یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(سولہویں قسط )
19 May 2020 2020-05-19

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ حالیہ ون ٹوون ملاقات میں جیسا کہ میں شاید پہلے بھی عرض کرچکا ہوں میڈیا کے معاملات اور مسائل پر تفصیلی مشاورتی بات چیت کے علاوہ کورونا اور شوگر مافیا کے حوالے سے بھی تفصیلی بات ہوئی، کورونا کے حوالے سے انہوں نے تقریباً وہی کچھ فرمایا جو گزشتہ دنوں مختلف اوقات میں اور مختلف ذرائع سے وہ اتنی بار فرما چکے ہیں، میں نے ان کے ان ”فرمودات“ کی تفصیل لکھنی شروع کردی، جوکہ میرے نزدیک غیر ضروری ہوگی، تو دس پندرہ مزید کالمز اس ملاقات پر لکھنے پڑجائیں گے، جبکہ یہ سلسلہ پہلے ہی اتنا طویل ہوگیا ہے ، قارئین تو دورکی بات ہے ، خود میں بھی اب بور ہونے لگا ہوں، البتہ میں نے کورنا کے حوالے سے وزیراعظم کو جو دوچارتجاویز یا مشورے دیئے وہ میں عرض کیے دیتا ہوں، میں نے ان سے کہا ” اس مشکل گھڑی میں آپ نے اپنے ہم وطنوں خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں سے مالی امداد کی جو اپیل کی ہے ، اور ان سے یہ کہا ہے کہ وزیراعظم کورنا ریلیف فنڈ میں زیادہ سے زیادہ رقم جمع کروائی جائے، تاکہ کورونا سے جو لوگ بے روز گار یا متاثر ہوئے ان کی مدد کی جائے، آپ کی اِس اپیل کو اس بار شاید اتنی پذیرائی نہ ملے جتنی کہ لوگوں سے مال یا چندہ اکٹھا کرنے کے حوالے سے پہلے ملتی رہی ہے ۔ میں نے ان سے کہا پچھلے کچھ برسوں سے، خصوصاً ڈیڑھ برس سے یا یوں کہہ لیں جب سے آپ کی حکومت قائم ہوئی ہے لوگوں کے مالی معاملات بہت ابتر ہوگئے ہیں، بے روزگاری مزید بڑھ گئی ہے ، لوگوں کو جب اپنا مالی مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے وہ دل کھول کر خرچ کرتے ہیں، خصوصاً اللہ کی راہ میں تو بہت ہی دل کھول کر خرچ کرتے ہیں، پر المیہ یہ ہے ملکی معیشت کے حوالے سے آپ کی کچھ پالیسیوں سے لوگوں کو مالی طورپر اپنا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے ، ان حالات میں جہاں انہوں نے اپنے ذاتی خرچے کنٹرول کرلیے ہیں وہاں فلاحی کاموں پر دل کھول کر خرچ کرنے سے بھی گریز کیا جارہا ہے ، ملکی معیشت کو درست کرنے کے لیے جو درست اقدامات آپ کو کرنے چاہئیں تھے وہ آپ سے نہیں ہوسکے۔ آپ کی معاشی ٹیم ملکی معیشت کو بہتری کی جانب لے جانے کے بجائے ابتری کی جانب لے گئی۔ صنعت کار اور تاجر” باں باں“ کراُٹھے، اُن کی کچھ شکایات ممکن ہے ناجائز ہوں مگر کچھ جائز بھی تھیں جن پر توجہ نہیں دی گئی، ٹیکسوں کی وصولی کے لیے آپ نے یا آپ کی معاشی ٹیم نے جو پالیسی بنائی اُس کا فائدہ ملک کو تو پتہ نہیں کتنا ہوا؟ ہوا بھی یا نہیں ہوا؟ البتہ ایف بی آر اور دوسرے متعلقہ افسران کی تجوریاں مزید بھرگئیں، کرپشن کے بازار مزید گرم ہوگئے، خوف کی ایک فضا جان بوجھ کر قائم کردی گئی، جس سے تاجروں اور حکومت کے درمیان کئی ایسی غلط فہمیوں نے جنم لیا جو اب تک ختم نہیں ہوسکیں، بجائے اس کے ملکی معیشت درست کرنے کے لیے آپ کی حکومت یا آپ کی معاشی ٹیم کچھ معاملات میں تاجروں اور صنعت کاروں کو قائم کرنے کے بعد، اُنہیں اعتماد میں لینے کے بعد یا اُن کی مشاورت کے بعد اقدامات کرتی، سارے معاملات اُس ”بیوروکریسی“ پر چھوڑ دیئے گئے جس نے اس ملک کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے ، اور اپنے اسی ”وصف“ کی بنیاد پر ہمیشہ ”بُراکریسی“ کا خطاب حاصل کیا ہے ،ہم اکثر اِس ملک کے سیاسی و فوجی حکمرانوں کی نااہلیوں اور کرپشن وغیرہ کے رونے روتے ہیں، جبکہ اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں کم ازکم میرے نزدیک اصل کردار یا سب سے بڑا اور اہم کردار اسی ”بُراکریسی“ کا ہے ،.... اس کے علاوہ ملکی معیشت کو درست کرنے کے لیے آپ نے اپنی ٹیم کے ایک اہم رُکن اسد عمر سے جو اُمیدیں وابستہ کیں، جو کسی حدتک غیرضروری تھیں، جس انداز میں آپ اُن کی ”مبینہ صلاحیتوں“ کے گرویدہ ہوئے پڑے تھے اُس کا الگ نقصان ہوا، بالآخر اُنہیں تبدیل کرنا پڑا، پر تب تک چڑیاں کافی حدتک کھیت چُگ چکی تھیں، اسد عمر کی تبدیلی کے بعد ملک کے معاشی معاملات درست کرنے کے لیے جوٹیم سامنے آئی وہ پہلے والی ٹیم سے بھی نکمی نکلی، اس پس منظر میں لوگوں کے مالی حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں، اس بار وہ آپ کی خواہش کے مطابق وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ میں شاید زیادہ رقم جمع نہ کرواسکیں، اُوپر سے بے شمار حکومتی معاملات میں چونکہ آپ کا کردار بھی اب تک روایتی حکمرانوں والا ہی رہا ہے تو وزیراعظم بننے سے پہلے لوگوں کا آپ پر جواعتماد تھا اُس میں آپ مانیں یا نہ مانیں کمی واقع ہوئی ہے .... جہاں تک اوورسیز پاکستانیوں کا تعلق ہے وہ اس وقت خود اس وباءیا آزمائش کی وجہ سے اس قدر پریشان اس قدر مشکلات کا شکار ہیں اس بار آپ کی چندے والی اپیل پر وہ بھی شاید اتنی توجہ نہ دے سکیں جتنی آپ کی ماضی میں کچھ اپیلوں پر وہ دیتے رہے ہیں، وہ بے چارے اس وقت خود کئی حوالوں سے پاکستانی حکومت کی مدد کے منتظر ہیں، .... میں نے وزیراعظم کو ایک تجویز دی، میں نے عرض کیا اس تجویز پر عمل کرنے سے سیاسی طورپر بھی آپ کو فائدہ ہوگا، میں نے ان سے کہا ”آپ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ اور وزراءکا ایک خصوصی اجلاس بلائیں، ان سب کی خدمت میں عرض کریں، یا اُنہیں حکم دینے کی پوزیشن میں ہیں تو حکم دیں کہ ”جب تک کورونا کا عذاب اس ملک سے ٹل نہیں جاتا، جب تک ہم اس کے متاثرین کی بحالی کا کام مکمل نہیں کرلیتے، تب تک یا کم ازکم اگلے چھ ماہ تک وہ اپنی تنخواہیں جو شاید کروڑوں اربوں روپے بنتے ہیں وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کروائیں، خود آپ بھی اپنی تنخواہ اپنے قائم کردہ اسی فنڈ میں جمع کروانی شروع کردیں، اس سے آپ کو یا ان ارکان پارلیمنٹ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا جنہوں نے برس ہابرس سیاست یا حکومت سے اتنے جائز ناجائز مالی فائدے اٹھائے ہیں یا وراثتی طورپر ان کے پاس اتنی جاگیریں، اتنا مال وزر ہے ان کی اگلی چار پانچ نسلیں کچھ بھی نہ کریں انہیں کسی مالی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا، اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا دوسری سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو بھی شرم آئے گی اور وہ بھی اپنے اپنے ارکان پارلیمنٹ کو یہ حکم دیں گے، یا ان سے گزارش کریں گے پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کی طرح وہ بھی کم ازکم اپنی چھ ماہ کی تنخواہ وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کروادیں!!(جاری ہے )


ای پیپر