حاجی عبدالوہاب ؒ جوارِ رحمت میں!
19 نومبر 2018 2018-11-19

امیر تبلیغ جماعت حاجی عبدالوہاب صاحب 18 نومبر 2018ء کو 96سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ مرحوم متحدہ ہندوستان کے ضلع کرنال میں 1922ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کرنال اور انبالہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد گریجوایشن اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے کیا۔ گریجوایشن کے بعد تحصیلدار بھرتی ہوگئے مگر بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس ؒ کی ملاقات نے دل و دماغ میں ایسا انقلاب برپا کیا کہ سرکاری ملازمت چھوڑ کر پوری زندگی اللہ کے دین کے لیے وقف کر دی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔

حاجی عبدالوہاب صاحب راجپوت فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے کئی عزیز راقم الحروف کے ذاتی دوستوں میں شامل ہیں۔ حاجی صاحب کے خاندان نے قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے بورے والا ضلع وہاڑی میں رہائش اختیار کی۔ ان کا گاؤں چک نمبر331 EB تحصیل بورے والا ضلع وہاڑی میں واقع ہے۔ آپ نے جوانی میں شادی کی ، مگر اللہ نے کوئی صلبی اولاد تو عطا نہیں فرمائی تاہم ان کی روحانی اولاد پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ حاجی صاحب کی اہلیہ کئی سال قبل وفات پاگئی تھیں۔ حاجی صاحب مستقل طور پر رائیونڈ مرکز میں مقیم تھے۔ ان کا جنازہ ایک مثالی جنازہ تھا، جس میں بلامبالغہ اہل ایمان کا ایک جمِ غفیر اُمڈ آیا تھا۔ رائیونڈ کے گردونواح کی تمام سڑکیں ٹریفک سے جام ہوگئی تھیں۔ حاجی صاحب کی نماز جنازہ مغرب کی نماز کے فوراً بعد طے تھی، مگر عملاً یہ 7:30 بجے کے لگ بھگ ہوئی۔ پھر بھی ایک بہت بڑی تعداد رش کی وجہ سے جنازے میں نہ پہنچ سکی۔

ہم منصورہ سے 3بجے روانہ ہوئے اور نماز مغرب سے چند منٹ قبل مقررہ جگہ پر پہنچ سکے۔ نماز مغرب کے بعد کافی تاخیر سے مولانا طارق جمیل صاحب کا خطاب شروع ہوا مگر وہ چند منٹ ہی بول پائے۔ ان کے بعد حاجی صاحب کے معاونِ خصوصی اور منہ بولے بیٹے برادرم مولانا محمد فہیم صاحب نے حاجی صاحب کے حوالے سے کئی واقعات اور ان کی بہت سی تعلیمات بیان کیں۔ آخر میں ان کی وصیت بھی پڑھ کر سنائی۔ اس دوران مجمع عام میں حاجی صاحب کے عقیدت مند دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ منصورہ سے نکلنے کے بعد ہم نے سوچا کہ اپنے ساتھ جائے نماز اور چادریں لے جانی چاہیے تھیں۔ بہرحال ہمارے رفیقِ سفر اور رائیونڈ میں مقیم سید لطیف الرحمن شاہ صاحب نے اپنے بیٹے کو فون پر حکم دیا کہ وہ گھر سے چادریں لے کر رائیونڈ چوک میں پہنچ جائے۔ چنانچہ ہمارے وہاں پہنچنے سے پہلے وہ ہمارا منتظر تھا۔ ہم تین گاڑیوں میں روانہ ہوئے تھے۔ قافلے میں گیارہ افراد شامل تھے۔ راقم الحروف کے علاوہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمالک ، نائب امیر جماعت اسلامی جناب ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، محترم مولانا محمود احمد فاروقی، سید لطیف الرحمن، سید محمد قطب، مولانا تقویم الحق، جناب صلاح الدین، ڈرائیورمحمد شریف، محسن ایوب اور حفیظ الرحمن شامل تھے۔

لطیف الرحمن شاہ صاحب کی چادروں نے ہمیں بڑا کام دیا۔ دیر تک بیٹھنا پڑا۔ فرید پراچہ صاحب کے لیے نیچے بیٹھنا مشکل تھا، انھوں نے بیشتر وقت کھڑے کھڑے گزارا۔ ایک جگہ کھڑا رہنا بڑی ہمت کی بات ہے۔ باقی اہل قافلہ اطمینان سے بیٹھے رہے۔ مجمع میں ہمارے جاننے والے کئی ساتھی شامل تھے۔ بعض ساتھی اپنی جگہ چھوڑ کر ہمارے پاس آگئے۔ جنازے کے لیے صفیں باندھنے کا حکم ملاتو حدِ نگاہ تک پھیلی گراؤنڈ میں انسانوں کا ایک سمند ر تھا۔ بعض لوگ امام سے آگے صفیں بنا کر کھڑے تھے، انھیں بار بار لاؤڈ اسپیکر پر منتظمین متوجہ کرتے رہے۔

نئے امیر مولانا نذر الرحمن دامت برکاتہ نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی۔ علمائے احناف جنازہ بہت مختصر پڑھاتے ہیں، حالانکہ اہل علم کو ہر جنازے میں زیادہ سے زیادہ مسنون اور قرآنی دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جنازے کے بعد لوگوں کو اپنے قافلے اور گاڑیاں تلاش کرنے میں بڑی دقت پیش آئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ موبائل سروس جام کی جاچکی تھی۔ بہرحال بڑی تگ و دو کے بعد ہمیں اپنی گاڑیاں مل سکیں۔ واپسی پر اتنا رش تھا کہ گیارہ بجے منصورہ پہنچ سکے۔ راستے بھر حاجی صاحب کی مقبولیت اور جنازے کی کیفیت موضوعِ سخن رہی۔ واقعی حاجی صاحب کا آخری سفر یادگار ہے۔ ایسا جنازہ تاریخ میں کبھی کبھار کسی کو نصیب ہوتا ہے۔

حضرت مولانا محمد فہیم صاحب نے حاجی صاحب کی جو وصیت پڑھ کر سنائی، اس کا ایک حصہ ان کی جانشینی سے متعلق تھا۔ انھوں نے اپنی وصیت میں لکھا کہ جماعت اور مرکز کے تمام معاملات کی ذمہ داری ان تین افراد پر ڈالی جائے، جن کے نام ترتیب وار لکھوائے گئے ہیں۔ پہلے نمبر پر عالم ربانی مولانا نذر الرحمن ، دوسرے نمبر مشہور مبلغ اور عالم جناب احمد بٹلہ اور تیسرے نمبر پر حضرت مولانا عبید اللہ کے نام لکھوائے گئے۔ اس وصیت کے مطابق مولانا نذر الرحمن صاحب تبلیغی جماعت کے پانچویں عالمی امیر مقرر ہوئے ہیں۔ نماز جنازہ ان ہی کی امامت میں ادا کی گئی۔

تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ نے 1927ء میں جماعت کی بنیاد رکھی۔ وہ اپنے انتقال 1944ء تک جماعت کے امیر رہے۔ اس کے بعد ان کے بیٹے حضرت مولانا یوسف کاندھلوی امیر مقرر ہوئے، وہ 1965ء تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ ان کی رحلت پر مولانا انعام الحسن ؒ امیر مقرر ہوئے۔ان کی وفات1995ء میں ہوئی۔ ان کے انتقال کے دو بعد ماہ حاجی عبدالوہاب صاحب چوتھے امیر کے طور پر 10جون 1995ء کو یہ ذمہ داری اٹھائی۔ ان کی وفات پر بزرگ عالم دین اور پوری زندگی اللہ کے راستے میں وقف کردینے والے مبلغ حضرت مولانا نذر الرحمن کو امیر مقرر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت امیر محترم کو اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حاجی عبدالوہاب صاحب نے دورِ جوانی میں مجلس احرار میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھ بھی کام کیا۔ اسی طرح وہ روحانی طور پر مولانا عبدالقادر رائے پوری کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ لاہور میں قیام کے دوران مولانا احمد علی لاہوری کے دروس میں شیرانوالہ گیٹ حاضری دیتے تھے۔ جس دور میں جناب راؤ عبدالوہاب ایف اے اور بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، اسی دور میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں مولانا مودودیؒ کے باقاعدہ لیکچر ہوتے تھے۔ مولانا مودودیؒ اعزازی طور پر کالج انتظامیہ کی فرمائش پر یہ لیکچر دیتے تھے۔ کالج کے وسیع و عریض حبیبیہ ہال میں ان لیکچرز میں پورے کالج کے طلبہ اور اساتذہ شرکت کیا کرتے تھے۔ ان لیکچرز میں شرکت کرنے والوں میں بڑی بڑی تاریخی شخصیات کے نام ملتے ہیں۔ انھی میں وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس ملک غلام علیؒ ، پروفیسر علم الدین سالکؒ اور جناب حاجی عبدالوہاب ؒ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

بانی تبلیغی جماعت سے سید ابوالاعلی مودودیؒ کو بھی بڑی عقیدت تھی۔ راقم الحروف کو کئی مرتبہ تبلیغی مرکز میں اکابرِ جماعت کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک یادگار حاضری کا اعزاز 2016ء کے آغاز میں حاصل ہوا۔ اس موقع پر میں نے ایک مضمون بھی لکھا تھا ، جس میں اس حاضری کی کچھ تفصیل تھی۔ اس مضمون میں سے چند نکات اس موقع پر پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ’’مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے میوات کے علاقے میں تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ کی رفاقت میں ماہ ستمبر1939ء میں کئی دن گزارے۔اس عرصے میں انہوں نے مولانا محمد الیاسؒ صاحب کی فکر سے آشنائی حاصل کی۔مولانا الیاس ؒ صاحب نام کے مسلمانوں کی تربیت کرکے انہیں حقیقی مسلمان بنانے کی کاوش میں مصروف تھے۔مولانا مودودیؒ ،حضرت مولانا الیاس صاحب کی شخصیت اور فکر سے بہت متاثر ہوئے۔

واپسی پر انہوں نے اس مفید کام کے بارے میں اپنے ’’ماہنامہ ترجمان القرآن‘‘ اکتوبر1939ء میں ایک مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا ’’ایک اہم دینی تحریک ‘‘۔ میں کئی مرتبہ اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو مولانا کا لکھاہوا مضمون ذہن میں تازہ ہوجاتاہے۔ میں سوچتاہوں کہ اگر ان دو عظیم شخصیات کو کچھ مزیدعرصے کے لیے ایک دوسرے کی رفاقت حاصل ہوجاتی تو آج وطن عزیز میں یہ دو اسلامی قوتیں ایک دوسرے کی ممد و معاون بن کر کفرکی سازشوں اور لادینی قوتوں کی یلغار کو شکست دے چکی ہوتیں۔ بہرحال اللہ کی اپنی مشیت ہوتی ہے کہ بوجوہ وہ پیش رفت نہ ہوسکی جو یقیناً ان دونوں عظیم رہنماؤں کی سوچ کی عکاّس تھی۔

مرکزِ تبلیغ میں حاضری کے دوران جناب حاجی عبدالوہاب صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت علالت کی وجہ سے صاحبِ فراش ہیں۔ انھوں نے الوداعی ملاقات کے موقع پر فرمایا’’اُمت کی حالت بڑی نا گفتہ بہ ہے۔ تمام لوگوں کو پیغام پہنچائیں کہ وہ کثرت کے ساتھ استغفار کریں ۔‘‘ ہم نے حاجی صاحب سے دعائیں لیتے ہوئے انہیں الوداع کہا۔‘‘ حاجی صاحب سے مصافحے اور ان کی محبت بھری دعاؤں کی شیرینی ان کے جنازے میں حاضری کے وقت دل پر حاوی رہی۔ حق مغفرت کرے، یہ بندۂ رب عظیم قائد تھے!


ای پیپر