Muhammad Ali Jinnah,Nai Baat Magazine Report
19 May 2021 (16:51) 2021-05-19

اسد شہزاد:

 جو کسی ہندوستانی کو پہلی بار ملی تھی اور اسے پانے والے نے اسے ہی ابتدائی جدوجہد کے دور میں اندھیرے میں اُمید کی ایک کرن سے تعبیر کیا ”سرچمن لال ستیل وار نے تبصرہ کیا میکفرسن کی وکالت کافی اُچھلتی تھی۔ان کی زبان جامع اور مکمل تھی۔ ان کے معاون کی حیثیت سے جناح کو متعلقہ شعبہ میں بنیادی جانکاری حاصل ہوئی لیکن چند معاملوں کو چھوڑ کر انہیں اپنے پیشے کی سیڑھیاں طے کرنے میں کامیابی نہیں ملی“۔ جناح کو پہلا موقع 1900 میں ملا جب انہیں مجسٹریٹ بنایا گیا۔ اس وقت ایک نوجوان وکیل کے لیے ایسی تقرری بہت عزت کی بات تھی۔

جناح کے پرسیڈنسی مجسٹریٹ بننے کے بعد 10مئی 1900ء کو کراچی کے ایک روزنامہ ”سندھ گزٹ“ نے ان کی تقرری کی تعریف کرتے ہوئے خبر شائع کی تھی کہ ”مسٹرجناح کے بمبئی کا تیسرا پرسیڈنسی مجسٹریٹ بننے پر خوجہ سماج مبارکباد کا مستحق ہے۔ وہ کراچی کے سب سے پرانے اور مشہور ومعروف تاجروں میں ایک تاجر مسٹر جینا بھائی کے صاحبزادے ہیں۔ مسٹر محمد علی جناح بہت کم عمر میں ہی بار کے امتحان میں کامیاب رہے ہیں اور ان کی واپسی پر بمبئی ہائی کورٹ نے انہیں ایڈووکیٹ کی حیثیت سے نامزد کیا ہے۔ اس وقت جناح صرف 24سال کے تھے لیکن قانون سے دلی لگاؤ تھا اور ایمانداری کو فوقیت دیتے تھے۔ وہ کچھ عرصہ تک سرجارج لاؤنڈیز کے چمبر میں رہے جو بعد میں وائسرائے ایگزیکٹو کونسل کے لاء ممبر بنے۔ لاؤنڈیز بہت ہی کھلے دل ودماغ کے تھے اور دلائل پیش کرنے کا ان کا انداز منفرد اور پُراثر تھا۔ ایک بار جب جناح ان کے چیمبر میں مطالعے میں مصروف تھے تب تک کسی کی تقریر سے متعلق کوئی کانفرنس ہونے والی تھی۔ اس وقت لاؤنڈیز نے جناح سے پوچھا ”کیا آپ نے اس سلسلے میں کچھ پڑھا ہے اور اس پر آپ کے کیا تاثرات ہیں؟“ میں نے ان کی فائل نہیں دیکھی ہے اور دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ تلک جیسے عظیم وطن پرست پر مقدمہ چلانے کے بارے میں حکومت کی تنقید سے خود کو الگ رکھنا چاہتا ہوں“۔ بمبئی میں ایک وکیل کی حیثیت سے اس وقت تک محمد علی جناح کافی مقبول ہو گئے تھے۔ ایک مقدمے کی شنوائی کے دوران جج نے تین بار جناح کو ”بکواس“ کہہ کر ٹوکا۔ تب جناح نے جواب میں کہا ”یار لارڈشپ! آج پورے دن کی زبان سے ”بکواس“ کے علاوہ کچھ اور ادا نہیں ہوا“۔ جناح جب وکالت شروع کی تھی اس وقت ہندوستانیوں کے خلاف نسل ورنگ کو لے کر کافی امتیاز برتا جاتا تھا لیکن انہوں نے اپنی قابلیت مشہور وکلاء کے درمیان رہ کر اتنے کم عرصے اور کم عمر میں حاصل کی جو ان کے کردار اور ان کی قابلیت کا مظہر ہے۔

مسلم اتحاد کا سفیر:

خوجہ برادری کے بارے میں یہ عام خیال رہا ہے کہ وہ ہندوؤں کی لوہنا ذات سے مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہوئے ہیں۔ جناح کا تعلق شیعہ خوجہ برادری سے تھا۔ ویسے خوجہ برادری کو ان کے یقین اور مذہبی عادتوں کی وجہ سے آسانی سے کسی اور خانے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ برنارڈ لوئیس نے تو ”ایک بار غلاف میں ڈھکے ہندو“ سے ان کو تشبیہ دی ہے، ویسے خوجہ اپنے آپ میں اسلام کی چھتری تلے ہندو اور مسلمان دونوں مذاہب کی عادتوں کی ایک منفرد تصویر ہے۔ غالباً اسی لیے 1917ء میں سروجنی نائیڈو نے جناح کی شخصیت کی کھلے ذہن کی خصوصیات کو ان کے خوجہ ہونے کے ساتھ جوڑا ہوگا۔ جب انہوں نے کہا کہ ”جناح“ ذات سے ہندو ہیں اور مذہب سے مسلمان۔ اس لیے یہ کہنا محض خیالی نہیں ہو گا کہ خوجہ ہونے کی وجہ سے ہی انہیں چل کر ”ہندو، مسلم اتحاد کا سفیر ہونا تھا“۔

بوہروں اور میمنوں کی طرح خواجہ بھی اپنی دولت، تجارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے لیے مشہور ہیں۔ وہ قدرتی طور پر امن پسند ہیں۔ وہ بنیادی طور پر سورت، لبھڈوچ، احمد آبادی، کراچی کے سمندری کنارے یا ہندوستان کے مغربی حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے خندان نے بمبئی پر سیڈینسی کی اندرونی تجارت کے ایک خصوصی حصہ پر بھی اپنا تسلط قائم کیا، ساتھ ہی ساتھ مشرقی افریقہ اور ماریشس سے ہونے والی تجارت پر بھی ایک طرح سے انہیں کی گرفت تھی۔ جہاں تک انگریزی زبان کی تعلیم کی بات ہے وہ اس سے کبھی آگے نہیں رہے۔ ان دنوں انگریزی سے ناواقفیت پسماندہ ہونے جیسا نہیں تھا لیکن وہ اپنی زبان گجراتی میں کسی سے کم نہیں بلکہ ہندوؤں جیسی مہارت کے حامل تھے۔ ویسے بھی انگریزی تعلیم کا استعمال ان کے لیے بہت ہی کم تھا اور اس لیے بہت کم ہی کم تھا اور اس لیے انہیں ایک فرقے کی شکل میں اس سے دور ہی رہنا مناسب سمجھا۔ خصوصاً تجارتی فرقہ ہونے کے ناطے وہ اپنی زبان گجراتی میں کام چلتے اور اسے انہوں نے برقرار رکھا۔ سرکاری نوکری یا عہدہ حاصل کرلینا ان کے لیے خاص اہمیت نہیں رکھتا تھا اور آج بھی وہ اپنی سابقہ روش پر قائم ہیں، آغا خان ان کے روحانی پیشوا ہیں جبکہ جناح نے ان کو یہ حیثیت کبھی نہ دی۔

بنیادی طور پر تجارت اور صنعت میں لگے رہنے کی وجہ سے ان کے سیاسی خیالات پر بھی اثر پڑا۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب سرکاری ملازمتوں کے لیے مقابلے فرقہ وارانہ طاقت آزمانے کا ایک طریقہ بن گئے تھے لیکن خودانحصاری، خوشحالی ہونے کی وجہ سے خوجہ اس سے کم ہی متاثر ہوئے۔ اپنے زیادہ تر ہم مذہبوں کے خیالات کے برعکس خوجہ بنیاد پرست مسلمان کبھی نہیں رہے۔ اس کے علاوہ بمبئی کی تجارتی دنیا کے ایک رکن ہونے کے سبب پیشہ ورانہ وجوہات سے وہ دیگر فرقوں کے ارکان کے ساتھ وابستہ تھے یا یوں کہہ لیں کہ ان کا تجارتی انداز انہیں آج بھی دوسروں سے مربوط کیے ہوئے ہے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ اس کے بغیر تجارتی اور مالی منفعت کیسے حاصل کرتے۔

دوٹوک اصول:

جناح ان سب باتوں سے ہمیشہ دور رہے کیونکہ ان میں تاجروں کی طرح سودے بازی، سمجھوتہ یا صرف منافع کمانے کی آرزو بالکل نہیں تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ عادتاً ضدی، اپنے فیصلے پر قائم رہنے اور جدوجہد کرنے والے تھے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کے وطن پرستی کسی مفاد سے نہیں اُبھری تھی، یہ تو ان کی آزاد خیالی، ان کے انگلینڈ میں قیام اور ان کی صلاحیت کی وجہ سے چلنے والی وکالت کا نتیجہ تھی۔ وہ خود منحصر، اپنے آپ تعلیم حاصل کرنے والے اور اپنی محنت سے کچھ حاصل کرنے والوں میں سے تھے۔ وہ ایک نوجوان کی طرح بے تاب تھے، ان کی صلاحیت، ان کی قابلیت پوری طرح شناخت ہو اور انہیں نوازا جائے۔ ان کے پاس خاندانی یا سماجی عزت ووقار کی وراثت نہیں تھی جس سے اس دور کے زیادہ تر بیرسٹر سرفراز تھے۔ وہ انگریزوں کے ذریعے اس وقت اختیار کیے جانے والے دوہرے معیاروں کو بھی اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ پہلا اصول تو صرف انگریزوں کے لیے اور ان کے اپنے ملک میں ہی چلتا تھا جبکہ دوسرا ہندوستان کے لیے ہندوستان میں رائج تھا جو پہلے سے بالکل الگ تھا۔ ”انزآف کورٹ“ سے نکلے دوسرے لوگوں کی طرح ہی جناح بھی ہندوستان لوٹنے کے بعد ”اس بات کے لیے مکمل طور پر تیار تھے کہ ایک طرف انگریزوں کا اکھڑپن اور دوسری طرف ہندوستانیوں کی احساس کمتری اور جذبات مجروح ہورہے۔ احساسات وجذبات کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے“۔  بہتری لانے کے لیے ان میں جو جوش تھا اس میں آئینی انداز رہا تھا اور ان میں یہ خصوصیت ان کی اپنی وکالت کی وجہ سے آئی تھی اور اس سے استفادہ بھی کیا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی کوششوں، اپنی صلاحیت کی بدولت اصولوں پر سختی سے قائم رہ کر سماج، پیشے اور سیاست میں منفرد مقام بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی سہارا نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور اصولوں پر قائم رہ کر انگریزوں سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک وکیل کی حیثیت سے ان کی ابتدائی تربیت نے مسلم فرقے اور حکومت کے رشتوں کے بارے میں ان کے تصور کو متاثر کیا تھا۔ ذاتی اور خاندانی پریشانیوں کے باوجود کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے ان کا یہ خیال تھا کہ دوسرے لوگوں کو بھی تعلیمی میدان یا دوسرے شعبہ میں خصوصی حیثیت کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ جب 11مارچ 1913ء کو وہ ان دنوں کے پبلک سروس کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تو لارڈ اسلنگٹن نے ان سے پوچھا کہ ”کیا ایک ساتھ امتحان کرانے کے انتظام سے پسماندہ طبقے کو نقصان ہونے کے بارے میں وہ فکرمند نہیں ہیں؟“

اپنے خیال پر سختی سے قائم جناح نے تب جواب دیا تھا کہ ”مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا کہ ایک فرقے کے لوگ ہی زیادہ آجائیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس طرح سے موزوں اور قابل لوگ دستیاب ہوں حالانکہ مجھے اس میں شک نہیں ہے کہ ایک ہی فرقے کے زیادہ لوگ آجائیں گے“ تب لارڈ اسلنگٹن نے مزید سوال کیا کہ ”میرے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کسی ہندو مسلم آبادی کا ذمے دار بنا دیا جائے تو کئی پریشانیاں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ ایک ہندو جس نے ایک تعلیم یافتہ اور بااثر مسلمان سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں وہ کسی گھنی مسلم آبادی کا ذمے دار بنائے جانے پر کامیاب اور زیادہ اچھا ایڈمنسٹریٹر ثابت ہو گا؟ جناح نے جواب دیا، میں نے کہا کہ ایسی حالت میں آپ اس ہندو کے ساتھ بہت زیادتی کریں گے کہ ”میں سمجھ نہیں پارہا ہوں کہ ایک مسلم آبادی کے ضلع کا ایک ہندو کو انچارج کیوں نہیں بننا چاہیے؟ ایسے ہی خیالات کی وجہ سے جناح مسلم لیگ کی بجائے انڈین نیشنل کانگریس کے رکن بنے۔


ای پیپر