی حکومت کو پیش کیے جاتے ہیں اور انھیں کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بائیڈن کے ان حکم ناموں کا مقصد ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں کو بدلنا ہوگا۔بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کو دوبارہ پیرس معاہدے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ امریکہ سرکاری سطح پر بدھ سے پیرس معاہدے سے الگ ہو چکا ہے۔وہ عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کے امریکی فیصلے کو بھی الٹنا چاہتے ہیں اور سات مسلم اکثریتی ممالک پر سفری پابندیاں ختم کرنا چاہتے ہیں۔بائیڈن کے مطابق وہ اوباما کے دور کی اس پالیسی کو بحال کردیں گے جس کے تحت بغیر دستاویزات امریکہ داخل ہونے والے بچوں کو تارکین وطن کا درجہ دیا جائے گا۔ اپنی پہلی تقریر میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ کی ’صحتیابی‘ کا وقت ہے۔ انھوں نے ملک کو ’منقسم کرنے کے بجائے متحد کرنے‘ کا وعدہ کیا ہے۔ انھوں نے ٹرمپ کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں اپنے حریف کو دشمن سمجھنا چھوڑنا ہوگا۔‘

بائیڈن  سیاہ فام اور دیگر اقلیتوں کے لیے سستے گھروں کا منصوبہ متعارف کرانا چاہتے ہیں اور ان سے منصفانہ سلوک اور تنخواہ کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کا مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نسل کی سطح پر مختلف افراد میں دولت کے فرق کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔بائیڈن چاہتے ہیں کہ پولیس قانون نافذ کرنے کے لیے پْرتشدد واقعات میں حصہ نہ لیں اور اس کے لیے وہ قومی سطح پر پولیس کی نگرانی کا ایک کمیشن قائم کرنا چاہتے ہیں۔وہ امریکہ میں قیدیوں کی آبادی کم کرنا چاہتے ہیں اور ان کی بحالی پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ’ہمارا نظام عدل اس وقت تک منصفانہ نہیں ہوسکتا جب تک اس میں نسل، جنس اور تنخواہ کی بنیاد پر تفریق ختم نہ کی جاسکے۔‘

بائیڈن کی جیت پرپورے یورپ میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ یورپ کو ٹرمپ جیسے صدر کے ساتھ پچھلے 4سال میں بہت مشکلات پیش آئیں۔ کہیں ٹرمپ پیرس معاہدے سے نکل گئے، کہیں عالمی ماحولیاتی تنظیموں کا مذاق اُڑایا، گویا کہ ہر جگہ یورپ کو ٹرمپ کی مخالفت کا سامنا رہا۔ یورپ جوبائیڈن کو قابل بھروسہ اور معاملہ فہم شخص کے طور پر دیکھتا ہے۔ انگلینڈ میں عوامی سطح پر ٹرمپ کے ہارنے کی خوشی ہے جبکہ بورس جانسن کی حد تک ملے جلے تاثرات اور جذبات ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں سے امریکہ ایران اور شمالی کوریا سے کئی بار جنگ کے دہانے سے واپس آیا ہے گو کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ چار سال میں 2-3 ملاقاتیں کی ہیں شمالی کوریا کے سربراہ کم جوان کے ساتھ مگر دونوں رہنمائوں نے کسی معاہدے پر پہنچے بغیر فوٹوسیشن کروانے پر ہی اکتفا کیا جبکہ ایران سے تعلقات انتہائی بدترین کشیدگی کی طرف گئے اور صدر ٹرمپ یورپ، امریکہ، ایران ڈیل سے بھی باہر آگئے جو کہ بائیڈن کے وقت کے صدر اور اوبامہ نے کی تھی۔ توقع کی جارہی ہے کہ جوبائیڈن شمالی کوریا کے ساتھ مثبت اور سیرحاصل معاہدے کی کوشش کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ ایران سے پچھلے معاہدے کو بھی بحال کرسکتے ہیں۔ ایران نے اپنے ردعمل میں جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کو مثبت تبدیلی قرار دیا ہے۔


ای پیپر