غریب عوام اور مہنگائی کی لہر
19 May 2019 2019-05-19

ابھی کالم لکھنے بیٹھا ہی تھا جب پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کے جواں سال بیٹے کی ٹریفک حادثے میں وفات کی افسوسناک خبر ٹی وی پر دیکھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوان بیٹے کی موت کا صدمہ، دکھ اور تکلیف برداشت کرنے کی ہمت، حوصلہ اور صبر عطا فرمائے۔ جوان بیٹے کی موت کا غم، دکھ اور صدمہ کسی بھی والد کے لیے بہت گہرا ہوتا ہے بلکہ پورا خاندان غم اور تکلیف سے نڈھال ہوتا ہے جس کو اپنے ہاتھوں سے کھلایا ہو۔ انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہو، اس کو لحد میں اتارنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ میری دعا ہے کہ خدا کائرہ صاحب کو پہاڑ جیسا یہ غم اور صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔

اب کالم کے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کے عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ ایک طرف ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے تو دوسری طرف اشیائے خورو نوش اور روزانہ استعمال میں آنے والی دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی قابو سے باہر ہیں۔ گیس کی قیمت میں اوگرا نے 47 فیصد مزید اضافے کی سفارش کر دی ہے۔ دوسری طرف میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ادویات کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور حکومت کی تمام تر بڑھک بازی کے باوجود ادویات کی قیمتیں اس حد تک کم نہیں ہوئیں جس کا حکومت نے دعویٰ کیا تھا۔ حکومت مسلسل تیل کی قیمتیں بھی بڑھاتی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کے عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان مسلسل اس صورت حال کا ذمہ دار پچھلی حکومتوں کو قرار دے رہے ہیں ا ور عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ صورت حال عارضی ہے اور ملک جلد مشکل معاشی صورت حال سے نکل جائے گا مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ مہنگائی کی موجودہ لہر کیسے تھمے گی۔ مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام کو ریلیف کیسے ملے گا؟ ادویات ، بجلی، گیس، تیل اور خوراک کی قیمتیں دوبارہ کیسے اور کتنے عرصے میں واپس ان کی پہنچ میں آئیں گی۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت کے پاس ان سوالات کے ٹھوس جوابات نہیں ہیں۔ اس حکومت کے پاس تمام سوالات کا جواب ایک ہی ہے کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری پچھلی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے ۔ موجودہ حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان جب حزب مخالف میں تھے اور ابھی برسر اقتدار نہیں آئے تھے تو اس وقت وہ قوم سے مسلسل یہ وعدہ کرتے تھے کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد پاکستان کے عوام سے سچ بولیں گے۔ وہ حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے اور وہ ان سے جھوٹ نہیں بولیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان قوم سے سچ بولیں۔ ملک کی معاشی صورت حال کو من و عن قوم کے سامنے رکھیں۔ انہیں جھوٹے دلاسے دینے کی بجائے تلخ حقائق سے آگاہ کریں۔ وہ پاکستان کے عوام کو بتائیں کہ ان کے پاس ملک کی معاشی مشکلات اور بحران پر قابو پانے کا کیا پروگرام اور روڈ میپ ہے۔ ہماری جمہوریت اور حکمران ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے کہ جہاں پر حکمران اپنی غلطیاں تسلیم کریں۔ اپنے غلط فیصلوں کی ذمہ داری قبول کریں اور اس کا ملبہ کسی اور پر ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔ غلط فیصلے یا پالیسی اس وقت درست نہیں ہو سکتی جب تک ان کو غلط تسلیم کرتے ہوئے ان کا جائزہ نہ لیا جائے مگر ہمارے ہاں ایسی روایت اور ثقافت ابھی تک جنم نہیں لے سکی۔

ایک طرف حکومت آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت 6ارب ڈالر لینے کا معاہدہ کر رہی ہے اور دوسری طرف عوام سے حالات جلد بہتر ہونے کے دعوے کر رہی ہے۔ حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کو لاگو کرنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ حکومت کو مختلف مد میں دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ نئے ٹیکس عائد کرنے ہوں گے۔ بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔ تعلیم اور صحت کے لیے مختص رقوم میں کمی کرنا ہو گی۔ ترقیاتی بجٹ کو بھی کم کرنا پڑے گا۔ تجارتی اور مالیاتی خسارے کا بوجھ عوام پر لادنا ہو گا۔ جب حکومت یہ تمام اقدامات اٹھائے گی تو اس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ معاشی ترقی کی شرح کم ہونے سے روزگار کے مواقع کم ہوں گے جس سے بے روزگاری پھیلے گی۔ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے سے آمدن گرے گی جس سے عوام کی قوت خرید میں مزید کمی واقع ہو گی۔ پاکستان 1980ء کے بعد سے اب تک 12 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے۔ 1988ء کے بعد سے ہر مرتبہ آئی ایم ایف قرضوں کے عوض سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کی شرائط عائد کرتا ہے۔ کیا 12 تجربات سے ہم نے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا۔ ہر مرتبہ IMF کی شرائط پر عمل درآمد کرنے سے عوام کی مشکلات بڑھتی ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار کم ہوتی ہے۔ سماجی تحفظ اور ترقیاتی اخراجات میں کمی ہوتی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ یہ 1980ء کی دہائی کے بعد سے 13 واں معاہدہ ہے۔ اب تک اس معاہدے کی جو معلومات میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے سخت شرائط والد معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں یہ تو ممکن ہے کہ چند معاشی اعشاریے بہتر ہو جائیں مگر عوام کی حالت خراب ہو گی۔ آئی ایم ایف کو محض اعداد و شمار بہتر بنانے میں دلچسپی ہوتی ہے اور ان کے تربیت یافتہ ماہرین معیشت کی اصل مہارت اور کاریگری بھی یہی ہوتی ہے کہ کیسے معاشی اعداد و شمار کو بہتر بنانا ہے۔ انہیں عوام کی مشکلات اور تکالیف سے کوئی سرکار نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف کے ماہرین کی اصل دلچسپی اس بات میں ہوتی ہے کہ قرض لینے والا ملک اس حالت میں رہے کہ ان کے قرضوں کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے اس لیے وہ مسلسل دباؤ ڈالتے ہیں کہ قرضوں کی واپسی کے لیے مختص رقوم میں ہر سال خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بجٹ میں مختص کردہ سب سے بڑی رقم قرضوں کی واپسی کے لیے ہوتی ہے جبکہ دوسری نمبر پر دفاعی اخراجات کے لیے مختص رقم آتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی کہ معیشت کا موجودہ ڈھانچہ اشرافیائی ہے اس پر اشرافیہ کا مکمل کنٹرول اور قبضہ ہے۔ بڑے پیمانے کی ریڈیکل اصلاحات متعارف کروائے بغیر پاکستان کی معیشت کے بنیادی نو آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ محض اچھی اور نیک خواہشات اور نیت سے معاشی صورت حال میں بہتری نہیں آئے گی بلکہ اس کے لیے معاشی پالیسیاں تبدیل کرنا ہو گی۔ پاکستان کی معیشت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ اشرافیہ اورحکمران طبقات کے مفادات کے تحت کام کرتی ہے ۔ حکمران طبقات ایسی پالیسیاں لاگو کرتے ہیں جن سے ان کو فائدہ پہنچتا ہے اور غریب عوام کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ جب تک حکمران طبقات اور اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی عوام مہنگائی ، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور افلاس کی چکی میں پستے رہیں گے۔ موجودہ حکومت تو پوری کوشش کر رہی ہے کہ درمیانے طبقے کی نچلی پرتوں اور محنت کش عوام کے درمیان موجود فرق کو بھی ختم کر دے تاکہ وہ عوام میں شامل ہو کر ان تمام فیوض و برکات سے فیض یاب ہو سکیں جو کہ عوام کے لیے موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے سے جاری ہوئے ہیں۔


ای پیپر