آئی ایم ایف کا نیا پاکستان
19 May 2019 2019-05-19

آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا۔ مبارک ہو، ملک گیر جشن ہونا چاہیے۔ 6 ارب ڈالر کا قرضہ جو 3 سال میں دیا جائے گا ورلڈ بینک اور ایشیائی بینک سے بھی 2 سے 3 ارب ڈالر ملیں گے۔ صرف معاہدہ ہونے پر ڈالر 151 روپے کا ہوگیا۔ اس نے پاکستانی روپے کو ایسا رگیدا کہ بلوم برگ کے مطابق پاکستان روپیہ ایشیا کی کمزور ترین کرنسی قرار پایا۔ افغانستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی پیچھے رہ گیا۔ بیرونی قرضوں میں 666 ارب کا اضافہ، زر مبادلہ ذخائر میں کمی، اسٹاک مارکیٹ کریش، 48 ہزار پوائنٹس سے 33 ہزار پر آگئی۔ دنیا کی 140 ریاستوں میں پاکستانی کرنسی کمزور ترین 10 ویں نمبر پر آٹھہری۔ مگر یہ سب فضول باتیں ہیں خوشی کی بات ہے کہ قرضہ مل گیا۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا یا پتوار ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ کسی نے ٹوئٹ کیا ’’روزے ہم رکھیں، درجات ڈالر کے بڑھ رہے ہیں‘‘ وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا، بھانت بھانت کے تبصرے ہو رہے ہیں، اچھا ہے رائے عامہ بن رہی ہے، مستقبل کی راہ متعین کرے گی۔ کسی نے کہا ’’عمران خان نے پوری قوم کو آئی ایم ایف کی غلامی میں جکڑ دیا‘‘ ایک صاحب بولے ملکی تاریخ میں روپے کی اس قدر خواری اور بے قدری کبھی دیکھی نہ سنی۔ مئی 2018ء سے اب تک روپے کی قدر میں 29 فیصد کمی ہوئی۔ گیس کی قیمتیں 47 فیصد بڑھانے کی سفارش، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان اور اس پر یہ دعوے کہ غریب آدمی مہنگائی سے متاثر نہیں ہوگا۔ وہی گھسے پٹے ماہرین معاشیات جنہیں نوکری نہ ملی وہ جلی کٹی سنا رہے ہیں جنہیں مشیر بنا لیا گیا وہ اصلاحات اور ترقی کے گن گا رہے ہیں، اصل حقائق کیا ہیں؟ کسی کو پتا ہو تو بتائے۔ معاہدہ مبہم، کابینہ کے ارکان، وزیر مشیر تفصیلات سے لا علم، جنت سے حالیہ دنوں میں نکالے گئے وزیر خزانہ سے پوچھا معاہدہ کیسا ہے بولے مجھ سے تو سموسوں اور پکوڑوں کی قیمتیں پوچھ لیں۔ خود مشیر خزانہ نے کہا شرح نمو کم مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ کتنی بڑھے گی؟ خورشید شاہ نے لقمہ دیا۔ 20 فیصد بڑھے گی غربت 34 فیصد بڑھ گئی۔ 464 ادویات کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئیں معاون خصوصی صحت نے قیمتیں کم کرنے کو کہا تو دوائیں غائب، بے چارگی سے بولے قیمتیں مزید نہیں بڑھنے دیں گے۔ اچھا دور خواب و خیال ہوگیا۔ تبدیلی ڈرائونا خواب بن گئی۔ ایک دور تھا جب گلی محلے میں قرضہ لینے کو معیوب سمجھا جاتا تھا بڑے بزرگ کہا کرتے تھے میاں قرض دینے والا خوامخواہ دروازہ کھٹکھٹا کر اونچی آواز میں تقاضہ کرے گا تو پاس پڑوس والے کیا کہیں گے۔ مگر یہ باتیں ہیں تب کی جب آتش جواں تھا۔اب تو حکومتیں بھی قرضہ لیتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتیں مال جہاں سے بھی ملے وصول کرو، قرضہ ملے گا تو غیر ملکی ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ قوم کو ملکی معیشت مستحکم ہونے کی خوشخبری سنائیں گے۔ معیشت کیسے مستحکم ہوگی؟ وہی گھسے پٹے فارمولے قرضے لے کر قرضے ادا کرو، ٹیکس نیٹ بڑھائو، برآمدات میں اضافہ، درآمدات میں کمی، بجٹ میں اتنے کھرب کے خفیہ ٹیکس، پھر راج کرے گی خلق خدا، 22 کروڑ کے ملک میں گنتی کے چار پانچ ماہرین معاشیات، پانچواں ملک سے فرار ’’چار درویشوں‘‘ میں سے دو کو روزگار مل گیا انہوں نے چپ سادھ لی باقی رہ گئے دو، ایک ماہر مشیر بنائے گئے تھے، ایک مہینہ بعد ہی استعفیٰ دے کر مارکیٹ میں آگئے۔ پوری معیشت کا تین درویشوں پر انحصار ملک سے فرار ہونے والے پانچویں ماہر معاشیات نے اپنی دانست میں معیشت کو پٹڑی پر ڈال دیا تھا اعتراف کرنا چاہیے کہ اس کے جاتے ہی معیشت کا انجن فیل، ساری بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، خزانہ خالی نہیں تھا۔ ساری عالمی موڈیز، تمام عالمی ادارے پاکستان کی بہتر معیشت کا اعتراف کر رہے تھے۔ ایسا کیا ہوگیا کہ حکومت پیسے پیسے کو محتاج ہوگئی۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ کس کی پردہ داری ہے یہ بہت بعد کی کہانی ہے پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ، جب پت جھڑ کا موسم گزرے گا نئی کونپلیں پھوٹیں گی تو پھولوں کے موسم میں خزاں میں پتے جھڑنے کی تحقیقات ہوں گی۔ نقاب الٹے جائیں گے پھر بے رحم احتساب ہوگا۔ فی الحال ہر بات پر آمنا و صدقنا، آپ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے مگر لوگوں کا کیا کریں جو کہتے ہیں طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیارے،’’ مونہوں نکلی گل نہ لک دی اے‘‘ (منہ سے نکلی بات چھپتی نہیں) لوگ سر عام کہہ رہے ہیں کہ اب آئی ایم ایف نیا پاکستان بنائے گا۔ کیا واقعی؟ لگتا تو نہیں پر شاید، مبصرین کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا کوئی پروگرام خوشگوار نہیں ہوتا۔ یہ بھی نہیں ہوگا ممکن ہے مستقبل قریب میں اچھے نتائج برآمد ہوں لیکن اس کے فوری اثرات زلزلہ کے مسلسل جھٹکے ثابت ہو رہے ہیں، ٹیکسوں کا بوجھ، مہنگائی، پیداواری لاگت میں اضافہ، برآمدات میں بدستور کمی، درآمدات مہنگی اور سب سے بڑھ کر بڑے پیمانے پر بیروزگاری عوام کے لیے پریشان کن ہے۔ اصل کامیابی کے لیے تین نکات اہم، معیشت کو بیرونی قرضوں سے پاک کیا جائے، ترقی کی شرح نمو بڑھائی جائے۔ عوام کو ضروریات زندگی ارزاں نرخوں پر فراہم کی جائیں، ان اہم نکات پر عملدرآمد کے لیے عالی دماغوں، دور رس اقتصادی پالیسیوں اور وسیع النظری کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہاں تینوں چیزوں کی کمی، کرپشن کرپشن کھیلتے کھیلتے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ کرپشن ابھی تک اپنے پورے قد سے ہماری جڑوں میں بیٹھی ہے۔ کنٹینر سے وزیر اعظم ہائوس کے سفر میں کچھ نہیں بدلا، وہی آتش فشاں بیانات، شعلہ اگلتی زبانیں احتیاط سے عاری رویے، تہذیب سے کہیں دور بیانات، لوگ ملک سے فرار نہیں ہوں گے تو کیا کریں گے ملک عالی دماغوں سے خالی ہوگیا تو بد دماغ رہ جائیں گے، جو ٹرینوں کو پٹڑی پر نہ ڈال سکے معیشت کو استحکام کیسے دیں گے۔ اس پر متعصبانہ بیانات، پر غرور لہجہ کہ ڈالر زرداری اور نواز شریف کی وجہ سے بڑھا، پردہ ڈالنے کی کوشش، چند سال پیچھے جائیں ان کا بینائوں میں موجودہ بینا اور نا بینا وزرا بھی شامل تھے۔ 1992ء میں ڈالر 28 روپے کا تھا۔ 2000ء کے آتے آتے 64 روپے کا ہوگیا۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں، ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو یا کسی خاص مقصد کے تحت پیدا کردیا جائے تو بنیادیں ہلنے لگتی ہیں، ڈالر یونہی نہیں بڑھا، بنگلہ دیشی، افغانی، بلکہ بھارتی کرنسی ہم سے پیچھے تھیں مگر انہوں نے اپنے معاملات کو سیاست تک محدود رکھا۔ معاشی حالات پر اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ عالمی تناظر میں عالی دماغوں کے تعاون سے اقتصادی پالیسیاں بنائیں ان پر عملدرآمد بھی کیا گیا۔ برآمدات بڑھائی گئیں بھارت میں برسوں تک درآمدی کاروں کی بجائے میڈان انڈیا گاڑیوں پر سفر کیا گیا۔ درآمدات کم ہوئیں، سب پر ٹیکس کوئی مستثنیٰ نہیں، قومیں ایسے ہی نہیں بنیں، بنانی پڑتی ہیں، ’’اک نکتے وچ گل مکدی اے‘‘ عزم کامل اور اہلیت و صلاحیت ملک و قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ بد قسمتی ہمارے یہاں دونوں کی کمی، بزرجمہر ایران کے وزیر اعظم تھے حالات بگڑنے لگے، معیشت تباہ ہوگئی۔ فاقہ کشی نے ڈیرے ڈال دیے ایک درخت پر دو’’ بزرگ‘‘ الو اپنے بیٹے بیٹی کا رشتہ طے کر رہے تھے جہیز کا جھگڑا تھا دلہا کا باپ مصر کہ جہیز میں دو ویران شہر لوں گا دلہن کا باپ کہنے لگا بھائی بزر جمہر برسر اقتدار ہے دو چار سال اقتدار میں رہا تو دو کیا چار ویران شہر دے دوں گا غالب نے کہا تھا۔

گر یوں ہی روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں

دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں

پاکستانی عوام کب تک انتظار کریں گے انتظار اور صبر و برداشت کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو کیا کریں گے، اس کا انتظار نہ کیا جائے نیا پاکستان بنانا ہے تو خود بنائیں ورنہ پرانے پاکستان کو ہی قائم رہنے دیں۔


ای پیپر