ہوگا وہی جو میری چاہت ہے
19 May 2020 2020-05-19

قارئین میں آپ کو کس طرح سے سمجھاﺅں، کہ پاکستان خواہ پرانا ہو خواہ نیا، نہ صرف حالات جوں کے توں ہیں، بلکہ واقعات بھی جوں کے توں ہیں۔

کیا آپ اس حقیقت سے انحراف کرنے کی جرا¿ت رکھتے ہیں کہ پاکستان کے تین اعلیٰ ترین عہدوں پہ ایک ہی شخص کی تعیناتی کے دور میں ایک طرف سے تو بش کی ہدایت پر ، پاکستان کے میڈیا کو مادر پدر آزادی تھی، یہ بات میں خود ہی وقت گزاری کے لیے نہیں کررہا، بلکہ میرے پاس اس کے ثبوت کے لیے تین سوصفحات کی کتاب بھی موجود ہے ، جومیرے اس سچ کا منہ بولتا ثبوت ہیں، صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف شاہ کے دور میں، لاہور کینٹ کے وارڈیژن نے ایسی عالمگیر شہرت حاصل کی کہ اس پہ تبصرے واشنگٹن پوسٹ سے لے کر دنیا بھر کے جرائد ورسائل میں تواتر کے ساتھ چھپتے رہتے تھے، لاہورکینٹ کے دس ڈویژن میں خصوصاً مسلم لیگ ق کو کامیابی سے استعمال کرنے سے پہلے پوری کامیابی، لگن کوشش اور تندہی سے ایک مصلحت انگیز انداز میں پالیسی اپنائی گئی، میں اب محض اتنا اشارہ دے سکتا ہوں کہ جیسے یہ کام ایک اور ادارہ بخوبی محب الوطنی سے خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتا ہے ، ہمیں تو یہ خطرہ ہے کہ شاید مستقبل قریب یا بعید میں یہ اپنا وجود بھی نہ کھودے۔

کسی بھی ادارے، یا حکمران کا وجود اور اس کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں، اگر عوامی حمایت کو بھی کھودیا جائے، تو سمجھیں، کہ یہ ادارے زیادہ دیرتک قائم نہیں رہ سکیں گے، کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ

ہرقوم میں ہرفعل میں تیری ہی جھلک ہے

یہ زیست عجب طورسے مغلوب ہوئی ہے !

بہرحال میرا مطمع نظر اس وقت یہ ہے کہ میں آپ کو یہ بات سمجھادوں کہ دس ڈویژن لاہورکینٹ میں سیاسی رہ نماﺅں کو اور خاص طورپر ق لیگ والے رہنماﺅں کو وہاں بلایا جاتا، ان کی تھوڑی سی Bsain washingکی جاتی، ان کی سیاسی زندگی کی سرگرمیوں کو جو خاص طورپر منفی ہوتیں، ان کو دکھایا جاتا، اور اس طرح سے اخلاقی اور نفسیاتی طورپر وہ سیاسی کارکن یاسیاسی جماعت کا سربراہ حالت رکوع میں خودبخود چلا جاتا تھا۔

مجھے اس بات کا اتنا پتہ ہے ، اور میں اس حقیقت سے کماحقہ آگاہ ہوں کہ ان میں میرے بعض رشتہ دار، اور احباب بھی شامل ہیں جو بڑی دیر تک پس زنداں بھی رہے، سالوں بعض انہوں نے سورج کی روشنی دیکھی، شاعر اس لیے یہ بات اتنی جرا¿ت اور بہادری سے اس لیے نہیں کرتا، کہ

گنہ گاروں کو دیں خلعت

مسیحاﺅں پہ تعزیریں!

کریں گے لوگ دنیا میں

میرے شعروں کی تفسیریں!

بہرحال ایک عدالتی بیان حلفی سے ان سے حلف لے لیا جاتا ، جس میں بصورت دیگر کی تمام تر تفصیلات سے بھی انہیں آگاہ کردیا جاتا۔ اب اس حوالے سے اگر میں بھی تھوڑی سی محب الوطنی کا سہارا لوں، تو سب سے بڑا ثبوت چوہدری شجاعت حسین صاحب میں انہوں نے جو دباﺅ برداشت کیا، وہ ذہنی نفسیاتی طورپر قابل داد اور قابل معانی ہے ، اور بقول چوہدری شجاعت حسین صاحب اس پہ مٹی پاﺅ، مگر میں چاہتا ہوں، کہ73 سال سے ہم ان واقعات پر کس طرح مٹی ڈال سکتے ہیں، اگر ہم میں سے کسی صحافی نے اپنے ضمیر کی حکم عدولی کربھی لی، تو مستقبل ، وماضی کے مورج ہمیں معاف نہیں کریں گے، اور نہ ہی وہ تاریخ کو مسخ کرسکیں گے، بہرحال اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنرل مشرف نے تقریباً بارہ سال تک بائیس کروڑ عوام پہ بلاشرکت غیرے جبر اور طاقت سے بزور ادارہ حکومت کی، اب اس کے مثبت ومنفی اثرات ہمارے وطن عزیزپہ اتنے پڑے، کہ اس سے ہم آنکھیں نہیں پھیرے سکتے، اور نہ ہی اس پہ مٹی ڈال سکتے ہیں۔ پچھلے دنوں سے کچھ چوہدری برادران کے بیانات، تحریک انصاف کے لیے قابل قبول دکھائے نہیں دیتے، ان مناظر کو دیکھ کر یوں دکھائی دیتا ہے کہ پرانے اور نئے پاکستان میں سرموفرق نہیں آیا، مگر ہمیں یہ بات بالکل نہیں بھولنی چاہیے کہ حکومتوں کو بنانے اور ہٹانے والی ہستی وہی ہے ، جو عوام کی کرتوتوں کی بناپر صبح سویرے فرشتوں کے ذریعے اشیاءکی قیمتیں مقرر کرواتا ہے ۔

حدیث قدسی ہے ، اے ابن آدم ایک تیری چاہت ہے ، ایک میری چاہت ہے ، پر ہوگا وہی جو میرے چاہت ہے ۔

پس اگر تونے کی نافرمانی اس کی جو میری چاہت ہے ، تو تھکا دوں گا میں، تجھ کو اس میں جو تیری چاہت ہے ، پھر اگر تونے کی فرمانی اس کی، جو میری چاہت ہے ، تو بخش دوں گا میں جو تیری چاہت ہے پر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے ۔


ای پیپر