جمہوریت میں یوٹرن نہیں سیدھا راستہ
19 نومبر 2018 2018-11-19

سو دن کی کہانی ختم ہوا چاہتی ہے۔ اب بتانے کا وقت ہے کہ ان دنوں کو ہم کس طرح شمار کریں کہ غریبوں کی قسمت بدلنے کی جو تصویر بنائی گئی تھی کہاں تک عوام کے درد کا مداوا ہوا یا یونہی قصے کہانیاں یا یوٹرن ہیں۔ دعوے کے مطابق ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دینے کا جو عہد کیا وہ تعداد سو دنوں میں کہاں تک پہنچی۔ 50 لاکھ گھروں میں سے کتنے لاکھ کتنے ضرورت مندوں نے آشیانوں میں بسیرا کر لیا ہے۔ یہ کارکردگی خود حکومت بتائے گی۔ ہم تو نیا پاکستان دیکھ رہے تھے اب قصہ یوٹرن کا چھیڑا گیا ہے۔ ایک کپتان نے یوٹرن لیا۔ جس سے متاثر ہو کر ان کے وزیر اطلاعات نے تاریخ کا ہی یوٹرن کر دیا ہے انہوں نے جہلم کے مقام پر لڑی گئی تاریخی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے جہلم کے سپوت راجہ پورس کو اس دھرتی کا عظیم شخص قرار دیا اور سکندر اعظم کو شکست خوردہ بتایا۔ اصل تاریخ یہ ہے کہ پورس نے سکندر اعظم کو شکست دینے کے لیے جو حکمت عملی بنائی تھی اس میں پورس کے ہاتھیوں کو کنٹرول اینڈ کمان کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ۔مگر پورس کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ہر اول دستہ ہاتھیوں کی فوج بھی یوٹرن لے سکتی ہے ۔ انہوں نے یوٹرن لیا اور پورس کی فوج کو ہی کچل کر رکھ دیا۔ اب ہر جگہ یوٹرن کا تذکرہ ہے خود وزیر اعظم یوٹرن پر یوٹرن لے رہے ہیں۔ اب دولت چھپانے والوں کے خلاف یوٹرن لے رہے ہیں۔ مگر ریاست مدینہ کی شرط ہے۔ اقتدار پانے کے لیے جو طریقے رائج کیے جا رہے ہیں یا کیے جائیں گے۔ ہمیں مرحوم حفیظ پیر زادہ کی یہ بات یاد آ گئی۔جو انہوں نے دھاندلی پر جوڈیشل کمیشن کے سامنے عمران خان کا وکیل بنتے ہوئے کی تھی کہ وہ کمیشن کے رو برو ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جس کا ثبوت آپ کے پاس نہیں ہو گا یہی وجہ تھی حفیظ پیر زادہ نے کمیشن کے سامنے کپتان کے وہ الزامات نہیں اُٹھائے جو انہوں نے جلسے، جلوسں اور انٹرویوز میں کہے تھے ۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی نے 35 حلقوں کے نتائج بدلے یعنی 35 پنکچر لگائے ، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے آر اوز کے ذریعے دھاندلی کرائی۔ چیف الیکشن کمیشن دھاندلی کا حصہ تھا اس طرح کے اہم سوالات تو اٹھائے ہی نہیں گئے۔ الزام لگانے والا ثابت نہیں کر سکا یہ کہناتھا جوڈیشل کمیشن کا ۔ تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوں، مدینہ کی ریاست میں ایسا کوئی نظریہ نہیں۔ بلکہ صادق اور امین کا سوال اٹھتا ہے۔ اگر کسی کو شک ہوتو آخری خطبہ ہی پڑھ لیا جائے۔ جو مکمل رہنمائی ہے حکمرانوں کے لیے تو یہ بہت ضروری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف کے ہمراہ ابوظہبی کا دورہ کیا یہ کتنا کامیاب رہا یا ناکام۔ کتنی امداد اور قرضہ ملا یہ تو معلوم نہیں البتہ ایسے وقت میں اپوزیشن بھی امڈتی چلی آ رہی ہے۔ جس کا آغاز پی پی پی نے کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے بارے میں جس لب ولہجہ میں بات کی ہے حساب مانگا ہے سو دن کا ’’ ان کو تو تو میں میں کے سوا تیسرا لفظ نہیں آتا۔ معاشی بحران کیا کم کریں گے۔ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب گئے ہیں۔ بلاول نے یوٹرن پر بھی تبصرہ کر ڈالا۔ چوری کے ووٹ سے بننے والی حکومت سینہ زوری پر اتر آئی ہے 100 دن نہیں ہوئے سو یوٹرن لے چکے ہیں۔‘‘

حکومت کے کپتان نے ’’ یوٹرن‘‘ لینے کا سوال چھیڑ کر خود کے لیے تنقید کے دروازے کیا کھولے اب خواجہ آصف کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا کہ تھوڑا سا انتظار کریں خان صاحب یو ٹرن پر بھی یوٹرن لیں گے صدر پاکستان سے گورنر تک سب آنکھیں بند کر کے یوٹرن کے حق میں دلیلیں لانے لگتے ہیں۔ کپتان نے معاملہ تو تاریخ کا چھیڑا ہے ہٹلر اور میسولینی کے انجام کی کہانی 73 سال سے بتائی جا رہی ہے کہ یہ بھی کہا گیا ہٹلر حکمت سے کام لیتے تو وہ بڑے نقصان سے بچ سکتے تھے اور میسولینی کی موت عبرتناک نہ ہوتی۔ دنیا کی تاریخی جنگوں سے بھری پڑی ہے ۔ بڑے بڑے ظالم آئے اور رخصت ہوئے جو شہرت ہٹلر کو ملی وہ کسی اور کے حصہ میں نہ آئی ۔ کوئی تو بتائے کہ ہٹلر یوٹرن لے بھی لیتا تو کیا وہ اپنے انجام سے بچ سکتا تھا۔ دوسری جنگ کے اختتام پر کتنے نامور لوگ پھانسی چڑھ گئے۔ ہٹلر تو وہ شخص تھا جو طاقت سے حکمران نہیں بنا تھا ۔ اس نے پہلی جنگ عظیم میں جرمن کا جو حشر دیکھا ان کے ملک کی ساری عظمت تو خاک میں مل گئی تھی۔ یسمارک بھی ذلت سے نہ بچ سکا۔ ہٹلر کہنے کو تو ڈکٹیٹر تھا وہ عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آیا تھا ۔ وہ انتقام سے بھرا ہوا تھا مگر جرمن کی عظمت کو بحال کرنا چاہتا تھا۔ اس کے سامنے یہ راستہ تھا کہ وہ نئے جرمنی کے وعدوں کو بھول جاتا اور یوٹرن لے لیتا۔ ریاستی وسائل سے مزے کی زندگی گزارتا۔ کرکٹ جیسے کھیل کو فضول کہہ کر اس پر پابندی نہ لگاتا۔ ہٹلر کو اپنے ملک کی بقاء کے لیے کافی کچھ کرنا تھا ۔ اس زمانے میں تو ریاستیں اپنے وجود کو منوانے کی فکر میں تھیں۔ برطانیہ اس زمانے میں ایسی ریاست تھی جس کی آدھی دنیا پر حکومت قائم تھی۔ ہٹلر کے اپنے منشور اور ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے جب ہالینڈ کو دبوچا تو اس کے ساتھ ہی برطانیہ نے ہٹلر کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے 61 ملک اس جنگ عظیم میں دھکیلے گئے تقریباً دنیا کی اَسی فیصد آبادی ہٹلر کی وجہ سے جنگ کی لپیٹ میں آئی ۔ اس جنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ مارے گئے ۔ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان روس کا ہوا مگر ہٹلر اتنا بڑا نقصان کرنے کے با وجود روس کو زیر نہیں کر سکا کہا جاتا ہے کہ جب تک نومبر اور دسمبر کے مہینے موجود ہیں۔ روس کو کوئی فتح نہیں کرسکتا۔ ہٹلر سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ اس نے روس پر حملہ کرنے کے لیے نومبر اور دسمبر کا انتخاب کیا۔ موسم کی شدت سے جرمنی کے سپاہی روسی سپاہیوں کا مقابلہ تو کر سکتے تھے مگر موسم سے لڑنا ان کے بس میں نہیں تھا۔پھر ہولو کاسٹ کا نظریہ مقبول ہوا ۔ اس میں شک نہیں کہ ہٹلر اور ان کی نازی حکومت کے سامنے ایک مقصد تھا جس میں اس نے مشرقی یورپ کی تمام آبادیوں اور ممالک کو ختم کر کے جرمنوں کے لیے ایک وسیع سلطنت قائم کرنا تھی۔ اس مقصد کے لیے ہٹلر کو ایک جھوٹ بولنے والا اور پروپیگنڈا کا ماہر جوزف گوئبلز مل گیا تھا۔ اس نے پریس پر پابندیاں لگائیں۔ معلومات پر حکومتی کنٹرول سخت کر دیا ۔ وہی ہوا جو جنگوں کے انجام میں ہوتا ہے۔ پوری دنیا کو تگنی کا ناچ نچانے والا ہٹلر گھیر لیا گیا اور ایک بینکر میں محضور ہو گیا ۔ پوری دنیا کے نظام کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے والا ہٹلر کیسے بے وقوف تھا کہ وہ یوٹرن لیتا ؟ یہ 5 روزہ کرکٹ میچ نہیں تھا کہ تیز گیندوں پر کھیلنے والے اوپنرز کے سامنے سپنر باؤلر کو لگا دیا جائے۔ روسی فوج کے برلن میں داخل ہوتے ہی ہٹلر کو یقین ہو گیا ان کا آخری وقت قریب آ چکا ہے یوٹرن کیسے لے سکتا تھا ۔ سلطنت روم کے شہنشاہ نیرو نے خوفناک آگ میں جلتے ہوئے دیکھا تو اس نے یوٹرن لیا۔ وہ اس دوران ایک پہاڑی پر بیٹھا بلندی پر پابندی بجا کر اس نظارے سے لظف اندوز ہو رہا تھا ۔ ریاست مدینہ تو یوٹرن موقع پرستی پر نہیں اصول سے چلتی ہے جب آپ جھوٹ بولیں یوٹرن کو حکمت کہیں آپ کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی زد میں بھی آتے ہیں۔ کوئی اپنے ملک کی عظمت بحال کرنے کے لیے ہمارے سامنے فرانس کے سابق صدر ’’ ڈیگال‘‘ کا ماڈل ہے۔ جس نے دو جنگوں میں فرانس کو تباہ ہوتے دیکھا ۔ جدید فرانس کا بانی ڈیگال اپنی قوم کو سرفرازی کی طرف لے جانے کے لیے کسی شاٹکٹ کا حامی تھا ۔ اس نے نہ کشکول اٹھایا نہ آئی ایم ایف کے قدموں میں گرا اور نہ اس نے کشکول میں بار بار جھانکا کہ کتنے آئے ہیں اور نہ ہی اس نے پولیس کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفوں کو پھنسایا۔ نہ ہی اس نے فوج کو عوامی معاملات میں آنے کی دعوت دی ۔ ڈیگال خود نمونہ بنا جب لیڈر سچا ہو تو بڑے سے بڑا بحران بھی ٹل جاتا ہے۔


ای پیپر