End, Partition, United States, Biden, Test, Racism
19 نومبر 2020 (11:48) 2020-11-19

امریکہ کی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع اور تفرقہ انگیز صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد جوبائیڈن رواں ہفتے کابینہ کی تقرریوں پر غور کر رہے ہیں، وہ اس سے پہلے اپنی تقریر میں ’’تمام امریکیوں‘‘ کے صدر ہونے اور سیاسی اختلاف کے خاتمہ کا اعلان کر چکے ہیں۔ اگرچہ بائیڈن کو عالمی اور مقامی سطح پر متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے مگر اس کی ترجیح ایک ایسے ملک میں سیاسی مفاہمت لانا ہے جو کم از کم ایک نسل سے منقسم ہے اور شاید موجودہ نسل کی زندگی تک ایسا ہی رہے۔ تجدید کا یہ منصوبہ آسان نہیں ہو گا تاہم ملکی میں پائی جانے والی یہ تفریق اور کورونا وائرس، جس کے باعث پہلے ہی 250,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، بطور صدر ان کی تقدیر کا تعین کر سکتا ہے۔ بائیڈن شاید اپنی صدارت کے دوران ملک میں پائی جانے والی تفریق کے ماحول میں بہتری لا سکیں، اس کا انحصار اس مہارت پر ہو گا جس کے ساتھ وہ اپنی نئی انتظامیہ تشکیل دیتے ہیں اور اخلاقی اتھارٹی ثابت کرتے ہیں جو ان کی غالب فتح سے پیدا ہوئی ہے۔ مدت صدارت میں کم از کم دو واضح اختیارات ہوتے ہیں: حکمرانی کے موضوعات طے کرنا، جس میں تجدید اور اتحاد شامل ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی قانون سازی پر عوام اور کانگریس کی حمایت حاصل کرنا، اس سے قطع نظر کہ اس کے مقاصد سابق ادوار کی نسبت وسیع یا محدود ہیں۔ کسی بھی صدارتی دور کے اثرات کا انحصار اقتدار کے دوران وسائل سے فائدہ اٹھانے میں سیاسی مہارت پر ہے: کانگریس اور سینئر فیڈرل بیوروکریٹس کے ممبران میں صدارتی دفتر کا وقار اور اس کی قیادت کی ساکھ، مضبوط اور مؤثر صدور اقتدار کے ہر ماخذ کا انٹرایکٹو استعمال کرتے ہیں۔ جیسے فرینکلن روزویلٹ اور رونالڈ ریگن نے بالترتیب 1930-40 اور 1980 کی دہائی میں کیا۔ ایوان صدارت کو ملک کے لئے بہتر سے بہتر بنانے کے لئے صدر جوبائیڈن کو تیزی سے اور پورے اعتماد کے ساتھ یہ دکھانا ہو گا کہ وہ ان دونوں کاموں کا طریقہ جانتے ہیں۔ اس طرح کے احساس ذمہ داری اور مفاہمت کو فروغ دینے کے مواقع 20 جنوری کو صدارتی مدت کے افتتاح اور تقریب حلف برداری کے دن اور اس سے پہلے عبوری دور کے دوران آئیں گے۔ گزشتہ چند ماہ سے جاری انتخابی مہم میں سخت، جارح اور تلخ جملوں کے استعمال سے متحارب سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنوں میں پائے جانے والے کھنچاؤ کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ ملک کا سیاسی ماحول خوشگوار اور اس کے باعث نقصانات کا احتمال کم سے کم ہو۔ انتخابی مہم نے نا صرف عوامی صورت حالات کی عکاسی کی ہے بلکہ ملک بھر میں تقسیم کے عمل کو بھی تیز کر دیا ہے۔ قبل ازیں بیلٹ پولز میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ بائیڈن فیصلہ کن کامیابی سے جیت سکتے ہیں، مگر ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ انہیں انتخابی مہم میں کسی سے کم قرار نہیں دیا جا سکتا، وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں اور کم سے کم ابھی تک ٹرمپ اس کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

دوسری مدت کے لئے انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے ساتھ سامنے آئے، اس کے باوجود انہوں نے الیکٹورل اور مقبول ووٹوں کی بڑی تعداد کو اپنے بیلٹ باکس میں سمیٹا۔ 2016 میں بھی ٹرمپ نے سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے مایوس طبقے کے ووٹرز کی خاص طور پر حمایت سمیٹی، اس کے علاوہ آمدنی میں عدم مساوات اور بے روزگاری کا شکار افراد کی ہمدردیاں بھی حاصل کیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر بائیڈن کو اوہائیو سمیت متعدد اہم ریاستوں میں توقعات سے کہیں کم ووٹ ملے۔ قوم کی موجودہ پولرائزیشن کے باعث بائیڈن کو اگلے چار سال تک کیلئے فوری طور پر مضبوط گورننگ تھیمز قائم کرنے کی ضرورت ہے جو افہام و تفہیم، مفاہمت، تدبر و تحمل کے ذریعے سیاسی عمل کو آگے بڑھائے۔ جو بھی بیانیہ حتمی طور پر جاری کیا جائے اس میں یہ بھی شامل کرنا از بس ضروری ہے کہ ’’سیاسی وبائی مرض‘‘ کے بعد ’’بہتر سے بہتر بننا‘‘، اتفاق رائے کے لئے جدوجہد کرنا اور پُر خلوص رشتوں کو تلاش کرنا سیاسی طور پر سمجھداری کا راستہ ہو گا۔

صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے اختیارات کے مکمل استعمال کے لئے جو بائیڈن کو منقسم کانگریس میں اراکین اسمبلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ڈیموکریٹس کے پاس ایوان نمائندگان اور ریپبلکنز کے پاس سینیٹ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے ضروری اراکین کی تعداد میسر ہے۔ خاص طور پر کچھ ریپبلکن سینیٹرز کے حوالے سے یہ ایک مشکل چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن ان سے ورکنگ ریلیشن شپ کا قیام ایجنڈے کے مرکزی عناصر کی فراہمی کے لئے کلیدی ثابت ہو گا۔ طویل اور تفرقہ انگیز مہم کے باوجود جوبائیڈن سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے تجربے سے امریکہ کو نسل پرستی اور سیاسی تفریق و تفاوت کے ماحول سے نکال کر قومی تجدید اور اتحاد کے امکانات کو روشن کریں گے۔ بائیڈن کے لئے یہ ایک آزمائش ہو گی، جو سربراہ مملکت کی حیثیت سے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں اگر وہ اور کانگریس کے اراکین مسلسل مخالفت اور افراتفری کے ایجنڈے کے 


ای پیپر