قبائلی عوا م کے د یر ینہ مطا لبے کی پذ یر ا ئی
19 May 2019 2019-05-19

قا رئین کر ا م کو یا د ہو گا کہ چند روز قبل مجھ خا کسا ر نے فا ٹا کے مسا ئل پہ کا لم تحر یر کیاتھا جس میں فا ٹا کے وفد کی ا ٓر می چیف جنر ل قمر جا وید با جو ہ سے ملا قا ت کے با رے میں بتا یا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ فا ٹا کے و فد نے اس ملا قا ت کو ا طمینا ن بخش قرار دیا تھا۔ زیر ِ نظر کا لم کو اگر قا رئین اسی کا لم کا دوسرا حصہ سمجھ کر پڑھیں تو با ت کچھ یو ں ہے کہ قومی اسمبلی میں قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کے لیے 26 ویں ا ٓئینی ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔ جس کے بعد ان اضلاع میں قومی اسمبلی کی نشستیں 6 سے بڑھ کر 12 او ر صوبائی اسمبلی کی نشستیں 16 سے بڑھ کر 24 ہوجائیں گی۔ قبائلی اضلاع کی نشستوں میں اضافہ کے لیے ا ٓئینی بل کی منظوری بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے پارلیمنٹ کی بالادستی پر نہ صرف مہر تصدیق ثبت ہوئی ہے بلکہ اراکین پارلیمنٹ نے قوم و ملک کو درپیش ایک امتحانی صورتحال میں سابقہ فاٹا کی قلب ماہیت اور دہشت گردی سے تباہ ہونے والے قبائلی خطے کے عوام کو پہلی بار حقیقی مسرتوں سے دوچار کیا ہے، سیاستدان کشیدگی اور محاذ ا ٓرائی کی پیچیدگیوں کے باوجود قبائلی علاقوں کی ترقی اور اس کے عوام کی خوشحالی کے ایجنڈے پر ہمیشہ متفق رہے تھے مگر بعض سیاسی و مذہبی قائدین کا کہنا تھا کہ سابقہ فاٹا کی اصلاحات، انضمام اور نوآبادیاتی دور کے کالے قوانین کی تنسیخ کے معاملات انتہائی حساس ہیں لہٰذا پختون عوام اور سیاسی جماعتوں کے خدشات اور تحفظات کا ازالہ کیے بغیر اتنا بڑا قدم نہ اٹھایا جائے۔ تاہم یہ سیاست دانوں کی عملیت پسندی تھی کہ انہوں نے ایوان میں مکمل اتفاق رائے سے قبائلی نشستوں میں اضافہ کا تاریخ ساز اقدام کیا ۔ دریں اثنا گورنر خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی ایکٹ پر دستخط کے بعد نیا بلدیاتی نظام صوبے میں نافذ کردیا گیا ہے جبکہ موجودہ بلدیاتی ادارے اپنی ا ٓئینی مدت پوری کرتے ہوئے 30 اگست کو ختم ہوجائیں گے۔ نئے بلدیاتی نظام میں اضلاع کی سطح کا سیٹ اپ اور ضلعی ناظم کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے اور تحصیل ناظمین کو اختیارات دیئے گئے ہیں۔ ناظم کا عہدہ چیئرمین جبکہ نائب ناظم کا عہدہ کنوینئر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے صوبائی حکومت پالیسی فریم ورک دے گی۔ نئے نظام کے تحت ٹائونز بھی ختم ہوجائیں گے۔ نچلی سطح پر دیہی علاقوں میں ویلیج اور شہری علاقوں میں نیبرہڈ کونسلیں قائم ہوں گی، شہر ی حکومتوں کے چیئرمین میئر کہلائیں گے۔ تحصیل لوکل گورنمنٹ چیئرمین، تحصیل لوکل گورنمنٹ اور تحصیل لوکل ایڈمنسٹریشن پر مشتمل ہوگی جس کی انتظامی اتھارٹی چیئرمین کے پاس ہوگی۔ نیبرہڈ اور ویلیج کونسلوں کے چیئرمین تحصیل کونسلوں کے ارکان ہوں گے۔ ہر ویلیج اور نیبرہڈ کونسل 7 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں تین جنرل ارکان شامل ہوں گے اور پیدائشی، فوتگی اور شادی و طلاق سے متعلق رجسٹریشن بھی نچلی سطح پر ہی ہوگی۔ تحصیل چیئرمین بجٹ پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ 35 اضلاع میں 4203 مقامی کونسلیں قائم ہوں گی جن میں 3624 ویلیج اور 579 نیبرہڈ کونسلیں شامل ہوں گی۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ بل پر ا ٓئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ ا ٓئینی ترمیمی بل کے حق میں 288 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی ۔ بل لانے کی تحریک رکن اسمبلی محسن داوڑ کی طرف سے پیش کی گئی۔ بل کے نفاذ کے بعد الیکشن کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ 18 ماہ کے دوران کروائے جائیں گے۔ بل کی منظوری کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے ا ٓئینی ترمیم کی منظوری پر قوم کو مبارک باد دی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ا ٓئینی بل لانے کا اعزاز بھی پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کے حصہ میں ا ٓیا۔ پی ٹی ایم کو قومی دھارے میں لانے کی کوششوں کو تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز نے سراہا۔ ان کے اصولی مؤقف کو فہمیدہ اور ملک کے سنجیدہ سیاسی اور مقتدر حلقوں نے بھی پذیرائی بخشی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق فاٹا کے عوام نے بہت مشکلات کا سامنا کیا۔ ملک کا کوئی صوبہ ہو یا اس کا کوئی حصہ، کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے سے احساس محرومی دور ہوگا۔ ان علاقوں کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھارہے ہیں، اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے خوش ا ٓئند ہے۔ ان علاقوں کے عوام کی ا ٓواز اب ہر جگہ سنی جائے گی اور ان میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ ان کے مسائل حل کیے جارہے ہیں۔ پیر کے روز قومی اسمبلی میں صوبہ خیبرپختونخواہ میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے از سر نو تعین کے لیے ا ٓئینی (ترمیمی) بل 2019ء پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ا ٓج مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ فاٹا کے حوالے سے اس اہم ا ٓئینی ترمیم کی پورا ایوان حمایت کر رہا ہے۔ اس سے قبائلی علاقے کے لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں جس طرح تباہی ہوئی ہے اور یہاں جس طرح کے مسائل سامنے ا ٓئے ہیں پوری قوم اہتی ہے کہ یہ مسائل حل ہوں اور ان لوگوں کی ا ٓواز سنی جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تمام صوبوں سے یہ کہنا چاہیں گے قومی مالیاتی کمیشن میں سے سابق فاٹا کے علاقوں کو 3 فیصد اضافہ حصہ دیا جائے۔ مجھے معلوم ہے کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے صوبوں کو بعض خدشات موجود ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فاٹا میں جو تباہی ہوئی ہے اس تباہی کا ازالہ خیبرپختونخواہ کا صوبہ اپنے فنڈ سے نہیں کرسکتا۔ اس میں باقی صوبوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہاں پر بنیادی ڈھانچے اور دیگر مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جاسکیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشرقی پاکستان کا سانحہ ایک بڑا واقعہ ہے جس کی بنیادی وجہ احساس محرومی تھا۔ ملک دشمن قوتیں اسی کی بنیاد پر ملک کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ پاکستان کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ دل خوش کن پیش رفت ہے کہ قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں لانے کی خواہش ا ٓج قومی ضرورت بن چکی ہے اور پارلیمنٹیرینز نے اپنے پختون بھائیوں کے ا ٓئینی حقوق کی جدوجہد میں ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ نون لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فاٹا کا انضمام کا اثر پورے ملک پر ہوگا۔ ا ٓج ہم نے پی ٹی ایم کو احساس دلایا ہے کہ ا ٓپ بھی ملک کا حصہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ فاٹا اصلاحات کے لیے اقدامات اٹھائے۔ قبائلی عوام نے پاکستان اور تکمیل پاکستان میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے دہشت گردی کی جنگ میں زخم کھا کر پاکستان کا تحفظ یقینی بنایا۔ وفاقی وزیر ا ٓ ئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ا ٓج ایک تاریخی دن ہے، فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں لا کر ان کے ہنر سے مستفید ہونا چاہیے۔اے این پی کے امیر حیدر ہوتی نے کہا سابق فاٹا کو امن اور عزت، وسائل سے بھی پہلے دینا ہوں گے۔ جے یو ا ٓ ئی کے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ سابق فاٹا کے حوالے سے پورے ایوان کا اتفاق رائے بہت خوش ا ٓئند ہے۔ بی این پی مینگل کے ا ٓغا حسن بلوچ نے کہا بلوچستان کی نشستوں کے حوالے سے بل لارہے ہیں اس پر ہمیں حمایت درکار ہوگی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا کہ پارلیمان کا ا ٓج کا یہ تاریخی اقدام قبائلیوں کے زخموں پر مرہم رکھے گا۔ اب ضرورت قبائلی علاقوں کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے سیاستدانوں نے دور اندیشی اور قومی یکجہتی کی نئی مثال قائم کی اور امید کی جانی چاہیے کہ سابقہ فاٹا کے عوام ملک کے دیگر علاقوں کی طرح قومی ترقی و تعمیر کے عمل میں شامل ہوں گے۔


ای پیپر