کشمیری قیادت… بھارتی ظلم و بربریت کا شکار
19 May 2019 2019-05-19

مقبوضہ کشمیر میں بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی این آئی اے کی جانب سے 30سے زائد مقامی کشمیری لیڈروں اور تحریک آزادی کیلئے سرگرم دیگر اہم شخصیات کیخلاف نوٹس جاری کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی وزارت داخلہ ڈیڑھ سو کے قریب بینک اکائونٹس کی چھان بین کیلئے باقاعدہ اجازت طلب کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میںنام نہاد بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے مقامی حریت قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کی منصوبہ بند ی کر لی ہے اور عید الفطر سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل بھی این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سرگرم کشمیریوں کے خلاف 30 سے زیادہ کیس درج کر چکے ہیں اور کئی حریت لیڈروں کو گرفتار کر کے نئی دہلی منتقل کیا گیا ہے جنہیں بغیر کسی وجہ کے قید رکھا گیا ہے اور انہیں رہا نہیں کیا جارہا۔

رمضان المبارک کے آغاز سے بھارتی فوج نے کشمیریوں کے خلاف نام نہاد سرچ آپریشنوں کی آڑ میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پورا کشمیر اس وقت جل رہا ہے۔ بھارتی فوج ظلم ودہشت گردی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔روزانہ کشمیریوں کا خون بہا یا جارہا ہے۔ مظلوم کشمیری اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کیلئے احتجاج کرتے ہیں تو ان پر ممنوعہ ہتھیار پیلٹ گن کے چھرے برسائے اور اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کی جاتی ہے۔قابض حکومت ہندوستانی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں ایک ایک کرکے کشمیری لیڈروں پر پاکستان سے مبینہ فنڈنگ اور کشمیری مجاہدین کو رقوم فراہم کرنے جیسے الزامات لگا کرجھوٹے مقدمات بنا رہی ہیں اور پھر انہیں کشمیر سے بھارتی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ پہلے شبیر احمد شاہ کو تہاڑ جیل میں قید کیا گیااور ان کی رہائش گاہ قبضہ میں لے لی گئی، دختران ملت کی چیئرمین سید ہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین جیسی خواتین رہنمائوں کو نئی دہلی لیجایا گیا توپھر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کو بھی سری نگر کی سنٹرل جیل سے تہاڑ جیل لیجا کر نظربند کر دیا گیا۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک پر این آئی اے نے ایسے مضحکہ خیز الزامات لگائے ہیں کہ جن سے متعلق پہلے کبھی کسی نے سنا بھی نہیں ۔ ہندوستانی ایجنسیوں کے تیار کردہ ڈوزیئر میں وہ بے بنیاد الزامات بھی دہرائے گئے ہیں جو نوے کی دہائی کے ہیں اور عدالتیں پہلے ہی ان الزامات کو جھوٹ پر مبنی قرار دے چکی ہیں۔ بھارتی فورسز کی درندگی کا عالم یہ ہے کہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت کئی لیڈروں کو ہندوستانی جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حریت کانفرنس (ع) کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کوبار بار گھر میں نظربند اور جامع مسجد سری نگر سیل کر دی جاتی ہے۔ بھارت میں مودی حکومت نے پچھلے تقریبا ڈیڑھ سال سے حریت کانفرنس میں شامل تنظیموں اور قائدین کے گھیرائو کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔سب سے پہلے نعیم احمد خاں نامی کشمیری رہنما کو حراست میں لے کر نئی دہلی کی جیل میں بھیجا گیا اور پھر مختلف کشمیری جماعتوں کے دیگر لیڈروں، تاجر رہنمائوں، طلباء اور وکلاء رہنمائوں کو ہراساں کرنے اور ان پر جھوٹے مقدمات بنانے کا آغاز کر دیا گیا۔ ہندوستانی اعلیٰ عدلیہ کے واضح فیصلے ہیں کہ کشمیری قیدیوں کو ان کی رہائش گاہوں کے قریب ترین جیلوں میں رکھا جائے مگر بھارتی حکومت اپنی ہی عدالتوں کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے اور ان پر کسی طور عمل نہیں کیا جارہا ۔ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری تنظیموں اورلیڈروں پر پابندیاں لگانے، انہیں جیلوں میں ڈالنے اور کشمیری تاجروں کو نشانہ بنانے کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح انہیں معاشی طور پر کمزور کر دیا جائے تاکہ وہ جدوجہد آزادی کشمیر میں صحیح معنوں میں حصہ نہ لے سکیں۔ بی جے پی نے واضح طور پر کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں کشمیری تنظیموں اور شخصیات پر پابندیاں لگانے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے یہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور مزید تنظیموں اور حریت لیڈروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ آنے والے دنوں میں حریت قائدین اور سرگرم کشمیریوں کے گرد مزید گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ بھارتی حکومت ان دنوں کشمیری تنظیموں کے نمائندہ اتحاد حریت کانفرنس پر بھی پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق ، بزرگ کشمیری قائد سیدعلی گیلانی کے صاحبزادوں ڈاکٹر نعیم گیلانی ، ڈاکٹر نسیم گیلانی اور فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کی کمسن بیٹیوں کو نئی دہلی طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہراساں کرنا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں اس وقت محمد یٰسین ملک، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، شبیر احمد شاہ،سیدہ آسیہ اندرابی،فہمیدہ صوفی ، ناہیدہ نسرین، ڈاکٹر حمید فیاض، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، نور محمد کلوال، بشیر احمد بٹ، ایڈوکیٹ زاہد علی، مولانا سرجان برکاتی اور دیگرکئی کشمیری لیڈر قید ہیں۔ بھارتی جیلوں میں جس طرح کشمیری قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک اور ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس سے ان سب کی زندگیوں کے حوالہ سے کشمیری حریت قیادت نے سخت خدشات کا اظہا رکیا ہے۔ بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ فسطائی نظریے کے حامل بھارتی حکمرانوں کی طرف سے کشمیری سیاسی نظربندوں کو بدترین انتقام کا نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے لیکن غاصب بھارت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ بھارت سرکار نے پورے کشمیر کو فوجی چھائونی میں تبدیل کررکھا ہے مگر بین الاقوامی قوتوں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے کانوں پر جوں تک بھی نہیں رینگ رہی۔ انڈیا نے پورے کشمیر کواس وقت فوجی چھائونی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ کشمیر میں قتل و غارت گری کے بعد احتجاج کی ایک نئی لہر ہے جو اس وقت دکھائی دے رہی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں صورت حال پر قابو پانا چاہتی ہیں، تاہم انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ انہیں کرنا کیا ہے۔ بھارتی قیادت کو کشمیر ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے اور ان کے ماہرین بھی یہی رپورٹیں پیش کر رہے ہیں۔ بی جے پی سرکار نے کچھ عرصہ قبل بعض معتدل قسم کے لیڈروں کو کشمیری قیادت سے ملاقات اور ان کا موقف جاننے کے لئے سری نگر بھی بھیجا جس نے مختلف حریت قائدین سے ملاقاتیں بھی کیں، تاہم حریت قیادت کے مضبوط موقف اور غاصب بھارتی حکومت کے سامنے کسی صورت میں جھکاؤ اختیار نہ کرنے والی پالیسی کی وجہ سے انہیں بھی مایوس واپس لوٹنا پڑا۔ بھارت کی بی جے پی سرکار مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ حریت رہنمائوں کے خلاف کاروائیوں کو اپنی عوام کے سامنے بہت بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں ان دنوں گھڑے مردے اکھاڑ رہی ہیں اور بے سروپا الزاما ت لگا کر حریت رہنمائوں پر دبائو بڑھانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ کشمیری قیادت کو متحدہو کر بھارتی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کی اس یلغار کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی کشمیریوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہو۔ کشمیری قوم پاکستان کو اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتی ہے لہٰذا پاکستانی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیرکی صورتحال کو سمجھے، دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرے اور کسی قسم کی مصلحت پسندی سے کام لئے بغیر مظلوم کشمیریوں کی دل کھول کر مدد کی جائے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی اس وقت جس مقام پر ہے اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچی۔ مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جلد ان شاء اللہ کامیابی سے دوچار ہو گی اور غاصب بھارت اب زیادہ دیر تک جنت ارضی کشمیر میں نہیں ٹھہر سکے گا۔


ای پیپر