دیوار… اور نوشتہ دیوار!!
19 May 2020 (23:45) 2020-05-19

ہم عجب قوم ہیں، جذبات سے زیادہ جذباتیت ہماری شناخت بن چکی ہے۔ جذبات بہت خوب ہیں لیکن جذباتیت ناخوب! سنی سنائی باتوں پر ایسے پہرہ دیتے ہیں ‘جیسے کسی نوشتہ دستاویز پر! تاریخ کا معاملہ ہو یا کسی جغرافیائی حقیقت کا‘ معروضی اندازِ فکر ہمارے اندر پنپنے کا نہیں۔ کبھی اپنے دین دار بادشاہ سے ٹوپیاں سلواتے ہیں اور کبھی تاریخ کے جھروکوں سے اُسے قرآن کی کتابت کرتے ہوئے دکھاتے ہیں … تاریخ کے اس ٹوپی ڈرامے میں ہم ہر جغرافیائی محاذ آرئی کو نظریاتی معرکہ بندی قرار دینے پرمُصر ہیں۔ قوتِ اِدارک تو نہیں‘ لیکن ہماری قوتِ شامہ اِس قدر زُود حِس ہے کہ ہمیں ہر جگہ سازش اور سیاست کی بُو نظر آ جاتی ہے۔ اب تک بیان کی جانے والی تھیوریوں میں سازش تھیوری ہماری مرغوب ترین ہے۔ بیماری ہو یا معاشیات‘ یا پھر سماجیات کا کوئی معاملہ ‘ہماری زود فہمی ہمیں فوراً بتا دیتی ہے کہ اِس کے پیچھے ہنود کا ہاتھ ہے یا یہود کا۔ ہم دیوار دیکھتے ہیں ‘ نہ نوشتہ ٔ دیوار …بلکہ دیوارکے پار قیاس آرائیوں میں محو ِخیالِ خام رہتے ہیں۔

لاہور کے ایک نسبتاً پوش علاقے میں کلینک کرتا ہوں، یہاں تعلیمی و معاشی دونوں اعتبار سے خوشحال طبقے سے واسطہ پڑتا ہے، ابھی تک میں اپنے مریضوں سے یہی سن رہا ہوں " ڈاکٹر صاحب! یہ کرونا ورونا ہے بھی ‘ یا… ؟؟" لکھ لکھ کر ‘اور بتا بتا کر تھک گیا ہوں کہ بھائی میاں! یہاں ڈاکٹر بھی مر رہے ہیں،پیاری پیاری نرسیں بھی بیچاری اللہ کو پیاری ہو رہی ہیں، لیکن معاملہ وہی ڈھاک کے تین پات… یعنی یہ غیروں کی سازش ہے یا پھر یہ اپنی حکومتوں کا ہتھکنڈہ ہے‘ قرضے لینے اور معاف کروانے کا دھندا ہے… استغفراللہ من ذالک!! ہر دوسرا مریض اِس سازش تھیوری کے فوراً بعد مجھے دس بیس سال پرانی فلموں کا حوالہ ضرور دیتا ہے کہ فلاں اور فلاں فلم میں بھی توکرونا کا ذکرتھا۔مخاطب اگر کوئی مصنف یا ادیب قبیلے سے ہو ‘ تو بندہ اُسے سمجھائے کہ انسان کی قوتِ متخیلہ اُس کے رب کی طرف سے عطا کردہ ایک بہت بڑی قوت ہے… یہ مستقبل کو حال کے نقشے میں کھینچ لاتی ہے۔ جن کے ہاں تحقیق کا چلن ہے‘ وہ لوگ اپنے اَفسانے کو بھی حقیقت کے اِس قدر قریب کھینچ لاتے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے، جس موضوع پر فلم بناتے ہیں یا ناول لکھتے ہیں ‘اس موضوع پر سائینس کو خوب کھنگالتے ہیں، اور وہی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو اُس شعبے کے ماہرین کے ہاں مستعمل ہیں۔ فلو وائیرس میں کرونا قبیلہ پہلے سے دریافت شدہ ہے، بس اِس لفظ کو استعمال کرنے کی ایک غلطی ہے کہ ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ ایج جی ویلز نے ڈیڑھ سو برس قبل چاند کے سفر کی کہانی لکھی تھی اور اُس کے ٹھیک سو سال بعد اپالو کے چڑھنے اور اترنے کی ترتیب اور چاند پر چہل قدمی کی کا منظر وہی تھا ‘جیسا اُس کے تخیل نے اُس سے لکھوا لیا تھا۔ اب یہ سائینسدانوں کی سازش ہی ہوگی کہ ایج جی ویلز کی کہانی کے مطابق دھڑا دھڑ راکٹ بنائے جا رہے ہیں۔ظاہر کا انکار کرنے والے ‘ظاہر پر تحقیق کیسے کریں گے؟ جب تک کسی مسئلے کا اعتراف ہی نہ کیا جائے‘ اُس کی تشخیص اور پھر علاج کا مرحلہ کیسے طے ہوگا۔

کم و بیش یہی رویہ ہمارا دین کے بارے میں ہے۔

ہمارا دین ‘دین ِ وسط ہے ، اِس اُمت کو اُمت وسط قرار دیا گیا… اور حال یہ ہے کہ ہم افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ اسلام دین ِ فطرت ہے اور دین ِ فطرت پر چلنے کا دعویٰ کرنے والوں سے فطرت کے اصولوں کی نگہبانی نہیں ہو پارہی۔ انفرادی طور پر باصلاحیت افراد کی کمی نہیں‘ لیکن یہاں ہم بحیثیت مجموعی ایک قومی رویے کی بات کر رہے ہیں۔ اسلام ظاہر و باطن میں مکمل ہوتا ہے۔ ظاہر پرست ‘باطن سے کسی کمان سے تیر کی طرح نکل چکے ہیں، انہیں لفظ باطن میں عجم کی بو باس محسوس ہوتی ہے۔ دوسری انتہا پر ‘باطن سے شغف رکھنے والے ہیں کہ ظاہر سے بیزار پائے جاتے ہیں۔ انہیں ہر حکم کی ایک باطنی تاویل چاہیے، ظاہر کے سب احکامات انہیں فروعات لگتے ہیں، اور اُن کی دانست میں یہ سب کچھ شاید "عوام الناس" کو بہلانے کی تدبیر ہے۔ انہیں ہر حکم میں "کوئی گہرا راز ہوسیں" کی کرید چاہیے۔ باطن اور کشف کی ہلکی سی جھلک دیکھتے ہی اُن کے ظرف کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور ظاہر کے نظام پر مامور لوگوں کی توہین و تحقیر اُن کا عمومی چلن بن جاتا ہے۔ اُن کا یہی رویہ قرآن و حدیث اور نصوص شریعہ کے متعلق ہوتا ہے۔ ایسے ہی رویوں کو دیکھتے ہوئے ظاہر پرست جملہ باطنی تفاہیم کو بدعت قرار دے دیتے ہیں۔ گویا شیخِ اکبر اور کافر اکبر کے درمیان میں ہم کہیں نہیں ٹھہرتے۔ مختصر یہ کہ ہمارا عمل دوسروں کے عمل کا ردّ عمل ہوتا ہے۔ عمل کی بجائے ردِّ عمل اختیار کرنے کی روش ہمیں اُس راہِ اعتدال پر نہیں رہنے دیتی ‘ُ جسے دین ایک نصابِ زیست کے طور پر ہمارے لیے مقرر کرتا ہے۔بس ادراک کا کوئی ٹکڑا ہاتھ لگ جائے تو ہم فوراًپنساری کی دکان کھول لیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دین کے دسترخوان پر ہم سب مہمان ہیں، مہمان کیلئے مناسب نہیں کہ وہ میزبان بننے کی کوشش کرے۔ دعوت میں ہر شخص ہی میزبان بن جائے، قافلے میں ہر شخص ہی لیڈر بننے کی کوشش کرے تو قافلۂ عمل جادہ پیما کیسے ہو گا۔

خیال رہے کہ خیال ہمارے عمل کا امام ہوتا ہے۔ اگر امام باوضو نہ ہو ‘تو اقتدا کیسی اور مقتدا کیسا؟ طہارت کو نصف ایمان کہا گیا ہے، طہارت صفائی کے بعد کا مرحلہ ہے۔ اگر ظاہری گندگی لگی ہوتو کلمہ پڑھ کر بھی کپڑا صاف نہیں ہوتا۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ظاہری عارضے کا اُپائے کس قدر ضروری ہے۔ ایک بندۂ مومن کو ظاہری صفائی کا اہتمام بھی اتنی ہی تندہی سے کرنا ہوتا ہے ‘جتنا باطنی پاکیزگی کا۔ ہم ظاہر سے باطن کی طرف جاتے ہیں۔ باطن سے ظاہر کی طرف آنا صرف فرستادہ پیغمبروں کا منصب ہوتا ہے… وہی ہیں‘ جو وحی کی روشنی میں اہلِ ظاہر سے مخاطب ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن لفظوں کی صورت میں پہنچا ہے، اُن کے پاس وحی تھی، وہ لفظوں کے محتاج نہ تھے۔ ہم اُمتی ہیں، بندگانِ خاکی ہیں،خاکپائے نقوشِ پا ہیں… ہم لفظ سے معنی کی طرف جائیں گے۔ لفظ ظاہر ہے،اور اِس کے معانی باطن میں ہیں۔ اہلِ باطن ظاہر کے عارف ہوتے ہیں، وہ ظاہر کو پہلے جانتے ہیں اور اِس کے بعد ظاہر کی باطنی جہت کی پرتیں کھولتے ہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے‘ ہر عالم عارف نہیں ہوتا لیکن ہر عارف عالم بھی ہوتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ فرماتے ہیں:

علموں باہجھ کرے فقیری تے کافر مرے دیوانہ ھوؔ

اہلِ باطن حفظ مراتب کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ کلیہ اہلِ باطن ہی نے مرتب کیا ہے کہ " حفظِ مراتب نہ کنی، زندیق شود"… حفظِ مراتب نہ رکھو گے تو زندیق ہو جاؤ گے۔ حفظ مراتب میں ظاہر کا مرتبہ پہلے ہے‘ خواہ وہ علوم میں ہو یا احکامات میں۔ زکوٰۃ، روزہ، نماز اور حج ظاہری عبادتیں پہلے ہیں ، اِن کے باطنی اَسرار بعد کی برکتیں ہیں۔ منہ بند کیے بغیر کوئی روزے کی حقیقت کو نہیں پہنچتا، نماز پڑھے بغیر نماز قائم نہیں ہوتی۔ مال خرچ کیے بغیر مال پاک نہیں ہوتا۔

سیّدِ ہجویر حضرت علی بن عثمان الجلابی المعروف داتا گنج بخشؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب "کشف المحجوب" میں لکھتے ہیں۔ مفہومِ عبارت جس کا یہ ہے کہ زندیق کا ماخذ "ژند" ہے، اور یہ فارسی سے معرب ہے۔ اہل فارس اپنی کتاب کی تاویل کیا کرتے تھے، اہلِ زندقہ بھی الہامی کلام کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو اس الہامی حکم کے ظاہرکو کاٹ دیتی ہے۔ کشف میں اور تاویل میں وہی فرق ہے ‘جو صدق اور کذب میں ہوتا ہے۔

ہم کب تک حالت ِ انکار میں یونہی بھٹکتے رہیں گے۔ کبھی ظاہر کا انکار اور کبھی باطن کا انکار! باطن کا انکار تو ایمان و کفر کا معاملہ ہے ، ہم ظاہر سے بھی حالت ِ انکار میں بیٹھے ہیں… اور بڑے اطمینان سے بیٹھے ہیں۔

ہماری حالت ِ انکار اَبھی تک ختم ہونے میں نہیں آرہی ‘ ہم اقرار کی طرف کب پلٹیں گے؟ کلمۂ توحید… اِقرار اور پھر تصدیق کا نام ہے … اقرار باللسان و تصدیق بالقلب!


ای پیپر