God, human beings, animals, purpose, Hafiz Muhammad Idrees
19 نومبر 2020 (11:38) 2020-11-19

اللہ پاک نے کوئی چیز بلا مقصد پیدا نہیں کی۔ ہر مخلوق کی تخلیق میں خالق نے کئی حکمتیں رکھی ہیں۔ سانپ ایک نہایت زہریلا کیڑا ہے۔ اسے مار ڈالنے کا حکم ہے، کیوں کہ اس کے ڈسنے سے انسان اور دیگر جانور موت کے گھاٹ اتر سکتے ہیں۔ اسی طرح بچھو اور کئی دیگر کیڑے مکوڑے ہیں جو نقصان دہ ہیں۔ ہم چونکہ ان چیزوں کے ایک ہی پہلو کو جانتے ہیں، دوسرا پہلو ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے، اس لیے کبھی کبھار سوچنے لگتے ہیں کہ آخر اللہ نے یہ موذی مخلوق کیوں پیدا کی۔ ہماری عقل بھی محدود ہے اور سوچ و فکر بھی۔

برعظیم میں بڑے بڑے حکیم اور طبیب ہوئے ہیں۔ ان میں ایک مشہور نام حکیم محمد اجمل مرحوم کا ہے۔ وہ اپنے پیشے میں بڑے ماہر اور کامیاب معالج تھے، ان کی بے شمار دوائیں اب بھی حکما استعمال کراتے ہیں اور مریضوں کو اللہ شفا بخشتا ہے۔ ان کی زندگی کا ایک بہت دلچسپ واقعہ ہے جس میں کئی اسباق پنہاں ہیں۔ واقعات کو محض دلچسپی کے لیے بیان کرنا یا سننا فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ہر اچھے اور برے واقعہ کے اندر انسان کے لیے عبرت کا سامان ہوتا ہے۔ اہلِ بصیرت ان واقعات سے سبق حاصل کرتے ہیں جب کہ غافل لوگ محض وقت گزاری کے لیے ان کو سنتے سناتے اور لکھتے پڑھتے ہیں۔ 

حکیم صاحب اپنے مریضوں کو بڑی توجہ سے دیکھتے تھے۔ ان سے مرض کی کیفیت اور تفصیل جاننے کی کوشش کرتے تاکہ مرض کی صحیح تشخیص ہوسکے اور کامیاب علاج ممکن ہو۔ مرض کی جب تک درست تشخیص نہ ہو، علاج ممکن ہی نہیں ہوتا۔ حکیم صاحب کے مطب میںایک نوجوان مریض کو لایا گیا۔ انہوں نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق مرض کی تشخیص کی اور علاج شروع کر دیا مگر مریض کو کسی بھی دوا سے کوئی افاقہ نہ ہو رہا تھا۔ 

کافی کوشش کے باوجود جب مرض بڑھتا ہی محسوس ہوا تو حکیم صاحب نے مریض کے بھائی کو جو اس کے ساتھ آیا کرتا تھا، الگ بلا کر کہا کہ مریض کا علاج ممکن نہیں یعنی مرض لا علاج ہے۔ مریض کو تو نہ بتائیں تاکہ وہ حوصلہ ہی نہ ہار بیٹھے مگر آپ یہ بات سمجھ لیں اور اب مریض کو بس آرام کرائیں اور اس کی دل جوئی کرتے رہا کریں۔ 

مریض کو اس کا بھائی واپس گھر لے گیا۔ وہ ایک گائوں میں رہتے تھے اور کاشتکار ی ان کا ذریعۂ معاش تھا۔ کھیتوں میں گنے کی فصل لگی ہوئی تھی مگر ابھی گنا پوری طرح سے تیار نہ ہوا تھا۔ رس تو پودوں کے اندر پیدا ہوچکا تھا مگر یہ رس پوری طرح پکا نہیں تھا۔ ایک روز مریض نے گنا چوسنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کا بھائی اسے ہر طرح راحت پہنچانا چاہتا تھا۔ وہ اپنے کھیت پر گیا اور اچھی طرح دیکھ بھال کر ایک پودے سے موٹا سا گنا کاٹ لایا۔ اس پودے کی پانچ چھ شاخیں تھیں۔ اس نے گنا صاف کرکے اپنے بھائی کو دیا۔ اس نے چوس لیا، دوسرے دن مریض نے پھر گنے کا مطالبہ کیا تو بھائی نے خوش دلی سے جا کر اسی پودے کی دوسری شاخ کاٹ کر گنا بنایا اور مریض کو دے دیا۔ مریض اور تیمار دار دونوں نے محسوس کیا کہ گنے سے بڑے مفید اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ 

یہ کوئی مشکل علاج نہ تھا۔ ایک ہفتہ عشرہ مریض مسلسل گنا چوستا رہا اور اس کی صحت بحال ہونے لگی، حتیٰ کہ سب محسوس کرنے لگے کہ مریض تندرست ہو رہا ہے۔ مریض کا بھائی اسے لے کر حکیم اجمل کے پاس گیا۔ حکیم صاحب نے مریض کو دیکھا تو انہیں یقین نہ آیا کہ یہ وہی مریض ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا علاج معالجہ کیا ہے اور کس طبیب سے دوا لیتے رہے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ نہ کوئی علاج کیا ہے، نہ کسی طبیب سے کوئی رابطہ ہوا ہے، تو حکیم صاحب حیرت میں ڈوب گئے۔ انہوں نے مزید پوچھا کہ پچھلے دنوں مریض کو کیا خوراک کھلائی جاتی رہی ہے، تو بتایا گیا کہ کوئی خاص چیز نہیں، صرف ہر روز ایک گنا چوستا رہا ہے۔

یہ سن کر حکیم صاحب کچھ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ گنا کہاں سے لاتے رہے ہیں، تو بتایا گیا کہ اپنے کھیت سے۔ حکیم صاحب اسی وقت اٹھ بیٹھے اور کہا کہ چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں تاکہ اس کھیت کو دیکھ سکوں۔ حکیم صاحب کو کھیت پر لے جایا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ گنا کس جگہ سے کاٹا گیا، انہیں وہ دو یا تین پودے دکھائے گئے جہاں سے گنا کاٹا جاتا تھا۔ حکیم صاحب نے فرمایا کہ ان پودوں کی جڑوں کے نیچے گڑھا کھودا جائے۔ چنانچہ گڑھا کھودا گیا۔

حکیم صاحب بڑی توجہ اور تجسس سے مٹی کو دیکھتے رہے۔ جب گڑھا قدرے گہرا ہوا تو اس میں ایک مرے ہوئے سانپ کا ڈھانچہ نظر آیا۔ حکیم صاحب نے بڑی احتیاط سے اسے باہر نکلوایا اور فرمایا کہ اب عقدہ کھل گیا اور معمہ حل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض امراض کا تریاق سانپ کے زہر میں ہوتا ہے، مگر اس زہر کو تریاق میں تبدیل کرنا انسانی بس میں نہیں ہوتا۔ یہ قدرت کا کرشمہ ہے کہ سانپ زیر زمین مر گیا۔ مٹی کے اندر اس کا زہر گھلا ملا ہوا تھا۔ کماد کے پودے نے اپنی جڑوں کے ذریعے اس زہر کو کشید کیا اور اس مسلسل عمل کے نتیجے میں وہ زہر تریاق بن کر اس میں ڈھلتا رہا۔ یہ کام محض اللہ کی قدرتِ کاملہ سے ممکن ہوا۔ یہ انسانی بس میں نہ تھا۔

سانپ کی قسمیں اتنی زیادہ ہیں کہ انسان اب تک ان سب کے بارے میں پوری معلومات حاصل نہیں کر سکا۔ بعض سانپ زہریلے ہوتے ہی نہیں ہیں، مگر سانپ کی دہشت ہی اتنی ہوتی ہے کہ انسان ہر سانپ سے خوف کھاتا ہے۔ بعض سانپ کم زہریلے ہوتے ہیں جب کہ کئی ایک انتہائی مہلک اور خطرناک ہوتے ہیں۔ کون سے سانپ کا زہر کس طرح تریاق بنتا ہے، اگرچہ انسان کسی حد تک اس کا علم رکھتا ہے مگر انسان کا علم نامکمل اور ناقص ہے۔ پھر کون سے زہر کا تریاق کون سے مرض کے لیے مفید اور اکسیر ہے، یہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ انسان تجربات سے بہت کچھ سیکھ چکا ہے اور بہت کچھ مزید سیکھنے کے مواقع و امکانات بھی موجود ہیں، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ان اعلیٰ ترین دماغی صلاحیتوں اور حیرت انگیز سائنسی ترقی کے باوجود تجربات کا محتاج ہے اور ہر تجربہ درست نتائج اور کامیابی حاصل کرنے کی کوئی ضمانت نہیں رکھتا۔

انسان کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر کام میںخالق کی حکمتوں کو تلاش کرے، اس کافہم اور ادراک حاصل کرے اور اس سے اسے تذکیر ہو۔ وہ مخلوق پر تجربات کر کے خالق کی قدرت کاملہ اور حکمتِ بالغہ کا قائل ہو جائے تو یہی مطلوب ہے۔ قرآن مجید میں اہلِ علم و دانش اور اہل دین و ایمان کی یہ پہچان بیان کی گئی ہے کہ وہ زمین و آسمان اور ان کے اندر کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو سوچ و تفکّر کی نظر سے دیکھتے 


ای پیپر