شاہ کارِ دَستِ قدرت
19 نومبر 2019 2019-11-19

اربوں مسلمانوں کے دل خوشی وانبساط اور عقیدت سے جسم وجاں ہی نہیں بلکہ ارواح مومنین کو بھی سرشار کردیتا ہے، جب ہم نواسہ رسول کے بارے میں یہ کلمات ادا کرتے ہیں، کہ :

صدیاں حسینؓ کی ہیں

زمانے حسینؓ کے ہیں

صدیاں اور زمانے کو تو ہم اگر نواسہ رسول کے ساتھ منسوب کردیتے ہیں، مگر ان کے نانا اور مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن، جس کے لیے خالق کائنات نے کائنات بناڈالی، اور فرمایا کہ یہ زمین و آسمان نباتات وجمادات وغیرہ بھی رب المشرقین ومغربین کے مالک نے روزالست وعدے لے کر اپنے محبوب رسول محمد کے لیے بنائے ہیں تاکہ مسلمانوں کو آزماکر دائمی زندگی کے لیے منتخب فرمالیں۔ میں جب صدیوں اور زمانے کی بات کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں فوراً آتا ہے، کہ شہداءاسلام وکربلا کے لیے محض محرم الحرام کو مختص کردینا، اور جس ہستی کے لیے تخلیق کائنات ہوئی، محض ماہ ربیع الاول کو مختص ومخصوص کردینا، انصاف واحترام کی بات نہیں، کیونکہ مومنین کے لیے تو آپ اور اہل بیتؓ کی یاد ہر روز روزعید ہے اور ہرشب شب برا¿ت ہوتی ہے، کیا ان پہ درودوسلام پڑھنا، محض خود مقررکردہ ایام کے لیے ہے، کیا ان کو ہدیہ عقیدت محض شب کے تیسرے پہر یا صبح وشام پیش کرنا چاہیے، ان کے لیے تو کوئی لمحہ کوئی وقت کوئی ساعت کوئی دن، کوئی مہینہ یا کوئی سال مقرر نہیں کیا جاسکتا، اہل علم فکرودانش اورراہِ سلوک ومعرفت کے مسافروں کی تو کوئی گھڑی، اور کوئی سانس دھڑکن دل کے ساتھ کلمے سے خالی نہیں ہوتی ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر میں سے کس پیغمبر کو یہ اعزاز وانعام واکرام حاصل ہے، سوائے محمد عربی کے ، کہ جن کا نام نامی اسم گرامی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نام کے ساتھ آتا ہے، بلکہ اس وقت نہ تو نومسلم اور نہ ہی مسلمان، مسلمان کہلانے کا حق دار ہوتے ہیں، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول پاک کا نام اکٹھے نہ لیں ہم کتنے خوش نصیب ہیں، کہ ہمارے اعلیٰ واولیٰ نبی، جن کی اُمتی ہونے کی خواہش پیغمبروں نے کی، لیکن ذات باری تعالیٰ نے اس کی اجازت نہیں دی، مگر یہ اعزاز محض ہمیں حاصل ہے، جس پر ہم جتنا ناز کریں، وہ کم ہے، بطور مسلمان شفاعت رسول کے لیے جو اکرام ہمیں حاصل ہے، اس کا کوئی اور کیونکر مستحق ہوسکتاہے، ہمارے رسول پاک ، جب سے معبوث ہوئے، اور جب یہ محترم و مبارک ہستی دنیا میں تشریف لائی، تو آتے ہی دنیا کا وہ پہلا اور آخری نوزائیدہ بچہ ہے، کہ جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا، اور اس حالت میں دیکھ کر دائی، اور بی بی آمنہؓ خوشی سے دنگ رہ گئیں، بلکہ حیرت سے مبہوت ہو گئیں۔

کیا کوئی اور مذہب ومسلک ایسی مثال رہتی دنیا تک پیش کرسکتاہے، کہ پنگھوڑے میں لیٹا ہوا بچہ چاند، ستاروں سے کھیلے، انگشت مبارک سے جدھر جدھر اشارے کرے، چاند ستاروں کو بھی ادھر ادھر ہی نہیں، بلکہ ان کے ٹکڑے کرکے جوڑ بھی دے، سوچنے کا مقام ہے، کہ ایک ایسا پیغمبر جو اپنے آپ کو عبدکہے، ان میں اتنی طاقت ، اتنی صلاحیت، اور انہیں یہ مقام کیسے حاصل ہوگیا، محض اور محض اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو ان سے جتنا پیار ہے، اس کا ہم تصور ہی نہیں کرسکتے۔ کیا دنیاوالوں میں سے کسی اور مخلوق یا انسان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ خالق کائنات ، اسے ملنے کے لیے نعلین مبارک سمیت عرش معلیٰ پہ بلا لے، اور جہاں جبرائیل علیہ السلام کے پر بھی جل جاتے ہوں، اور ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی آگے سدرہ المنتہیٰ کا راستہ بھی جانتے تھے۔

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

انہیں خلق کرکے نازاں ہوا خود ہی دست قدرت

کوئی شاہ کار ایسا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس دنیا میں جو بھی نبی بھیجا، اس کو معجزہ بھی عطا فرمایا۔ مگر پیغمبروں کے امام کو ان لاکھوں نبیوں کے معجزات بھی مرحمت عطا فرمادیئے، مثال کے طورپر حضرت داﺅد علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ نے لوہے کو نرم کردیا، اور حضور کے لیے پتھر کو نرم کردیا، پتھر ان کے نعلین مبارک کے نیچے آتے ہی نرم ہوجاتے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردے کو زندہ کردیتے تھے، رسول پاک نے بیماروں کو تندرست اور مردوں کو زندہ کرکے دکھا دیا تھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل تھا، ہمارے نبی پاک تو امر الٰہی کے بغیر ایک لفظ بھی ادا نہیں فرماتے تھے، ان کا کلام اور ان کا قول وعمل عین منشاءالٰہی اور رضاءرب کے لیے ہوتا، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کلام فرماتے، تو ان کی والدہ محترمہ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت علیہ السلام کو فرمایا کہ اب تمہارے پیچھے دعائیں مانگنے والی نہیں رہی لہٰذا اب ذرا احتیاط لازم ہے، جبکہ ہمارے نبی محترم سے بالمشافہ ملنے اور کلام کرنے کی بے تابی کی مثال تو پوری دنیا نے دیکھ لی تھی۔ بقول شاعر

سرلامکاں سے طلب ہوئی

سوئے منتہیٰ وہ چلے نبی

کوئی حدہے ان کے عروج کی

بلغ العلیٰ بکمالہ

کشف الدجی بجمالہ

حسنت جمیع خصالہ

صلواعلیہ وآلہ

وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

صلو علیہ وآلہ ، صلوعلیہ وآلہ

میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کسی کو زبان نہیں

وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو، وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں

تیرے آگے یوں ہیں دبے لچے، فصحاءعرب کے بڑے بڑے

کوئی جانے منہ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں

سہ عرش پر ہے تیری گزر، دل عرش پر تیری نظر

ملکوت وملک میں کوئی شے نہیں، وہ جوتجھ پہ عیاں نہیں


ای پیپر