Allegations, rigging, political parties, Gilgit-Baltistan elections
19 نومبر 2020 (12:00) 2020-11-19

گلگت بلتستان کے انتخابات کا بڑا شور تھا کہ شاید اس بار ان انتخابات سے ہی پاکستان کی تقدیر بدل جائے مگر زمینی حقائق ٹس سے مس نہ ہوئے اور وہی ہوا جو ہر الیکشن کے بعد ہوتا ہے یعنی ایک طرف جیت کاجشن اور دوسری طرف دھاندلی کے دھواں دار الزامات، ہمیں مرزا غالب کا شعر یاد آ رہا ہے جو واقعتا انہوں نے سنگدل محبوب کے بارے میں لکھا تھا مگر آج وہ ہماری جمہوریت کا عنوان ہے۔ 

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے

پاکستانی جمہوریت کی ایک کوالٹی یہ ہے کہ بڑے صوبے کے نتائج چھوٹے صوبوں کی حکومت سازی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ نئے پاکستان میں بھی یہ پرانی روایت برقرار رہی ہے۔ جب وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو GB الیکشن میں پیپلزپارٹی 14 نشستوں کے ساتھ وہاں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ پھر ن لیگ کی باری آ گئی جس نے GB میں 13 سیٹیں جیت کر حکومت اپنے نام کر لی۔ اب جبکہ تحریک انصاف کی حکومت ہے تو اولین تاثر یہی تھا کہ یہ الیکشن حکمران جماعت ہی جیتے گی جیسا کہ ہر بار ہوتا رہا ہے۔ لیکن دوسری 

طرف چونکہ یہ جماعت سیاسی روایت شکنی کا دعویٰ کرتی رہی ہے، اس لیے ایک خیال یہ بھی تھا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کو مساوی بنیادوں پر level playing کا موقع دیا گیا تو عوام مہنگائی کے ہاتھوں جتنے تنگ ہیں ہو سکتا ہے اس الیکشن کا نتیجہ روایتی انداز سے مختلف ہو۔ مگر حکمران جماعت کو اس خطرے کا احساس تھا لہٰذا انہوں نے رسک نہیں لیا اور حکومت پر اس ساری انجینئرنگ کے الزامات لگ رہے ہیں جو ہماری سیاست کا حصہ ہے۔ حکومت کی مجبوری یہ تھی کہ اگر GB الیکشن ہار جاتے تو اسے حکومت کے خلاف ریفرنڈم سمجھ لیا جاتا لہٰذا تحریک انصاف بھی کچی گولیاں نہیں کھیلتی کہ آسانی سے ایسا ہونے دیا جاتا۔ بالآخر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ حکومت جیت گئی۔ 

اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو پی پی اور ن لیگ اپنے اپنے دور میں سادہ اکثریت لے کر جیت گئے تھے مگر تمام الزامات کے باوجود پی ٹی آئی حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ حکومت بنا سکے۔ جو 7 آزاد امیدوار جیتے ہیں ان کی وفاداری کا راستہ پاکستان کے بچے بچے کو پہلے سے پتہ ہے کہ انہوں نے کن شرائط پر کس کے ساتھ جانا ہے بقول حبیب جالب:

دلدار بنو گے کتنے میں؟ 

تم پیار کرو گے کتنے میں؟

یہاں پر GB-2 گلگت حلقے کا ذکر کرنا ضروری ہے جہاں پی ٹی آئی کے امیدوار فتح اللہ خان نے 6696 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار جمیل احمد نے صرف 2 ووٹ کے فرق سے 6694ووٹ لیے۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ رات تک وہ جیتے ہوئے تھے راتوں رات حلقہ کا نتیجہ Tamper کر کے انہیں اگلے دن ناکام قرار دیا گیا ہے۔ یہ بڑی دلچسپ اور نازک صورت حال ہے جس کا اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ اس پر دوبارہ گنتی کریں یا وزیراعظم عمران خان کی زبان میں یہ حلقہ کھول دیا جائے مگر میرا ذاتی تجزیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف ایسا کبھی نہیں کرے گی کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی یہ سیٹ چلی جائے گی۔ 

اپوزیشن جماعتیں حکومت پر پری پول رگنگ کا الزام لگا رہی ہیں کہ کس طرح انتخابی کمیشن کے اعلیٰ افسران حکومتی وزراء سے کھلم کھلم ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ کسی طرح ن لیگ کے امیدواروں کو منظم طریقے سے وفاداری بدلنے پر مجبور کیا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ حکومتی وزراء کتنے تواتر کے ساتھ جلسوں میں ترقیاتی کاموں کا جھانسا دیتے رہے۔ ویسے حکومتی وزراء کی سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جلسوں میں آمد اور مراعات کے عہدو پیمان پری پول دھاندلی کے ضمن میں آتے ہیں۔ گزشتہ تمام انتخابات کے بعد ضمنی انتخابات میں اس پر پابندی تھی مگر پتہ نہیں اپوزیشن جماعتوں نے امین گنڈا پور اور زلفی بخاری کے جلسوں پر پابندی کے لیے کسی عدالت سے کیوں رجوع نہیں کیا۔ یہاں پر امین گنڈا پور کی سر عام جلسوں میں مریم نواز پر ذاتی حملے کرنے اور کیچڑ اچھالنے کا ذکر ضروری ہے جس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ تحریک انصاف نے ان کے غلیظ مؤقف سے لاتعلقی اختیار کرنے یا ان کی سرزنش کرنے کے بجائے ان کے الزامات کو own کیا اور ایک غلط اور گھٹیا روایت کی بنیاد رکھی۔ 

یہاں پر اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ ن لیگ اور پی پی ویسے تو حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک PDM کے ممبر ہیں لیکن ان کے دل اندر سے پھٹے ہوئے ہیں الیکشن کے اعداد وشمار پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ اگر ان دونوں جماعتوں کے ووٹ پاور کو اکٹھا کیا جاتا تو PDM کا ووٹ بینک اکاؤنٹ حکومت سے زیادہ ہو جاتا ان دونوں جماعتوں کو چاہیے تھا کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے نہ کرتے مگر واقفان حال کا کہنا ہے کہ نتیجہ پھر بھی یہی ہونا تھا کیونکہ GB کے اندر سینہ در سینہ پہنچنے والی قیاس آرائیوں میں خبردار کر دیا گیا تھا کہ پہلا نمبر حکومت کا اور دوسرا پی پی پی کا ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا جو کوئی سرپرائز نہیں تھا۔ GB اور بلوچستان یا سابقہ فاٹا علاقوں کی جغرافیائی کیمسٹری یہ ہے کہ یہاں مرضی کے نتائج حاصل کرنا گنجان آباد صوبوں کی نسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں الیکشن میں وفاداریوں کی خریدو فروخت اور حتیٰ کہ عام ووٹرز کو خریدنے کا عمل بھی پایا جاتا ہے جس وجہ سے سیاست پیسے کا کھیل بن چکی ہے۔ 

بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ تحریک پاکستان اور الگ ملک کے 1930 کے مطالبے سے پہلے جب آل انڈیا سیاست میں سرگرم تھے تو اس وقت وہاں مذہب کی بنیاد پر جداگانہ انتخابات کی بات ہوتی تھی اس وقت پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان جتنی واضح خلیج پائی جاتی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں اس  بنیاد پر جداگانہ انتخابات کرانے کو نوبت آجائے کہ امیروں اور غریبوں کے حلقے الگ کر دیئے جائیں۔ پھر فائلر اور نان فائلر کی بنیاد پر انتخاب ہو گا اور ارب پتی اور کروڑ پتی سیاستدان نان فائلر ووٹرز کے نمائندے نہیں بن سکیں گے یہ بظاہر تو ایک مضحکہ خیز تصور ہے مگر حالات جس نہج کی طرف بڑھ رہے  ہیں اس کے سوا چارہ تو رہے گا۔ یاد رہے بالغرض اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ کروڑ پتی سیاستدان اپنی ساری دولت اپنے بچوں کے نام کر کے خود غریبوں کی صف میں کھڑے ہوں گے تا کہ ان کے ووٹ لوٹ کر اسمبلی میں جا سکیں پاکستانی سیاست اتنی نیرنگ خیال اور دلکش ہے کہ برطانیہ میں وزارت کے مزے لینے والے چودھری سرور نے اپنی برطانوی شہریت محض اس لیے سرنڈر کر دی کہ وہ پاکستان میں سیاست سے لطف اندوز ہو سکیں۔ 


ای پیپر