nawaz sharif,speeches,ban,IHC,justice Athar Minallah
19 نومبر 2020 (18:17) 2020-11-19

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کیخلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ کسی بھی مفرور کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ پرویز مشرف والے کیس میں یہ تمام چیزیں واضح ہو چکی ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سماعت ہوئی ۔ ہیومن رائٹس کمیشن اور صحافیوں کی طرف سے ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے ۔ 

سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ درخواست غیر جانبدار صحافیوں کی طرف سے فائل کی گئی ہے۔ یکم اکتوبر کو پیمرا کی طرف سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر الیکٹرانک میڈیا پر نہ دکھانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ پیمرا کی طرف سے لگائی جانیوالی یہ پابندی غیر قانونی ہے اور آئین کے آرٹیکل 19-A سے متصادم ہے۔ یہ آرٹیکل پاکستان کی عوام کو آزادی اظہار رائے اور معلومات کی فراہمی کا حق فراہم کرتا ہے۔عدالت سے استدعا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کس کیلئے آپ ریلیف مانگ رہے ہیں؟۔پرویز مشرف والے کیس میں یہ تمام باتیں موجود ہیں ٗ مشرف جب مفرور ہو گیا تھا تو عدالت نے اس وقت بھی ریلیف نہیں دیا تھا۔پیمرا کی طرف سے جاری کیا جانیوالا نوٹیفکیشن آرڈیننس سیکشن31 کے تحت ہوا۔اگر کسی چینل یا فریق اس آرڈیننس سے متاثر ہو رہا ہے تو اس کیلئے متعلقہ فورم بہترین ہے۔ اگر آئین کے آرٹیکل 19 کو پڑھا جائے تو اسی کے  تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سی این آئی سی اور پاسپورٹ کو بلاک کیا گیاہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ درخواست اتنی سادہ نہیں ہے۔یہ جوڈیشل سسٹم کا امتحان ہے۔ آپ مفرور کی تشریح کریں۔کسی مفرور کو یہ عدالت ریلیف نہیں دے سکتی۔عدالتوں پر اعتماد مفرور کو کرنا ہو گا۔ 


ای پیپر