Leading journalists, country, court, ban, Nawaz Sharif, speeches
کیپشن:   فائل فوٹو
19 نومبر 2020 (13:52) 2020-11-19

اسلام آباد: پاکستان کے نامور   صحافی سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کیخلاف عدالت پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی  سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے صحافیوں سے سوال کیا کہ آپ ریلیف کس کیلئے مانگ رہے ہیں، پرویز مشرف والے کیس میں ساری چیزیں موجود ہیں، پرویز مشرف جب مفرور تھا تو عدالت نے ریلیف نہیں دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا آرڈیننس سیکشن 31 اے کے تحت پیمرا نے نوٹیفکیشن جاری کیا، چینل یا جو فریق متاثر ہے ان کو چاہئے متعلقہ فورم پر جائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 پڑھ لیں، نواز شریف کا سی این آئی سی پاسپورٹ بلاک کیا گیا ہے، یہ درخواست سادہ نہیں ہے، مفرور کی تشریح کریں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے درخوست پر ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت کسی مفرور کو ریلیف نہیں دے سکتی، آپ نے یہ نہیں سوچا، ریلیف جتنے بھی مفرور ہیں سب کیلئے ہوگا، مفرور کو عدالتوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ پیمرا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہو تو بھی مفرور کو ریلیف نہیں دے سکتے۔

نواز شریف کی تقاریر پر پابندی کیخلاف پٹیشن دائر کرنے والوں میں  نجم سیٹھی، سلیم صافی، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی، منصور علی خان اور  غریدہ فاروقی شامل ہیں، درخواست میں سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین جی ایم پیمرا کو فریق بنایا گیا۔ عدالت نے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ پی ڈی ایم جلسے میں نواز شریف کی قومی اداروں کے خلاف جارحانہ تقریر کے بعد پیمرا کی جانب سے سابق وزیر اعظم کی تقریر کو میڈیا پر نشر کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو عدالت مفرور قرار دے چکی ہے کیونکہ وہ عدالتی کاروائیوں کا سامنا نہیں کر رہے ۔


ای پیپر