غیر ملکی مفاد کی محافظ افغان قیادت اور امن
19 May 2020 (23:45) 2020-05-19

امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی جلدی ہے مگر طالبان کے سواکوئی فریق اُس سے متفق نہیں امریکی سرپرستی میں تشکیل پانے والے سیاسی سیٹ اَپ کے کِل پُرزے بھی افغان سرزمین چھوڑنے سے باز رکھنے پر بضد ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں ایک بڑی وجہ افغان قیادت کابھارت جیسے ممالک کے مفاد کی نگہبانی کرنا اورپُرتشدد واقعات میں کمی لانے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جس سے امن عمل تہہ وبالا ہو رہا ہے افغانستان ایسی روشنی کی مانند ہے جو جلتی بجھتی رہتی ہے اور کوئی منظر واضح کرنے سے قاصر ہے اسی لیے تجزیہ کار کوئی بات حتمی طور پرکہنے سے گریز کرتے ہین لیکن خطے کے امن کے لیے افغانستان میں امن اشد ضروری ہے وگرنہ متحارب ممالک افغانوں کو تختہ مشق بناکر خطے کا امن تباہ کرتے رہیںگے۔

ممکن ہے افغان جنگجوکسی امن فارمولے پر اتفاق کرلیں لیکن قیادت کی طرف نگاہ دوڑائیں تو ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا گزشتہ برس کے متنازعہ انتخابی عمل عمل پر چیف ایگزیکٹو عبدااللہ عبداللہ نے دھاندلی کا الزام لگاکر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا مگر اقتدار پرست اشرف غنی نے اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت بنانے کا اعلان کر دیااور التوا کی مریکی آرزو کو بھی کوئی اہمیت نہ دی جس سے اقتدار کی رسہ کشی نے جنم لیا ایک ہی دن اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے الگ الگ تقریبات میں صدر کا حلف اُٹھالیا یوں انخلا کی امریکی کوششیں کھٹائی کا شکار اور طالبان کے ساتھ دوحہ میں رواں برس 29فروری کو طے پانے والے امن معاہدے سے وابستہ توقعات پوری نہ ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا۔

امن سب کوپسند ہے مگرلگتا ہے افغان حکومت کو اِس لفظ سے چڑاور غیر ملکی مفاد کی نگہبانی زیادہ عزیز ہے دنیا کی آرزو داعش جیسے سفاک گروہ کا خاتمہ ہے مگر افغان قیادت سرپرست بن کر سامنے آئی ہے رواں برس ماہ اپریل کے دوسرے ہفتے داعش کے خراسان میں سربراہ عبداللہ اورکزئی عرف اسلم فاروقی نے مسلسل شکستوں سے گھبراکر اور طالبان کے ہاتھوں جان جانے کے خدشے کے پیشِ نظر خودکو افغان انٹیلی جنس کی تحویل میں دینے کے لیے رابط کیا اور جان بچانے کی التجا کی یہ وہ وقت تھا جب طالبان اِس جنگجو کے خاتمے کے قریب تھے لیکن کابل حکومت نے اسلم فاروقی کو آغوش میں لے کر داعش کی سرکوبی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا افغان حکومت کادعویٰ ہے کہ اُس کی فورسز نے آپریشن کے دوران داعش کمانڈر کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا ہے یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے داعش کو ملک میں جڑیں مضبوط کرنے سے روکنے کے لیے طالبان کے اخلاص پر کسی کو شبہ نہیں جوزجان صوبہ کے ضلع دزراب کا آپریشن اُن کے

اخلاص کو آشکارکرتاہے مگرکابل حکومت کارویہ مُبہم ہے دزراب میں داعش جنگجوئوں کی بڑی تعداد کی طالبان کے ہاتھوں گرفتاری کے بعدبقیہ شکست خوردہ گروہ کے کمانڈروں نے بھی افغان حکومت سے رابطہ کرکے جان بچانے کی درخواست کی جس پر کابل حکومت فوری حرکت میں آتی اور ہیلی کاپڑ بھیج کر داعش کمانڈروں کو اپنی پناہ میں لے لیتی ہے یہ واقعات اِس امر کے اغماض ہیں کہ کابل حکومت داعش کی سرپرست ہے کیونکہ داعش بلوچستان ،فاٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میںدہشت گردی میں ملوث ہے اوریہ بہتاکشت وخون کابل کو پسند ہے اسی وجہ سے بھارت امداد دیتا اور تائید و حمایت کرتا ہے۔

اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں رواں ہفتے اتوارکو شراکتِ اقتدار کا معاہدہ ہوگیا ہے جس کے تحت اشرف غنی بددستور صدرکے عہدہ پر متمکن رہیں گے جبکہ عبداللہ عبداللہ قومی مفاہمتی کونسل کی سربراہی کریں گے دونوں رہنما مساوی تعداد میں وزرا کا انتخاب کریں گے اب پھر وہی سوال ہے کہ دومتحارب سیاسی حریفوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے ملک میں سیاسی غیر یقینی کی فضا ختم ہوگی اور متنازع صدارتی انتخاب سے پہلے ملک میں موجود طاقت کے توازن کی بحالی ہو سکے گی اور دونوں ایک دوسرے پر اعتبار کر یںگے ؟میرے خیال میں اِس سوال کا جواب دینابھی مشکل ہے کیونکہ دونوں کی ترجیحات متضاد ہیں نئے معاہدے پر بھی اگر طالبان و امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی طرح عمل ہوتا ہے تو یہ مظلوم افغانوں کی بدقسمتی ہوگی اور سیاسی بے یقینی میں اضافے کے امکان کو مکمل طور پر رَد نہیں کیا جا سکتا اشرف غنی امریکہ کی بجائے بھارت کے طرفدار ہیں کابل حکومت کی ایجنسیاں دہلی سے براہ راست احکامات لینے اور کاسہ گدائی بھرنے میں مصروف ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ بھول جاتی ہیں کہ گھر میں لگی آگ دور کے پانی سے نہیںبجھائی جا سکتی پاکستان کے اخلاص سے بے رُخی اوربھارت کی طرفداری سے افغانوں کابھلا نہیں ہو سکتا ۔

بھارت کی اولیں خواہش پاکستان کو زک پہنچانا ہے اسی لیے افغانستان میں امن کے قیام سے اُسے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ امن کی صورت میں شمالی سرحد محفوظ ہوتی ہے توپاکستان مشرقی سرحد پر زیادہ بہتر دھیان دے سکتا ہے جو دہلی سرکار کے مفاد کے منافی ہے اسی لیے فغانستان میں سیاسی بے یقینی برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے را کے ساتھ افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کا اشتراک عیاں حقیقت ہے پاکستان میں دونوں ایجنسیاں مشترکہ کاروائیاں کرتی ہیں اگر افغان امن عمل کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان میں این ٹی ایم جیسے غداروں کی سرپرستی میں بھارت کو مشکلات پیش آسکتی ہیں اسی لیے پاکستان تو امن کے حوالے سے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے لیکن کابل حکومت اور بھارت نفی کرتے ہیں طالبان کی اکثریت پربھارتی عیاری آشکار ہو گئی ہے اسی لیے وہ دہلی پر اعتبار نہیں کر رہے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے منتظم اور مزاکرات کی سربراہی کرنے والے شیر محمد عباس ستانکزئی نے اسی نُکتے کی وضاحت کرتے ہوئے افغانستان کے غداروں کا ساتھ دینے پر بھارت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوان غیرملکی حاشیہ بردار حکومت سے عسکری،معاشی اور قریبی سیاسی تعلقات رکھ کر افغانوں کو نقصان سے دوچار کرنے پر اعتماد نہیں کر سکتے لیکن قیامِ امن کے لیے دہلی کے مثبت کردار سے البتہ کوئی مسلہ نہیں مگر مثبت کردار کا تعین اگر بھارتی ترجیحات کے مطابق نہیں کیا جاتا تو وہ کیو نکرافغانوں کو اربوں کی امداد دے گا؟ بھارت کوایک اور خدشہ ہے کہ اگر امن قائم ہو جاتا ہے تو ممکن ہے افغان جنگجو کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی اعانت کرنے لگیں حالانکہ ایسا ہونا بعیدازقیاس ہے چالیس برس سے جاری جنگ کے نقصانات نے افغان سوچ بدل دی ہے اگر اغیار کی محافظ افغان قیادت بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لے آئے تو امن عمل کامیاب ہو سکتاہے۔


ای پیپر