Government, opposition, pandemic, protest, PM Imran Khan, PML-N
19 نومبر 2020 (12:22) 2020-11-19

کورونا کی دوسری لہر نے ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے… مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے… حکومت اور میڈیا دونوں کو شکایت ہے ضروری احتیاطی تدابیر پر اتنا بھی عمل نہیں ہو رہا جتنا پہلی لہر یعنی گزشتہ ماہ فروری تا جون کے درمیان ہوا تھا… وزیراعظم کا کہنا ہے کاروبار پہلے کی مانند بند نہیں کئے جائیں گے… تاکہ معیشت کا پہیہ گھومتا رہے اور بے روزگاری میں اضافہ نہ ہو… البتہ شادی ہالوں پر کچھ قدغنیں لگا دی گئی ہیں جنہیں ان کے مالکان ماننے سے انکاری ہیں کیونکہ دوبارہ اپنے ذریعہ معاش کے دروازے بند کر کے مزید نقصان کے متحمل نہیں ہو سکتے… سکولوں کی تعطیلات کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا… البتہ سیاسی جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے… حکومت اپوزیشن سے کہتی ہے ہم عوامی مفاد میں مزید جلسے کریں گے نہ جلوس نکالیں گے آپ بھی سردست اپنے پروگرام منسوخ کر دیجئے… مبادا ان کے ذریعے وبا زیادہ پھیل جائے… اپوزیشن کی جانب سے ترت جواب آیا ہے ہرگز ایسا نہیں کریں گے… آپ ہمارے جلسوں کی بے پناہ کامیابی سے خوفزدہ ہیں… خود جب چاہتے ہیں جلسے کر لیتے ہیں… گلگت بلتستان میں آپ نے انتخابی مہم کے دوران تمام احتیاطی تدابیر کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ انتخابی کوڈ آف کنڈکٹ پر بھی عمل نہ کیا… اب ہمارے جلسوں میں عوام کی غیرمعمولی تعداد میں شرکت سے آپ چونکہ گھبرا رہے ہیں اس لئے کورونا کی آڑ میں ان پر پابندی لگانا چاہتے ہیں جو ہمیں کسی طور قبول نہیں… 22 نومبر کو پشاور، 30 کو ملتان اور 13 دسمبر کو لاہور کے جلسہ ہائے عام لازماً منعقد کئے جائیں گے… ادھر مسلم لیگ (ن) اپنے طور پر مانسہرہ اور اوکاڑہ وغیرہ میں عوامی اجتماعات کا انعقاد کر رہی ہے جن سے CROWD PULLER کی شہرت حاصل کرنے والی مریم نواز خطاب کریں گے… اسی طرح پیپلز پارٹی لاڑکانہ میں بہت بڑا جلسہ منعقد کرنے کا عزم رکھتی ہے… بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں انتخابی دھاندلی کے خلاف عوامی احتجاج جاری رکھنے کی خاطر وہاں اپنا قیام بڑھا لیا ہے… یعنی قومی منظر پر ایک جانب کورونا کی وبا کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے دوسری طرف اپوزیشن کے جلسوں کی یلغار ہے… بیچ میں حکومت بیٹھی ہے… کورونا کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے… اور اپوزیشن کے جلسوں کی یلغار سے بھی نبردآزما ہونا چاہتی ہے… اس کا آسان طریقہ اس نے یہ سوچا کورونا کی آڑ میں جلسوں پر پابندیاں لگا دے لیکن اپوزیشن والے کہتے ہیں ہم آپ کی اصل نیت بھانپ گئے ہیں… مقصد عوام کی صحت عامہ کا تحفظ نہیں سیاسی ہے… ایسی چال ہرگز نہ چلنے دیں گے اور جلسے کر کے دکھائیں گے… یہاں تک ٹھیک ہے … یہ سب باتیں پاکستانی سیاست کے معمولات میں سے ہیں… لیکن اگر اپوزیشن اپنے عوامی شو آف پاور پر تل گئی اورحکومت اسے روکنے کی خاطر ریاستی طاقت کے استعمال پر اُتر آئی تو تصادم جنم لے سکتا ہے… جو یقینا امر نامطلوب ہو گا… حکومت کو سیاسی حقائق کا کھل کر سامنا کرنا چاہئے… اپوزیشن کو بھی جلسوں کے دوران جہاں تک ہو سکے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ممکن بنانا چاہئے… حکومت اس سلسلے میں ایک قدم بڑھ کر پی ڈی ایم کی کمیٹی سے مذاکرات بھی کر سکتی ہے… آخر آپ نے تحریک لبیک کے حالیہ دھرنے کے دوران ان کے پاس جا کر باقاعدہ معاہدہ کیا ہے… اس پر عمل ہو یا نہ ہو لیکن ایک قضیہ تھا جو وقتی طور پر طے ہو گیا ہے… اس موقع پر حکومت نے ریاستی طاقت سے کام لینے کا شاید سوچا بھی نہیں ہو گا اس لئے کہ اسے اندازہ تھا اس پردہ زرنگاری کے پیچھے کون سا محبوب چھپا بیٹھا ہے… لیکن پی ڈی ایم گیارہ سیاسی جماعتوں کے ملک گیر اتحاد کا نام ہے… کورونا کی اسی فضا میں گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں متاثر کن عوامی جلسوں کا انعقاد کر کے اس نے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کر دیا ہے بہتر ہے حکومت ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے اور تمام تر تلخیوں کے باوجود 

سیاسی ماحول کو جس حد تک پُرامن رکھا جا سکتا ہے اس میں کمی نہ رہنے دی جائے…

منگل 17 نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے قوم کے نام خطاب کے دوران کچھ انتخابی اصلاحات تجویز کی ہیں ان میں سے اہم سینٹ کے ارکان کے لئے خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈز کا طریق کار اپنانے کا مشورہ ہے… نیز وزیراعظم کا خیال ہے بذریعہ مشین کمپیوٹرائزڈ طریقے سے ووٹ ڈالنے کے عمل کو رواج دیا جائے… بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی ای میل کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے… وزیراعظم نے کہا ہے ان تجاویز پر عمل کر کے آئندہ انتخابات کو اس حد تک شفاف بنا دیا جائے کہ ہارنے والا بھی اپنی شکست کو تسلیم کرے… تاہم سینٹ میں رائے شماری کی خاطر شو آف ہینڈز کا طریق کار اپنانے کے لئے آئین میں ضروری ترمیم کی خاطر دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے… جو حکومت کو دستیاب نہیں اس لئے انہوں نے اپوزیشن سے مذاکرات کے ذریعے تعاون کی اپیل کی ہے… بات معقول ہے… اپوزیشن کو اس پر غور بھی کرنا چاہئے لیکن اس کی جانب سے بھی آئندہ انتخابات کو جائز ترین اور ان کے نتائج کو عوام کے فیصلوں کا صحیح معنوں میں آئینہ دار بنانے کے لئے کچھ مطالبات سامنے آئے ہیں… جو اسی روز یعنی 17 دسمبر کو پی ڈی ایم نے اپنے اجلاس میں تیار کئے ہیں اور انہی کی بنیاد پر اس کی جانب سے میثاق پاکستان کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے… اپوزیشن کا مطالبہ ہے آئین کی بالادستی کو صحیح معنوں میں یقینی بنایاجائے… پارلیمنٹ کی حاکمیت کو عملاً اپنایا جائے… اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کے سیاسی کردار کو ختم کیا جائے… صوبائی خودمختاری پر حرف نہ آئے اور اس کی خاطر اٹھارہویں ترمیم پر پوری طرح عملدرآمد کیا جائے… عام آدمی کے بنیادی انسانی حقوق پر گزند نہ آنے دی جائے… ان اقدامات کے تحت آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لئے اصلاحات کی جائیں…

اگرچہ پی ڈی ایم نے موجودہ حکومت سے مذاکرات کرنے سے قطعی انکار کردیا ہے اور اعلان کیا ہے اسے گھر روانہ کرنے کے بعد مذاکرات کا ڈول ڈالے گی… مگر کس کے ساتھ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا… تاہم سیاسی تنائو کی دھول کو صاف کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا حکومت اور پی ڈی ایم دونوں نے باہمی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے اپنی اپنی تجاویز پیش کر دی ہیں… وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سینٹ کے انتخابات کو شفاف ترین بنانے کی خاطر شو آف ہینڈز کے طریق کار کو رواج دیا جائے جس کے لئے اپوزیشن مذاکرات کے نتیجے میں تعاون کرے تاکہ آئینی ترمیم منظور کرائی جا سکے… اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم نے کہا ہے پارلیمانی جمہوریت کو رو بہ عمل لانے کے لئے آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی حاکمیت کے سائے تلے شفاف انتخابات کے لئے ضروری اصلاحات متعارف کرائی جا سکتی ہیں… یعنی دونوں کو مذاکرات کی میز پر قریب لانے کے لئے شرائط موجود ہیں… ان کو اکٹھا کر کے قومی مطالبات کی شکل دی جا سکتی ہے اور ان تمام پر بیک وقت عمل کرنے کی اُٹھان پر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر کے ایک قابل عمل سمجھوتے پر اتفاق کر سکتے ہیں… اپوزیشن کی شکایت دور ہو جائے کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی حکمرانی کا عمل مشکوک ہے اس کی بجائے اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کی کارفرمائی پائی جاتی ہے… اس شکایت کا تدارک فی الفور ضروری ہے اس لئے کہ ملک اور جمہوریت کے وسیع ترین مفاد کے علاوہ عمران حکومت کے وقار عزت اور پائیداری کا راز بھی اسی میں مضمر ہے کہ امور حکومت میں غیرآئینی اور ماتحت اداروں کی مداخلت کا یکسر خاتمہ ہو اس کے بغیر نہ جمہوریت کو صحیح معنوں میں رواج ملے گا نہ اس طرح کے شفاف اور آزادانہ انتخابات منعقد ہو پائیں گے جن کے بارے میں وزیراعظم کی خواہش ہے کہ ہارنے والا بھی نتائج کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرے… اسی طرح پی ڈی ایم بھی اپنے میثاق پاکستان میں اتنی لچک پیدا کرے جس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کے کردار کی پوری طرح نفی کرتے ہوئے ایک سول حکومت سے (جو جیسی بھی ہے) مذاکرات کرنا ممکن اور آسان ہو جائے اور دوسری انتخابی اصلاحات کے علاوہ سینٹ کے انتخابات اور اس کے اندر رائے شماری کے عمل کو شفاف ترین کرنے کے لئے شو آف ہینڈز کی آئینی ترمیم بھی عمل میں آئے کیونکہ اس تجویز کی معقولیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا… اس طرح حکومت اور اپوزیشن کا گیارہ جماعتی اتحاد اگر دونوں چاہیں تو ان کے مابین ایک نقطہ اتصال موجود ہے… مفاہمت کی فضا کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے… اس وقت جو تلخی اور کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے اسے تصادم کی راہ پر جانے کی بجائے (جس کے امکانات موجود ہیں) ایک قومی لائحہ عمل پر اتفاق وجود میں لایا جا سکتا ہے… اس سلسلے میں عمران خان کو وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں قائد ایوان ہونے کے ناطے پہلا قدماٹھانا ہو گا… پی ڈی ایم کی قیادت کو اس کے مطالبات کی اصابت تسلیم کرتے ہوئے ذاتی طور پر اس کی اور اپنی شرائط پر مشترکہ طور پر غور و فکر کر کے مذاکرات کا ڈول ڈالنا ہو گا… یہاں سوال پیدا ہوتا ہے بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا… جو ایک مرتبہ غرّا کر دیکھے تو بڑے بڑوں کے سر جھک جاتے ہیں… لیکن اگر حکومت اور تمام کی تمام اپوزیشن ایک جمہوری اعلامیے پر اتفاق رائے پیدا کر کے اکٹھے ہو جائیں تو کامیابی کا امکان ہے لہٰذا توقع کی جا سکتی ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے پیش قدمی کے بعد اپوزیشن بھی اپنے مؤقف میں لچک پیدا کر کے حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات پر آمادہ ہو 


ای پیپر