Nation, lost, battle, government, opposition, PTI, PDM
19 نومبر 2020 (12:14) 2020-11-19

بھرم ٹوٹ رہے ہیں غرور اور تکبر اپنی آخری حدوں کی جانب رواں داں ہیں ۔کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا ہے۔ جو باتیں پہلے بند کمروں میں ہوتی تھیں اب بیچ چوراہے میں ہنڈیا پھوٹ رہی ہے۔ جو کام پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں تھے وہ اب جلسوں میں اعلانوں کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے الیکشن جیتنے کے لیے مرکزی حکومت نے جس انداز سے الیکشن سے پہلے مداخلت کی اور، خود وزیر اعظم نے انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں وہاں جا کر اعلان کر دیا کہ گلگت بلتستان صوبہ بن گیا ہے۔ وزیروں نے جو اعلانات کیے اور جس انداز سے جلسوں میں اخلاق باختہ تقریریں وزرا کی جانب سے کی گئیں وہ سب کے علم میں ہے۔ اس انتخاب میں تو سیاست کی ان گندی قدروں کا بھی خوب مشاہدہ کیا گیا کہ لوگوں اور کمزور عقیدے کے سیاست دانوں کو اپنی طرف لانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ بھی جمہوریت میں نا پسندیدہ ہے۔ اب تو گھمسان کا ماحول ہے۔ عوام رو رہے ہیں خوفناک بیماریاں پاکستان کی طرف اُمڈ رہی ہیں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو تہہ و بالا کرنے کی طرف رواں دواںہے۔ حکومت نے اپوزیشن کو گھیرے میں لینے کے لیے نیب کو متحرک کیا ہے۔ مگر تاریخ سے واقف لوگوں کو علم ہے جب ایسی صورت ہو تو سب کا نقصان ہوتا ہے۔ اپوزیشن اب مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر وہ حکومت سے نہیں کسی اور سے مذاکرات کی طرف جا رہی ہے۔ مریم نواز نے سوات میں تقریر کرتے ہوئے جو فارمولا پیش کیا تھا، اس میں اسٹیبلشمنٹ سے با مقصد مذاکرات کی بات کی گئی تھی۔ جس پر حکومت کے ترجمانوں نے اس تقریر کو ’’بوٹ کو عزت دو‘‘ کا طعنہ دیا۔ مگر یہ بات بڑی گہری تھی۔ مطالبہ ان سے تھا کہ پہلے اس حکومت چلتا کریں اس کے بعد ہم سے مذاکرات کریں۔ مطلب واضح تھا کہ جو حکومت کو لائے ہیں ان کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہی نکالیں۔ مریم نواز کے مفاہمت کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے ایک اور تقریر کر کے بات کو صاف کر دیا کہ حضور ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ وہیں ہے۔ ایک وقفے کے بعد اب پی ڈی ایم نے کروٹ لی ہے۔ پی ڈی ایم کے 17 نومبر کے اجلاس میں اہم فیصلے سامنے آئے ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگلے دو ماہ میں کیا ہلچل مچنے جا رہی ہے۔ کرونا پھیل رہا ہے لیکن اس کو جمہوری حق کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنانا چاہیے۔ اپوزیشن ایک موقف لے چکی ہے جب سیاست سڑکوں آ جائے تو پھر جیلیں تو بھرتی ہیں ایسا ہونے جا رہا ہے۔ سیاسی بحران بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ ذرا پی ڈی ایم کا پروگرام تو دیکھیں وہ پورے بارہ نکات کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ جس کی منظوری تمام اپوزیشن پارٹیوں نے دی ہے، ان نکات کو ’’میثاق پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے، ویسے تو یہ میثاق جمہوریت کا پارٹ ٹو ہی تو ہے ۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے میثاق پاکستان کے نکات سے آگاہ کیا اور بتایاکہ وفاقی، اسلامی، جمہوری، پارلیمانی آئین پاکستان کی بالادستی اور عملداری یقینی بنانا، تمام اسلامی شقوں کا تحفظ، پارلیمنٹ کی خود مختاری، سیاست سے اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار کا خاتمہ، آزاد عدلیہ کا قیام، آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کیلئے اصلاحات اور انعقاد، عوام کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کا تحفظ، صوبوں کے حقوق اور 18 ویں ترمیم کا تحفظ، مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام اور اس کا قیام، اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کا تحفظ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ (نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد)، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کیلئے ہنگامی معاشی پلان کا قیام شامل ہیں۔ اس میں تو سب کچھ لپیٹ دیا گیا ہے۔ حکومت نے اپوزیشن کو کھڈے لائن لگا کر یہ تاثر دیا کہ تمہاری کیا اوقات ہے۔ اس کے بعد قانون سازی میں نیب قوانین میں ترمیم کے بعد اپوزیشن کی تجاویز پر جو خود وزیر اعظم نے باتیں کیں وہ سنجیدہ طبقے میں پسند نہیں کی گئیں۔ اپوزیشن سے ایک بار پھر حکومت 

تعاون مانگ رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام لائیں گے، سینیٹ انتخابات خفیہ بیلٹ کے بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعے کرانے کیلئے پارلیمنٹ میں ترمیمی بل پیش کریں گے، آئینی ترامیم کیلئے اپوزیشن جماعتوں کا تعاون ضروری ہے، چاہتے ہیں اگلا الیکشن بشمول آزاد کشمیر اور سینیٹ ایسا ہو کہ ہارنے والا شکست تسلیم کرے، اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بھی ایک سسٹم لے کر آ رہے ہیں جس کے بعد وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے، انتخابی نظام میں تبدیلیوں کیلئے کام جاری ہے۔ اب حکومت کے لیے یہ ناممکنات کا کام ہے۔ جب اپوزیشن سکیورٹی معاملات میں 

معذرت کر رہی ہے تو حکومت کو تو اس سے بھی کورا جواب ہے۔ بند گلی میں تو سب پھنس گئے ہیں اس سے نکلیں کیسے؟۔ جب سیاست دان ناکام ہوتے ہیں تو ملک میں ایک ہی طاقت رہ جاتی ہے جو بحران کے حل کے لیے سیاسی قوتوں کو مجبور کرتی ہے۔ ایک بار نہیں یہ معاملہ کئی بار آ چکا ہے۔ بند گلی کو کھولنے کا بنیادی کام سیاست دانوں کا ہی ہوتا ہے۔ پاکستان کے پہلے دس سال میں جیسی جمہورت چلی۔ قائد اعظم نے تو ایسی سیاست کا تصور تک نہیں کیا تھا۔ پاکستان کے دائیں بازو نظریات رکھنے والے دانشوروں نے اپنے طور پر بند گلی سے نکلنے کا جو حل نکالا تھا جس کے ذریعے ایک انقلاب برپا ہو جاتا اس طرح پاکستان میں ترکی ماڈل کی حکومت لانے کا قصہ تمام ہو گیا۔ سازش پکڑی گئی۔ مگر بند گلی کی سیاست ختم نہ ہوئی۔ لیاقت علی خان اسی سیاست کی نذر ہو گئے تو پرو امریکہ نظریات رکھنے والی بیورو کریسی اور سیاست دانوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ایوب خان نے سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے مارشل لا نہیں لگایا بلکہ یہ کام سکندر مرزا سے کرایا، اس کے بعد وہ خود سامنے آئے۔ ملک کو وہ بھی بند گلی میں چھوڑ کر رخصت ہو گئے، اس کے بعد یہ کہانی بار بار دہرائی گئی۔

جب سابق صدر غلام اسحاق خان نے چھ اگست 1990ء کو پیپلز پارٹی کو اقتدار سے نکال کر جو حکومت بنائی بابا جی الیکشن چرانے کے لیے ایوان صدر میں اپنا الیکشن سیل کھول کر بیٹھ گئے۔ اکتوبر 1990ء کے انتخابات میں آئی جی آئی کو اکثریت ملی۔ بے نظیر بھٹو کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے۔ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں نو ریفرنس بھی عدالتوں میں دائر کئے اسکے بعد بابا جی نے نواز کو نکالا تو اس نے ایوان صدر ہی کو سازشوں کا گڑھ قرار دے دیا۔ اس پہلے بھی پاکستان کی سیاست کے لئے ایک پُرآشوب دور تھا۔ جب قومی اتحاد کی تحریک میں مارا ماری ہوئی اور تین شہروں میں مارشل لا لگ گیا۔ تین بریگیڈز نے عوام پر گولی چلانے سے انکار کیا۔ تو فوج میں ہلچل مچ گئی۔ بھٹو کو جرنیلوں نے دھمکی دی اگر اپوزیشن سے معاملات طے نہیں کیے تو یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ جنرل ضیاء نے پیپلز پارٹی کی حکومت کا پانچ جولائی 1977ء کو تختہ الٹ کر ملک پر ضیائی فکر کو نافذ کر دیا۔ سیاست اور ملک کے لیے یہ بھاری دور تھا۔ گیارہ برس کے بعد جب پارلیمانی جمہوریت بحال ہوئی تو بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔ وہ وزیراعظم بن تو گئیں لیکن انہیں پاکستان کی فوج سول بیورو کریسی اور اپوزیشن نے چلنے نہیں دیا۔ صرف اٹھارہ ماہ کے بعد انہیں برطرف کر دیا گیا۔ پھر ملکی تاریخ یوں بھی رقم ہوئی کہ غلام اسحاق خان دسمبر 1991 میں پارلیمنٹ سے خطاب کرنے آئے تو بے نظیر بھٹو سمیت پی پی پی کے سارے ارکان ڈیسک بجاتے ہوئے گو بابا گو کے نعرے لگاتے رہے۔ 1993ء میں جب نواز شریف حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے ڈس مس کیا اور بے نظیر بھٹو ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بنیں تو ایوان صدر میں غلام اسحاق خان نہیں تھے۔ پی پی پی فاروق خان لغاری کو صدر بنوانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ 1994 میں صدر فاروق لغاری پارلیمانی سال کے آغاز میں


ای پیپر