آئی ایم ایف نے پاکستان سے کونسی اہم تفصیلات مانگ لیں
19 نومبر 2018 (23:24) 2018-11-19

اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پاکستان سے چین یو اے ای سعودی عرب کے ساتھ مالی معاونت کی تمام تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ رواں مالی سال ٹیکس وصولی کاہدف 47 سو ارب سے زائد مقرر کیا جائے عالمی مالیاتی ادارے نے بجلی کی قیمتوں میں بھی 20 فیصد مزید اضافہ کا مطالبہ کیا ہے .

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان گزشتہ روزکے مذاکرات کا دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آئی ایم ایف وفد نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں 20 فیصد مزید اضافہ کیا جائے جبکہ چین اور دوسرے ملکوں جن میں سعودی عرب متحدہ عرب امارات کے ساتھ مالی معاونت کی تمام تفصیلات بھی مانگ لی ہیںذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر بھی آئی ایم ایف سے اختلاف برقرار ہے جب کہ ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف غیر مطمئن ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے ٹیکس دینے والے کے ہر سال آڈٹ اور ریونیو میں شارٹ فال پورا کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال ٹیکس وصولی کاہدف 47 سو ارب سے زائد مقرر کیا جائے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ شیڈول کے مطابق آئی ایم ایف سے20 نومبر کو بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آئی ایم ایف کے مﺅقف میں کئی باتوں پر اختلاف ہے لیکن آئی ایم ایف سے ہمارے تمام معاملات میں شفافیت ہے،کچھ نہیں چھپائیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات 20 نومبر تک جاری رہیں گے۔ پاکستان بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کیلئے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر تک کی درخواست کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ 7 تا 9نومبر تک ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کا ڈیٹا پیش کیا گیا تھا۔


ای پیپر