حکومت کی سو روزہ کارکردگی
19 نومبر 2018 2018-11-19

اس ماہ کے آخر میں موجودہ حکومت کے سو دن مکمل ہو رہے ہیں۔عوام کو بیتابی سے وزیراعظم کے 100روزہ پلان اور اس پر عمل درآمد کا انتظار ہے۔ عوام کو تحریک انصاف کی حکومت کے ایک سو روز مکمل ہونے پر کوئی حکومتی حاصلات یا کارنامہ نظر نہیں آتا۔ تاہم وزیراعظم 29نومبر کو قوم سے خطاب کر کے حکومت کے ایک سو روز کے حاصلات پر بات کریں گے۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی فیکٹ شیٹ اور مسلم لیگ نواز وہائیٹ پیپر جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اب جب ملک بھر میں یو ٹرن کو جائز قرار دینے کی بات ہورہی ہے۔ کچھ حلقے احتیاطا یہ کہہ رہے ہیں کہ کیا پتہ وزیراعظم اس سو روز کے پلان پر بھی نہ یو ٹرن لیں۔ 100روزہ پلان میں وزیراعظم نے متعدد ٹاسک فورسز قائم کیں، جن کی سفارشات اور رپورٹس کی روشنی میں پالیسیاں وضع کی جانی ہیں۔ اور یہ بھی بتانا ہے کہ ان پر کیسے عمل درآمد کیا جائیگا۔ کمال یہ ہے کہ وزیراعظم نے ایوان سے باہر تو کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز بنالیں لیکن یاو ایوان کے اندر ایک بھی کمیٹی نہیں بنائی۔

انتخابات سے قبل 20 مئی کو اسلام آباد میں ایک تقریب میں 100 دن کے ایجنڈا کا اعلان کیا گیا تھا۔اور عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو100 سو روز میں ہی تبدیلیاں لے آئے گی۔ سیاسی طور پر اس ایجنڈا میں تین بڑے نکات تھے۔ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنا، پنجاب میں سے ایک اور صوبہ بنانا، اور ناراض بلوچ لیڈروں سے صلح کرنا۔تاہم ان تین نکات پر بھی کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ۔ یہ ایجنڈا کے پی کے سابق چیف سیکریٹری شہزاد ارباب کی سربراہی میں تحریک انصاف کے الیکشن مینجمنٹ سیل کے پالیسی یونٹ نے مرتب کیا تھا۔

اعلان کردہ پلان میں اچھی حکمرانی کا نکتہ بھی شامل تھا۔ گزشتہ 100دنوں میں پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں کچھ عجیب مناظر دیکھنے میں آئے۔ خاص طور پولیس اور انتظامیہ میں متنازع تبدیلیوں میں سیاسی مداخلت نظر آئی ۔

رواں ماہ کے آخر میں پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے ایک سو روز مکمل ہونگے۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے پاس اس ایجنڈا پر قائم رہنے کے لئے بہت ہی کم چیزیں ہیں۔ ڈالر کی قیمت بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں ہر چیز مہنگی ہو گئی۔ گیس، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ضمنی بجٹ میں اضافی ٹیکس لگائے گئے۔ یہاں تک کہ کوئی قانون سازی کا کام نہیں کیا۔ کیونکہ 13 اگست سے شروع ہونے والے اسمبلی اپنے چار اجلاسوں میں منی بجٹ کے علاوہ کوئی بل منظور نہیں کر سکی۔ منی بجٹ بھی اس لئے پاس ہوگیا کہ مالی بل سینیٹ یا قومی اسمبلی کی کمیٹی سے منظور کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔

جس میں عالمی مالیاتی ادارے نے سخت ترین شرائط رکھی ہیں۔ نتیجے میں عوام پر مزید بوجھ آنے والا ہے۔

حکومت کی سادگی مہم سے بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ایک کروڑ افراد کو نوکری فراہم کرنا اورپانچ سال میں 50 لاکھ گھر تعمیر کر کے دینا مزید وہ نکات ہیں جس پر سوالات کئے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے اعلان کے باوجود سندھ میں گنے کا بحران جاری ہے۔

ایوان کے اندر حکومت کو سخت چیلنجز درپیش ہیں۔ تازہ واقعہ وزیراطلاعات پر سینیٹ میں تحریک انصا ف کے حمایت یافتہ سینیٹ چئیرمین کی جانب سے لگائی جانیوالی پابندی ہے۔ یہ ملک کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے ۔منتخب ایوان کے اندر حکمران جماعت کے اراکین کی کارکردگی بھی قابل ذکر نہیں رہی۔ یہاں قانون سازی کے بجائے پارلیمنٹ متعدد غیر اہم اورغیر ضروری معاملات پر بحث کرتی رہی۔ اراکین اسمبلی ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتے رہے۔ ایوان مچھلی مارکیٹ بنتا رہا۔ حکومتی رویے سے نہیں لگتا کہ حکمران جماعت کوئی قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ قانون سازی کے لئے حکومت کو دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت پڑے گی۔ حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے جارہا ہے۔

قانون سازی کے لئے کچھ تو کیا جائے۔۔ کوسامنے رکھتے ہوئے چھ نومبر کو چار اراکین کو نجی بل پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ جنہیں اسپیکر نے کمیٹی کے کو بھیج دیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب کے معاملے پر اسپیکر کو سخت مشکل کا سامناہے۔ حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر سخت کشیدگی ہے۔اپوزیشن کی جانب سے بائیکاٹ کی دھمکی کے بعد کمیٹی کی تشکیل کے لئے مزید کارروائی روک دی گئی ہے۔ کیونکہ حکمران جماعت پارلیمانی روایات کے مطابق اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کو اس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے لئے راضی نہیں۔ وزیراعظم عمران خان باضاطہ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ حکومت کسی بھی صورت میں نہیں چاہے گی کہ شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین بنیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت دیانتدار اور کرپشن سے صاف ہے جیسا کہ دعویٰ کرتی ہے، تو پھر اپوزیشن سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین لینے میں کیا ہرج ہے؟ یہ قدم اٹھا کر حکومت کیا چیز چھپانا چاہتی ہے؟ مزید یہ کہ اپوزیشن کو حکومتی معاملات میں شامل کرنے سے حکومت کو بعض سیاسی فیصلے کرنے اور قانون سازی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ حکومت 26نومبر کو اپنے100 روز مکمل کر رہی ہے لیکن ایسی کوئی سبیل نظر نہیں آتی کہ قومی اسمبلی اس عرصے میں یہ کمیٹی تشکیل دے پائے۔ قانون کے مطابق اسپیکرپابند ہیں کہ وزیراعظم کے انتخاب کے بعد تیس روز کے اندر ایوان کی تین درجن سے زائد کمیٹیاں تشکیل دیں۔ اس حساب سے یہ مدت 18 ستمبر کو ختم ہو چکی ہے۔ یہ درست ہے کہ قانون کے تحت لازم نہیں کہ اپوزیشن کا لیڈر ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بنیں، تاہم گزشتہ دس سال سے یہی روایت چل رہی ہے تاکہ مالی معاملات میں شفافیت رہے۔

آج تک کی حکومتی کارکردگی پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے پاس اپنے ایجنڈے کا دفاع کرنے کے لئے کوئی زیادہ مواد موجود نہیں۔عوام اپنے اوپر معاشی، سیاسی مسائل کا بوجھ محسوس کر رہے ہیں جس میں موجودہ حکومت نے اضافہ کیا ہے۔ قانون سازی ہو یا سیاسی معاملات، ایوان کو مہذب طریقے سے چلانے کی بات ہو یاقومی اسمبلی میں کمیٹیوں کی تشکیل، عوام کو کچھ ریلیف دینا یا انتظامیہ میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ، مجموعی ملکی معیشت کی بحالی ، یہ سب ابھی تک وعدوں اور دعوؤں کی شکل میں موجود ہے۔ دیکھیں وزیراعظم 100 روز کے پلان کے لئے مجوزہ قومی خطاب میں کوئی ٹھوس چیز دیتے ہیں یا یو ٹرن لیتے ہیں اور اپنے وعدوں کو التوا میں رکھنے کا اعلان کرتے ہیں۔


ای پیپر