”سفید پوش“
19 نومبر 2020 2020-11-19

 ہم اگر انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقائی عمل کا گہرائی سے جائزہ لیں تو ہم اس نتیجہ کو اخذ کرنے میں ذرہ بھی دیر نہیں لگاتے بلکہ مجبور ہوجاتے ہیں، کہ باوجود اس کے کہ ہم موجودہ دور کے رہنے والے اس بات پر نازاں بلکہ فرحاں وشاداں ہیں، کہ وہ ایجادات علوم وفنون اور فکر وآگہی کے کمال پہ پہنچے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ اخلاقی، معاشی، بلکہ معاشرتی لحاظ سے ہم ابھی بھی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھنسے ہوئے ہیں ظلم اور جبر کی ریاستوں کے قانون، طوالت اقتدار کے لیے وضع کیے جاتے ہیں، جس کے لیے کسی اصول ، ضابطے اور کسی قاعدے اور قانون کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حکم تو اسی دن سے ہی اس طاقتور کا چلتا ہے جس دن سے خاندان یا قبیلے کی بنیاد پڑی تھی، جس کے لیے کہاوت مشہور ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔

تاریخ عالم سے لے کر تاریخ پاکستان کا مطالعہ کریں، تو پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی ملک کی حکومت، اگر ضمنی انتخاب کرائے، خواہ وہ ریفرنڈم بھی کرالے، تو وہ کبھی بھی نہیںہارتی، میرا اشارہ میرا مالک گواہ ہے کہ حالیہ، گلگت، بلتستان کی طرف نہیں بلکہ یہ عالمی سچائی ہے۔ 

کفروالحاد کی ان پستیوں میں عرب بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے، ہرعلاقے اور قبیلےکے بت کسی طاقتور شے کی مماثلت سے گھروں کی زینت بنتے تھے اور ہرگھر صنم خانے میں تبدیل ہوگئے تھے، وہ لوگ استعارہ جبروت کی وجہ سے جنوں ، فرشتوں ،ستاروں اور سورج وغیرہ کو اپنا خدا بنا چکے تھے، ان کی طاقت کے قائل ہونے کی وجہ سے انہیں کی عبادت پہ مائل ہوکر ان کے آگے سجدہ ریز ہوجاتے تھے جہاں تک چین اور اس سے ملحقہ چھوٹی ریاستیں ہزاروں سالوں سے آج بھی دہریے ہونے کے باوجود سانپ اور اژدھے کی طاقت کے نہ صرف قائل ہیں، بلکہ آج بھی خیروبرکت کے لیے اژدھے کی تصاویر بناکر اپنے گھروں میں لٹکاتے ہیں۔ 

اہل یورپ تو ہندوﺅں کی طرح پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق تھے وہ تو اس بحث ومباحثے میں مبتلا رہتے تھے، کہ عورت انسان ہے، یا حیوان اور ہندوطاقت ور شے مثلاً دیوی دیوتاﺅں کے بتوں کے آگے ننگے ہوکر عبادت کرتے اور ان سے خدا کا گھر کعبہ بھی محفوظ نہیں تھا، اپنی سلطنت وحکومت کے استحکام اور بقاءکے لیے روزاول سے ٹیکس لگتے آرہے ہیں، فرانس کے زمانہ جاہلیت میں پلوں پہ ٹیکس لگتے تھے آپ حیران نہ ہوں، کیا آج کل موجودہ دور میں ٹول ٹیکس نہیں لگتے حالانکہ لاہور اسلام آباد جیسی موٹرویز کی سچائی یہ ہے کہ اس کی لاگت کب سے پوری ہوگئی ہوگی، جیسے شاہدرہ، لاہور ہی کا ایک حصہ ہے مگر اس پہ بھی ابھی تک ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ 

موجودہ فرانس میں اخلاقی طورپر تو ابھی بھی پستیوں کی انتہا یہ ہے کہ جہاں اب بھی اربوں مسلمانوں کے جان ومال سے پیارے نبی رحمت کی ناموس کے تقدس کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔

ایران میں اسلامی فتوحات سے قبل بادشاہوں نے اپنی رعایا پہ اس قدر ٹیکس لگائے کہ لوگوں نے کھیتی باڑی چھوڑ دی، اور عبادت گاہوں میں محصور ہوگئے، میں موجودہ تبدیل شدہ پاکستان کی بات نہیں کررہا، کہ جہاں آج بھی بیس سالہ وعدوں کے باوجود پنجاب کے کسان سڑکوں پہ سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں، جن پہ کیمیکل ملا سپرے کرکے ماردیا جاتا ہے۔ ایران کے بادشاہ اس قدر عیاش تھے کہ فرار ہوتے وقت بھی ان کے ساتھ ایک ہزار باورچی اور ایک ہزار گلوکار ضرور ہوتے تھے۔ شکر ہے خدا کا کہ اب عرصے سے ہمارے حکمران گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی ، عالم لوہار، اور ابرارالحق کے گانوں پہ گزارہ کرلیتے ہیں۔ 

اسی طرح ہندوستان ، جس کی معیشت اور کرونا کے بار بار حوالے دیئے جاتے ہیں، اس میں ہزاروں سالوں سے اب تک انسانوں کے درجات میں بانٹ دیا گیا ہے، اور صرف برہمنوں کے لیے حکومت اور اقتدار کے دروازے کھلے نظرآتے ہیں، برہمنوں کو تو یہاں تک درجے ملے ہوئے تھے کہ اگر کوئی گناہ یا جرم کرتے تو ان کو کوئی سزا نہیں ملتی تھی، اور آج بھی بھارت کا یہی حال ہے، کہ بھارت، دلت ، ویش، اور کھتری کی درجہ بندی میں بٹا ہواہے اور آج بھی مسلمان وہاں سینہ تان کر ان ناانصافیوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں غرض ان ساری بدعتوں ، توہمات ، کم ظرفی، جہالت اور نخوت اور غرور کے بت اسلامی احکامات نے ہی آکرتوڑے ہیں، کہ جس نے آکر اسلامی فلاحی مملکت کا تصور دیا، اور دورفاروقی میں عملی طورپر اس کا اس قدر شاندار مظاہرہ کیا، کہ دنیا نے دیکھا، کہ اس قدر وسیع وعریض اسلامی ملک میں زکوٰة لینے والا کوئی بھی نہیں تھا جبکہ ہمارا یہ حال ہے کہ بائیس کروڑ مسلمانوں میں زکوٰة بھی خال خال لوگ دیتے ہیں، اور ٹیکس بھی وہ ادا کرتے ہیں کہ جن کی تنخواہ سے کاٹ لیا جاتا ہے جس ملک میں اب یہ حال ہے کہ لوگوں نے اور خصوصاً شرفا، اور سفید پوش طبقے نے ایک وقت کی روٹی کھانی شروع کردی ہے، گندم، دیگر اجناس، دوائیوں اور روزمرہ اشیاءکی قیمتوں میں کمی لانے، حتیٰ کہ ان کو اعتدال میں رکھنے کی اب تک تین سال ہونے کو ہیں کیا سعی اور کاوش کی گئی ہے؟ کلمے کے نام پہ ملک بنانے والے لوگوں نے اب تک سودسے پاک قرضہ جات کے حصول کیلئے کوئی نظام وضع کیا؟ غریبوں ،یتیموں ، بیواﺅں، لاوارثوں، لاچاروں، مسکینوں کو چھیپاڈاکٹر آصف جا، ایدھی، ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے غریب پرور شخصوں کے حوالے کردیا گیا، جبکہ حضور کا فرمان ہے کہ مجھے غریبوں میں تلاش کرو کیونکہ غریبوں کی وجہ ہی سے تمہیں مدد اور روزی ملتی ہے اور غریبوں کے ساتھ ہمیشہ دوستی رکھو۔ 


ای پیپر