طاہر داوڑکا اغوااور قتل!
19 نومبر 2018 2018-11-19

مصدقہ اطلاع یہی ہے کہ جب خیبر پختون خوا پولیس کے آفیسر مقتول ایس پی طا ہر داوڑ اسلام آباد سے اغواہوئے،تو ان کی گمشدگی کی اطلاع بر وقت رمنا پولیس اسٹیشن کو دی گئی۔لیکن پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔پولیس کا خیال تھا کہ طاہر داوڑ چھٹیوں پر دارالحکومت آئے ہوئے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ دوستوں کے ساتھ کسی محفل میں ہو،جس کی وجہ سے موبائل فون بند کیا ہوگا۔پولیس کا یہ روایتی تساہل ہے جو زیادہ ترواقعات میں ان سے سرزد ہو جاتی ہے ،وہ بھی قصداً۔

اسلام آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر گز شتہ کئی بر سوں سے پولیس ناکے قائم ہیں۔پو لیس کے یہ ناکے حفاظت سے زیادہ عوام کے لئے بے پناہ تکلیف کا با عث ہیں۔ دن کو پولیس اہلکار بڑی شاہراہوں پر رکاٹیں کھڑی کر کے خود غائب رہتے ہیں۔ان رکاوٹوں کی وجہ سے ٹریفک جام بھی معمول بن چکا ہے۔اس لئے کہ پولیس اہلکار نا کے سے دور کھڑے ہو کر تما شہ دیکھتے ہیں یا مو بائل فون میں مصروف رہتے ہیں۔لیکن سورج غروب ہو نے سے تھو ڑا سا پہلے یہ تمام ناکے ’’آباد‘‘ ہو جاتے ہیں۔جب سے شہر یار آفریدی وفاقی وزیر مملکت بر ائے داخلہ امور بنائے گئے ہیں ،عصر سے پہلے ہی پو لیس اہلکار ان ناکوں پر چوکس ہو جاتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ کسی بھی وقت کیمروں کے ساتھ اچانک چھا پہ مار سکتے ہیں۔رات کے وقت ان ناکوں پر فرائضی منصبی ادا کرنے کے لئے اسلام آباد پولیس کے خصوصی اہلکار نعینات ہو تے ہیں۔ ان خصو صی پولیس اہلکاروں کی خاص خا صیت یہی ہے کہ ناکے پر پہنچنے سے پہلے یہ گاڑی کے بارے میں تمام معلومات سونگھ لیتے ہیں۔اگر گاڑی میں لڑکا اور لڑکی ہے تو یہی خاص پولیس عقابی نگاہوں سے جانچ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اندر موجود افراد ’’دوست‘‘ ہیں۔ میاں ،بیوی یا بہن بھا ئی۔نا کوں پر مو جود ’’نائٹ سکواڈ‘‘ کے یہ جوان یہ بھی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ بغیر تلاشی کے انداز ہ لگا سکتے ہیں کہ گاڑی میں مو جود افراد کی جیبوں میں کون سامشروب ہو سکتا ہے۔وہ بغیر تلاشی کے یہ تک جا ننے کی صلا حیت رکھتے ہیں کہ سواریوں کی جیبوں میں نسوار ہے،سگریٹ یا چرس۔رات کو ان نا کوں پر مو جود ’’نائٹ سکواڈ‘‘ کے اہلکار دور سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ گاڑی کی ڈیگی میں پھلوں کے کارٹن ہیں،کو ئی خاص مشروب یا زندہ انسان۔بس آپ ان کو چائے پانی دے یامٹھی گرم کریں۔پھر باعزت نکل جائے یا داخل ہو جائے اسلام آباد میں۔

اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس نا کے اس لئے بنا ئے گئے تھے کہ شہر میں دہشت گر دوں ،اغوا کاروں اور بارود سے بھری گاڑیوں کا داخلہ روکا جائے۔18 سال گزر گئے ،ان نا کوں کو بنے ہوئے۔لیکن پھر بھی دہشت گرد وں نے جب چا ہا شہر اقتدار میں داخل ہوئے۔بارود سے بھری گاڑی نے جب بھی اسلام آباد کا رخ کیا ،اسے روکا نہیں جا سکا۔جب بھی اغوا کاروں نے کسی کو اسلام آباد سے اغوا کا منصوبہ بنایا وہ ناکام نہیں ہوا۔بس آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ’’ناکے‘‘ نہیں بلکہ ’’نائٹ سکواڈ‘‘ اور ان کے سرپرستوں کے لئے کمائی کا ذریعہ ہے۔

تین ہفتے قبل پولیس آفیسر اغوا ہو جاتا ہے ۔وہ بھی اس وقت کہ جب ابھی ’’ نائٹ سکواڈ‘‘ نے تازہ تازہ پوزیشن سنبھالی ہو۔آج کل پولیس اہلکار اندھرا چھاجا نے سے پہلے کارروائیاں شروع کرتے ہیں۔ اس لئے کہ کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کس وقت وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہر یار آفریدی تصو یر یا وڈیو بنا نے کے لئے آجائے۔نا کو ں پر ’’نائٹ سکواڈ ‘‘ کا چارج سنبھالنے کے فوری بعد پولیس آفیسر طاہر داڑ کا اغوا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اہلکار عوام کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ کمائی کے لئے اپنی راتوں کا سکون قربان کرتے ہیں۔اسلام آباد میں بے شمارناکے ہیں۔اس شہر سے ان کو نکال لینا پولیس اور خفیہ اداروں کی روایتی غفلت کا نتیجہ ہے۔

ایس پی داوڑ کی شہادت کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔لیکن ضروری ہے کہ سب سے پہلے غفلت کے مر تکب اسلام آباد پولیس کے آفیسروں اور اہلکاروں کا محاسبہ کیا جائے۔ان سے پو چھا جائے کہ انھوں نے شک کی بجائے فوری طور پر تلاش کیوں شروع نہیں کی؟تحقیات میں ضروری ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی سے بھی تفتیش کی جائے کہ کس رپورٹ یا معلومات کی بنیاد پر انھوں نے ایس پی داوڑ کی گمشدگی کی تر دید کی تھی۔اعلیٰ منصب پر فائز ایسے شخص کا محاسبہ نہ صرف ضروری ہے ،بلکہ ان کو سزا بھی دینی چا ہئے تا کہ آئندہ کو ئی ذمہ دار اس طر ح کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔

ایس پی طاہر داوڑ کی افغانستان میں شہادت کے بعد وفاقی وزیر مملکت بر ائے داخلہ امور شہر یار آفریدی سے بھی تفتیش کی ضرورت ہے، اس لئے کہ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کو میانوالی سے بر استہ بنوں افغانستان لے جا یا گیا۔ان سے پو چھنا چا ہئے کہ جب ایس پی طاہر داوڑ اغوا ہو ئے تو انھوں نے فوری ایکشن کیوں نہیں لیا؟ اس اغوا کے بعد سب کو معلوم تھا کہ ان کو افغانستان لے جانے کی کو شش کی جائے گی تو بارڈر پر سیکیورٹی سخت کرنے کے لئے اقدامات کیوں نہیں اٹھا ئے گئے؟شہر یار آفریدی نے ایوان میں دھمکی دی ہے کہ مقتول ایس پی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا یا جائے گا ،چاہئے وہ سرحد کے اس پارہو یا اس پار۔وفاقی وزیر مملکت کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس پار آپ کی حکمرانی نہیں ۔سرحد کے اس پار آپ کی ذمہ داری تھی وہ آپ پوری نہ کر سکے۔اس لئے اپنی ناکامی چھپانے کے لئے اب جذباتی تقریروں کا سہارا لینے کی بجائے قاتلوں کو تلاش کرنے پر توجہ دیں۔وفاقی وزیر مملکت کا سیف سٹی منصوبہ پر عدم اعتماد اور اس قتل کا تمام تر ملبہ گز شتہ نہیں بلکہ اس سے بھی گزشتہ حکومت پر ڈالنا درست رویہ نہیں۔مانا کہ سیف سٹی منصوبہ میں خامیاں ہیں،لیکن اسلام آباد سے میانوالی وہاں سے بنوں اور پھر افغانستان ۔اس روٹ پر لاتعداد چیک پو سٹ مو جود ہیں۔کیا وجہ ہے کہ اغواکار اتنی آسانی سے طاہر داوڑ کو لے کر گئے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ بھی پولیس کی طر ح انتظار میں تھے کہ مو بائل کی بیٹری ڈیڈ ہو گئی ہو گی ،خود واپس آجائے گا۔

مجھے اس بات پر شرح صدر ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کے قاتل کبھی بھی گر فتار نہیں ہو سکیں گے۔لیکن وزیر اعظم عمران خان سے یہ مطالبہ ضرور ہے کہ مجرمان گر فتار ہو یا نہ، ان لوگوں کو سزا ضرور ملنی چاہئے جنھوں نے غفلت ،بے حسی اور غیر سنجیدگی کا مظاہر ہ کیا ہے۔مجرمان گر فتار اس لئے نہیں ہو نگے کہ جرم افغانستان میں ہوا ہے۔چند بر س قبل جلال آباد میں پاکستان کے سفارتی اہلکاررانا نیئر اقبال کو قتل کیا گیا تھا ،ابھی تک ان کے قاتل نہیں پکڑے جا سکے ،تو طاہر داوڑ کے کیسے گر فتار ہوں گے؟


ای پیپر