ملاوٹی سچ !
19 نومبر 2020 2020-11-19

وزیراعظم عمران خان نے سی سی پی اولاہور محمد عمر شیخ کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں اپنے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضے کے حوالے سے جوداستان سنائی اُس کی اصل حقیقت آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آتی جارہی ہے، جن پولیس افسران کو اُنہوں نے قبضہ ختم نہ کروا سکنے کا ذمہ دار قرار دیا، اور صرف اِس بنیاد پر اُنہیں تبدیل کرکے انصاف کے تقاضوں کو شدید زد پہنچائی یہ المیہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، حقیقت میں اُن ہی افسروں نے قانون کے دائرے میں رہ کر وزیراعظم کے بہنوئی کے پلاٹ کے مسئلے کاحل ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی، جس میں کسی حدتک وہ کامیاب بھی ہوگئے تھے، اُن بے چاروں نے قانون کے دائرے میں رہ کر حل ڈھونڈنے کی کوشش اِس لیے کی تھی اگر قانون کے دائرے سے مکمل طورپر باہر نکل کر وزیراعظم کے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضہ ختم کروانے اوراُنہیں قبضہ دلوانے کی کوشش اُنہوں نے کی اِس سے وزیراعظم کی کہیں بدنامی نہ ہو، بجائے اِس کے اُن کے اس عمل پر وزیراعظم اُنہیں شاباش دیتے اُلٹا اُن سے ناراض ہوگئے، البتہ اِس معاملے میں کچھ افسروں خصوصاً اُس وقت کے آئی جی ڈاکٹر شعیب دستگیر سے جو غلطی ہوئی، اُس کا ذکر آگے چل کر میں کروں گا، پہلے ذرا وزیراعظم کی خدمت میں یہ میں عرض کرلوں کوئی بات ” پبلکی “ کہنے سے پہلے ہزار بار اُس کی تصدیق کرلیا کریں، مدینے کی ریاست کے تصور کا ایک تقاضا بلکہ ایک بنیادی تقاضا یہ بھی ہے”سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کیا جائے، نہ اُنہیں آگے پھیلایا جائے“، کانوں کا کچا پن ہی زبان کے کچے پن کا باعث بنتا ہے، کسی اہم عہدے پر تعینات شخصیت کے بارے میں یہ تاثر پھیل جائے یا مضبوط ہوجائے کہ وہ اصل حقائق سے بے خبر ہوتا ہے یا اصل حقائق اُس تک پہنچ نہیں پارہے اور وہ محض سُنی سنائی باتوں پر یقین کرکے اُن کے مطابق احکامات جاری کردیتا ہے تو اِس امر یا عمل کا سب سے زیادہ نقصان خود اُسے ہی ہوتا ہے، افسوس اس حوالے سے ہمارے محترم وزیراعظم کی شخصیت اور کردار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کا سب سے زیادہ دُکھ خود ہمیں ہے کہ ہم ہی وہ لوگ تھے جنہوں نے کالم اور مضامین وغیرہ لکھ لکھ کر ، اور تقریریں وغیرہ کرکرکے لوگوں کو اِس یقین میں مبتلا کردیا تھا وہ کردار، زبان اور دیگر کئی حوالوں سے سابقہ حکمرانوں سے یا سیاستدانوں سے بہت مختلف ہیں،.... اپنے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضے کے حوالے سے جو کچھ محترم وزیراعظم نے فرمایا وہ یقیناً اُن کے کسی قریبی ”کان بھروے“ نے اُنہیں بتایا ہوگا، یا ہوسکتا ہے اُن کے بہنوئی نے ہی اُنہیں بتایا ہو، حکمرانوں یا طاقتور لوگوں کے ہاں تصور یہ ہوتا ہے ساری دنیا جھوٹ بول سکتی ہے اُن کے رشتہ دار نہیں بول سکتے، سو اِس تصور کے تحت وہ اپنے رشتہ داروں کی ہربات پر چاہے وہ بالکل ہی جھوٹ کیوں نہ ہوآنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں، یہ رویہ بالآخر ملک ومعاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے....وزیراعظم کے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضے کا اصل واقعہ یا کہانی بہت طویل ہے، یہ کہانی کسی نے مکمل طورپر نہیں لکھی، میں بھی شاید نہ لکھ سکوں، بے شمار اہم موضوعات ہیں جن پر مجھے لکھنا ہے، میں اگر صرف اِسی کہانی پر لکھنے بیٹھ گیا اگلے دس پندرہ کالمز میرے اِسی پر ضائع ہوجائیں گے، پھر یہ خدشہ بھی ہے وزیراعظم سمیت کچھ اور دوست مجھ سے مزید ناراض ہوجائیں گے، جو سچ بولنے یا لکھنے پر پہلے ہی مجھ سے کچھ خفا خفا سے ہیں، ....میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں پی آئی اے سوسائٹی کے جس پلاٹ پر قبضہ ختم کروانے کا کریڈٹ وزیراعظم نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو دیا اُس پلاٹ سے قبضہ سابق سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے ختم کروایا تھا، جنہیں اب بلوچستان تبدیل کردیا گیا ہے، بلوچستان پاکستان کا ایک خوبصورت حصہ ہے، محرومیوں کے مارے ہوئے اِس صوبے میں کسی ایماندار اور شاندار افسر کو لوگوں کی خدمت کے زیادہ بہتر مواقع میسر آسکتے ہیں، کسی افسر کو وہاں بھجوائے جانے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں یہ ”پارٹ آف سروس“ ہے، لیکن اِس حوالے سے چونکہ باقاعدہ کوئی پالیسی نہیں، اگر ہے تو اُس پر چونکہ عمل درآمد نہیں ہوتا تو محض حکمرانوں یا اعلیٰ افسروں کی ذاتی پسند وناپسند پر مختلف افسروں کو بلوچستان باقاعدہ ایک سزا کے طورپر ٹرانسفر کردیاجاتا ہے۔ اِس عمل سے یقیناً بددلی پھیلتی ہے، ناانصافی کا تصور اُبھرتا ہے جو اچھی حکومت، اچھے حکمرانوں یا اچھی حکمرانی کے دعویداروں کی بدنامی کا باعث بنتا ہے، خصوصاً ایسی صورت میں تو بہت ہی بدنامی کا باعث بنتا ہے کہ کوئی کانوں کا کچا حکمران محض کسی ذاتی معاملے میں انتقام کے طورپر کسی کا تبادلہ کردے۔ یہ یقیناً اپنے اختیارات کا غلط اور ناجائز استعمال ہے جس کی ہمارے حکمرانوں کو عادت پڑی ہوئی ہے، کوئی حکمران اپنی اِس ”بدترین خامی“ سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکا، نہ ہی شاید کرسکے گا، پاکستان اِس اعتبار سے اچھا خاصا عجیب وغریب ملک ہے بظاہر اعلیٰ سے اعلیٰ کردار کا حامل کوئی شخص کسی اہم عہدے پر پہنچتا ہے وہ کم ظرفیوں کے مظاہرے کرنا شروع کردیتا ہے، جبکہ ہونا یہ چاہیے جب اللہ کسی کو اُس کی اوقات سے زیادہ نواز دے اُس کا ظرف اُس کے مطابق ہو جانا چاہیے....وزیراعظم کے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضے کے معاملے میں ہوا یہ تھا وزیراعظم نے اُس وقت کے آئی جی پنجاب کو حکم دیا قبضہ گروپ سے پلاٹ خالی کروایا جائے، ظاہر ہے اِس حکم کا سیدھا سیدھا مطلب یہ تھا قبضہ گروپ سے پلاٹ واپس لے کر اُن کے بہنوئی کو دلوایا جائے، آئی جی ڈاکٹر شعیب دستگیر نے وزیراعظم کا یہ حکم من وعن اُس وقت کے سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید تک پہنچا دیا، ذوالفقار حمید چونکہ انتہائی پروفیشنل اور تفتیشی ذہن کے مالک ہیں اُنہوں نے اِس کیس کا بغور جائزہ لیا، ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی، اِس ضمن میں اُنہیں ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر کی معاونت بھی حاصل تھی، رائے بابر سعید اُس وقت ڈی آئی جی آپریشن لاہورتھے، ان تمام کی شہرت انتہائی ایماندار افسران کی ہے، پی آئی اے سوسائٹی میں واقع اِس پلاٹ کا کیس عدالت میں زیرسماعت تھا، اُصولی طورپر ہونا تو یہ چاہیے تھا جس طرح عام لوگوں کے عدالتوں میں زیرسماعت ایسے کیسز میں پولیس مداخلت نہیں کرتی آئی جی ڈاکٹر شعیب دستگیربھی وزیراعظم کو یہ بتا دیتے، پوری فائل لے کر اُن کے پاس چلے جاتے اور اُنہیں یہ قائل کرنے کی کوشش کرتے یہ کیس چونکہ عدالت میں ہے اور پولیس ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی لہٰذا بہتر ہے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے، اِس کے بغیر ہم قبضہ واپس لے کر آپ کے بہنوئی کو قبضہ نہیں دلوا سکتے، .... مگر ہمارے افسران میں عموماً حکمرانوں کے ہر جائز ناجائز حکم کی تعمیل نہ کرنے کا تصورتک نہیں ہوتا، کرپٹ افسران کے بارے میں تو سمجھ میں آتا ہے وہ مراعات، طاقت وغیرہ انجوائے کرنے کے لیے یا مال وغیرہ بنانے کے لیے کسی اہم عہدے سے چمٹے رہنے کی ہر گھٹیاحدتک کوشش کرتے ہیں، مگر حیرانی مجھے ”ایماندار افسروں“ پر ہوتی ہے وہ کیوں اللہ کے خوف سے بالاترہوکر حکمرانوں کے خوف میں مبتلا ہوکر اُن کے ہر جائز ناجائز احکامات یا خواہشات پوری کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں ؟؟(جاری ہے)!!


ای پیپر