Solomon Islands decides to ban Facebook
19 نومبر 2020 (07:32) 2020-11-19

ہونیرا:بحر الکاہل کے جزیزہ سولومن کی حکومت نے فیس بک پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی میڈیا نے مقامی ذرائع ابلا غ کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے سرکاری حکام پر بہت زیادہ تنقید ہونے کی وجہ سے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی نے فیس بک ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام ، یوٹیوب ، پیری سکوپ اور ٹک ٹاک کو دس دس لاکھ یورو کا جرمانہ کیا تھا۔ ترک انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز اتھارٹی نے کہا تھا کہ یہ جرمانے مقامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی اور ترکی میں اپنے نمائندے تعینات نہ کرنے پر کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی میں سوشل میڈیا سائٹس اور اپیلی کیشن پر کنٹروک حاصل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے سخت قوانین نافذ کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ ترک پارلیمنٹ نے جولائی کے مہینے میں سوشل میڈیا سے متعلق نئے قوانین منظور کیے تھے، جن کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوا۔

نئے قوانین کے نافذ ہونے کے بعد ماہرین نے یہ انکشاف کر دیا تھا کہ اس کی وجہ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

نئے قوانین کے بعد فیس بک ، یوٹیوب اور ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ترکی میں اپنے دفاتر کھولنے ہوں گے یا ان کو اپنے نمائندوں کی ترکی میں موجودگی کو یقینی بنانا ہو گا۔

نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز متنازع اور مخصوص مواد ہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل کریں گے اور انکار کی صورت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ترک حکومت جرمانہ بھی عائد کر سکے گی۔

نئے قوانین کے نفاذ کے بعد تمام سوشل ویب سائٹس اور ایپلی کیشن ترک حکومت کے احکامات ماننے کی پابند ہوں گی اور انکار کرنے والے اداروں کے اشتہارات کو روکے جانے سمیت ان پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ، چین اور یورپ کے متعدد ممالک میں سوشل میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے سخت قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں جن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاتر ان ممالک میں کھولیں اور  متنازعہ مواد کو عدالتی حکم کے مطابق ہٹائیں ورنہ مقامی عدالتیں ان پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کی مجاز ہو گی۔


ای پیپر