تنقید نہیں تحسین مقصود ہے لیکن…!
19 May 2020 (23:44) 2020-05-19

14مئی جمعرات کو روزنامہ "نئی بات"میں سینئر صحافی، بزرگ شخصیت اور بانی گروپ ایڈیٹر روزنامہ "نئی بات"محترم عطاء الرحمٰن کا "میں اور میرے موضوعات"کے عنوان سے کالم چھپا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں " مطالعے اور کتابوں کی دنیا" کے اپنے کالم کے موضوع پر خامہ فرسائی کرنے کی بجائے محترم عطاء الرحمٰن کے اس کالم کے بارے میں کچھ اظہارِ خیال کروں۔ بلا شبہ محترم پروفیسر عطاء الرحمٰن کو شعبہ صحافت میں ایک سینئر صحافی کی ہی نہیں بلکہ ایک لیجنڈ اور ایک مکتبہ فکر کی حیثیت حاصل ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی باک نہیں کہ محترم عطاء الرحمٰن کی قلمی نگارشات (تحریروں اور کالموں) میں ان کے بیان کردہ خیالات اور فکر و سوچ سے سو فیصد اتفاق نہ رکھنے کے باوجود ان سے (غائبانہ طور پر ہی سہی) ایک دیرینہ قلبی تعلق خاطر چلا آرہا ہے۔ ان کی تحریروں سے جھلکنے والی ان کی سنجیدہ اور مثبت سوچ کی عامل اور دینی روایات و اقدار اور پاکستان کی نظریاتی اساس سے محبت رکھنے والی شخصیت کا پر تو اور کچھ باہم ہم عمری کا احساس بھی ایسے ہی پہلو ہیں جو میرے دل میں ان کی قدر افزائی اور کسی حد تک قربت کا باعث بنے آر ہے ہیں۔ میں محترم عطاء الرحمٰن کا بہت بہت قدیم عرصے بلکہ شروع سے قاری چلا آ رہا ہوں۔ میں ذاتی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اُن کے کالم پڑھ کر مجھ پر سوچ و فکر کے نئے زاویئے ہی وا نہیں ہوتے رہے ہیں بلکہ میرے ناقص علم میں اضافہ اور میری کمزور تحریر کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی رہی ہے۔ یہ کہنا شائد غلط نہ ہو کہ ان کی تحریروں میں ان کی اعلیٰ تعلیم ، وسیع مطالعے ، تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستگی، نظریاتی صحافت سے لگائو، ملکی اور بین الاقوامی حالات و واقعات پر گہری نظر، مثبت سوچ اور فکر کی فرمانروائی، اظہار ِ خیال میں جراٗت و بے باکی کا عکس اور تحریر کا حسن وغیرہ جیسی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود اُن کا یہ کہنا کہ کم پڑھا جاتا ہوں یا بہت بڑا حلقہِ قارئین نہیں رکھتا ہوں یقینا لمحہ فکریہ نہ سہی سوچنے کی بات ضرور ہے۔ حلقہ ِ قارئین بڑانہ ہونے کو ان کی کسرنفسی پر بھی معمول کیا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی اس میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں اگر ایسا ہے تو کیوں ہے اس کا ادب و احترام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے تھوڑا سا جائزہ لے لیتے ہیں۔

اسے اگر چھوٹا منہ اور بڑی بات نہ سمجھا جائے اور محض "خوگر حمد سے توڑا سا گِلا ۔۔۔۔" تک محدود سمجھا جائے تو میں کہوں گا کہ محترم عطاء الرحمٰن کے کالموں کے موضوعات بڑے جاندار اور ملک کے حقیقی معاملات و مسائل سے متعلق رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ ملک میں آئین و

قانون کی بالادستی، پارلیمنٹ کی تکریم، عوامی نمائندوں کے حقِ حکمرانی کو تسلیم کیے جانے ، عوام کی رائے (ووٹ( کو عزت دینے، ملکی اور ریاستی مستقل اداروں اور مقتدر عہدوں پر فائز شخصیات کے آئین اور قانون کی حدود کے اندر رہ کر فرائض سر انجام دینے اور اس طرح کے دوسرے موضوعات کے بارے میں دو ٹوک انداز سے لکھتے چلے آرہے ہیں۔ یقینا یہ ایک جراٗت مندانا وظفیہ ہے جسے کوئی بے باک، نڈر، حق گو، اور اپنی سوچ و فکر کو صحیح سمجھنے اور اس پر مضبوطی سے قائم شخصیت ہی سر انجام دے سکتی ہے۔ محترم عطاء الرحمٰن اس حوالے سے بلا شبہ ایک مثال کے طور پر لیئے جا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود اُن کے اپنے کہنے کے مطابق مقبولیت یا حلقہ اثر میں کچھ کمی ہے تو آخر ایسا کیوں ہے؟ میرے خیال میں جیسا اُنہوں نے اپنے ایک دانائے راز "فرضی یا حقیقی"کا حوالہ دے کر خوبصورت تمثیلی انداز میں اپنے کالم میں کچھ باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے، یہ ہو سکتی ہے کہ ملکی حالات و واقعات ، معاملات و مسائل ، اور جمہوری اداروں جمہوریت کے مستحکم نہ ہونے اور ملک میں عرصے تک فوجی ڈیکٹیٹرشپ کے سائے پھیلے رہنے اور عوام کی رائے نظر انداز کرتے ہوئے مقتدر اداروں یا شخصیات کی طرف سے اپنی پسند و نا پسند کے مطابق فیصلے کرنے اور اسی طرح کے دوسرے موضوعات کے بارے میں کھل کر لکھتے ہوئے بعض اوقات ایسے لگتا ہے جیسے وہ زیرِبحث معاملے یا موضوع کے ایک ہی رُخ کو سامنے لا رہے ہیںاور اس سے متعلقہ دوسری باتوںجن کا بھی اس معاملے یا موضوع سے کچھ نہ کچھ تعلق ضرور بنتا ہے کو بوجوہ نظر انداز کر رہے ہیں یا کھلے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو جو عرصہ دراز سے ان کے ممدوح چلے آرہے ہیں کو حق بجانب ثابت کرنے یا ان کے ا میج یا شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ وہ اکثر ملک میں جمہوری اداروں اور جمہوریت کے مضبوط نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فوجی ڈکٹیٹر شپ کو اس کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ٹھوس حقیقت ہے کہ اس ضمن میں سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کا کردار بھی ایسا رہا ہے جسے اس کے لیے برابر کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کا بھی تذکرہ ضرور ہو لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں کچھ اسی طرح کے دیگر موضوعات اور ملکی معاملات و مسائل کی مثالیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔

اس ضمن میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو لیتے ہیں ۔ ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے حوالے سے میاں محمد نواز شریف کو سارا کریڈٹ دینے اور ہیرو ثابت کرنے کے لیے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ایک جمہوری وزیرِ اعظم نے اس کی بنیاد رکھی اور دوسرے نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا۔ اس کے ساتھ یہ ذکر بھی ضرور کیا جاتا ہے کہ بھٹوکو ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کی بناء پر پھانسی پر چڑھا یا گیا۔ یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ بھٹو کا دور ہر لحاظ سے فسطائیت کا دور تھا اور اسے پھانسی کی سزا نواب محمد احمد خان کے قتل میں بالواسطہ ملوث ہونے (جس کے تحریری ثبوت بھٹو کے احکامات کی صورت میں موجود تھے) کی بناء پر دی گئی۔ مان لیا کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور انھوں نے پاکستان کی عزت، وقار اور عالم اسلام میں اس کے مقام کو مضبوط بنانے کے لیے بعض اچھے اور جراٗت مندانہ فیصلے بھی کیے لیکن اس باوجود کیا ان کے دور کو جمہوری کہا جا سکتا ہے یقینا ایسا نہیں ۔ جہاں تک ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کے علاوہ اس میں ان کے معروضی کردار کا ذکر ہے تو حقیقت یہ ہے کہ 1977ء میں بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تو کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے انفراسٹرکچر کے بلیو پرنٹس بھی ابھی تیار نہیں ہوئے تھے۔ سینٹی فیوج مشینوں کی تیاری ، ان کی تنصیب، عالمی دباو کے باوجود یورینیم کی افزدوگی اور 1982ء کے آخر تک ایٹم بم کے کولڈ ٹیسٹ مکمل ہوئے تو یہ فوجی ڈیکٹیٹر ضیاء الحق کا زمانہ تھا۔ ضیاء الحق ایک غاصب اور ڈیکٹیٹر سہی لیکن اس نے اور اس کے ساتھیوں ، جن میں کچھ جرنیلوں کے ساتھ غلام اسحاق خان (جو بعد میں صدرِ مملکت بنے) اور آغا شاہی اور کچھ دیگر سینئر بیوروکریٹس اور یادش بخیر بینک آف کریڈیٹ اینڈ کامرس لندن کے صدر آغا حسن عابدی جیسے خاموش کرداروں نے جو موثر، جاندار اور بھرپور کردار ادا کیا اسے کون فراموش کر سکتا ہے۔ ملکی تاریخ کے کچھ اور واقعات بھی ہیں جن کا تذکرہ انشاء اللہ اگلے کالم میں ہوگا تاہم اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریر کے اس طرح کے پہلو مقبولیت یا عدم مقبولیت میں اہم کردار ادا نہیں کرتے ۔ اصل بات اپنے نظریات اور اپنی سوچ و فکر پر مضبوطی سے قائم رہنے اور ان سے پیچھے ہٹنے کے لیے کسی طرح کے طمع ، لالچ، منفعت اور کمزوری کو خاطر میں نہ لانے کی ہے۔ محترم عطاء الرحمان بلاشبہ اس حوالے سے بڑے سے بڑا دعویٰ کر سکتے ہیں اور مجھے اگر محترم عطاء الرحمان کی کچھ ہمدم دیرینہ شخصیات کا ادب اور ان سے غائبانہ اور تعلق خاطر کا لحاظ نہ ہو تو میں ان کے بارے میں کچھ گزارشات ضرور کر سکتا ہوں کہ ان لوگوں نے ادھر اُدھر دونوں طرف سے کیا کیا فوائد سمیٹے ۔


ای پیپر