گورنر ہاﺅس کی افطاریاں
19 May 2019 2019-05-19

تبدیلی کے دشمن، بدتمیز اور ناہنجارشخص نے کہا کہ لاہور کے گورنر ہاو¿س سے اسی طرح ’پرچیاں ‘جاری ہوتی ہیں جس طرح ایم کیو ایم کراچی میں کیا کرتی تھی، ان پرچیوں پر سرور فاو¿نڈیشن کے لئے عطیا ت کے نام پر بھی رقوم وصول ہوتی رہی ہیں اور اب ہر روز لاکھوں روپے کے اخراجات کے ساتھ شاہانہ افطاریاں بھی ہو رہی ہیں کہ ان کے اخراجات نہ سرکار اٹھا رہی ہے اور نہ خود جناب محمد سرور ۔ افطاریوں کا جنریٹر کے کرائے سے پینے کے پانی تک کا لاکھوں روپوں روزانہ کا خرچ’ آوٹ سورس‘ ہوتا ہے، اس وقت گورنر ہاو¿س لاہور کے کام کرنے کا انداز وہی ہے جو ایم کیو ایم کا خدمت خلق فاونڈیشن چلاتے ہوئے تھا، جی ہاں، وہی خدمت خلق فاو¿نڈیشن جس کی جنوری میں بھتے سے بنائی گئی ساڑھے تین ارب کی جائیدادیں ضبط ہوئی ہیں۔ کہنے والا یہاں تک کہہ رہا تھا کہ گورنر صاحب پارٹی سے ناراض بھی اسی لئے ہوئے تھے کہ ان کے خلاف شکایت پر وزیراعظم عمران خان نے فائل نعیم الحق کوبھجوا دی تھی۔ نعیم الحق نے جہانگیر ترین کے مشورے سے گورنر صاحب کو سرور فاو¿نڈیشن کے لئے فنڈ ریزنگ کی غیر ملکی مہم سے براہ راست اسلام آباد طلب کر تے ہوئے تمام مبینہ ثبوت ان کے سامنے رکھ دئیے تھے۔ گورنر صاحب اس پر بہت بدمزہ ہوئے اور سیدھے ایک حکومت مخالف اینکر کے پروگرام میں پہنچے ، کہا ،اگر سب کام جہانگیر ترین نے ہی کرنے ہیں تو وہ یہاں آلو چنے بیچنے کے لئے نہیں بیٹھے ہوئے، اگر ان کے خلاف کارروائی ہوئی تو وہ استعفا دے دیں گے ، کہتے ہیں اس کے بعد پیغام اصل جگہ پر پہنچ گیا تھا۔

تبدیلی کے دشمن ، بدتمیز اور ناہنجاز شخص کومیں نے ڈانٹا اور کہا کہ اسے افطار میں بھی بدنیتی نظر آتی ہے۔ میں نے اسے کہا ، دیکھو، نعیم میر ہمارے محترم تاجر رہنما ہیں اور ان کی آزادی اور دیانت کا ثبوت ہے کہ وہ کسی ایک کے ’غلام‘ نہیں، جماعت اسلامی سے مسلم لیگ نون میں گئے ، وہاںسے پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی سے پھرواپس ہوئے ،اب اس کے باوجود کہ وہ رمضا ن المبارک میں بہت سارے تاجروں کا فون تک نہیں اٹھاتے کہ وہ اللہ کے ذکر میں مصروف ہوتے ہیں، وہ محض افطار کے ثواب کی خاطر گورنر ہاو¿س پہنچے۔ ان کی علی الاعلان گواہی ہے کہ گورنر ہاو¿س میں سرکاری خرچ پر کوئی افطاری نہیں ہورہی بلکہ اس کے لئے ’ دوست‘ اور ’ مخیر حضرات‘ تمام خرچ اٹھاتے ہیں اور اس سے ہٹ کے میری اطلاع یہ ہے کہ گورنر ہاو¿س سے ایم کیو ایم سٹائل میں کسی قسم کی کوئی پرچی جاری نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ایک بہت ہی مہذب قسم کے صاحب مقرر ہیں جو فون کرکے کہتے ہیں کہ گورنر صاحب یاد کر رہے ہیں۔ جب یاد آوری ہوتی ہے تو پھر بھائی بندی میں سب کام ہوجاتے ہیں لہٰذا افطار کو نیکی کا کام سمجھنا چاہئے۔ حدیث مبارک ہے کہ اگر کسی مسلمان نے کسی دوسرے مسلمان کو افطار کرایا تو اسے مکمل روزے کاثواب ملے گا اور وزہ دار کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اب تک وہاں ہزاروں کی تعداد میں پی ٹی آئی کے کارکن، تاجر، صحافی اور دیگر شعبوں کے لوگ افطاری کر چکے ہیں اور یقینی طور پر اس ثواب کی وجہ ہمارے ہر دل عزیز گورنر کی ذات ہی بنی ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر جناب نعیم میر کی گواہی اہم ہے کہ جب عام آدمی کو موجودہ حکومت کوئی ریلیف نہیں دے سکی تو وہی عام آدمی گورنر صاحب کے ساتھ سیلفیاں اتار کے اپنا رانجھا راضی کر لیتا ہے، اس حکومت میں شاید گورنر سرور ہی وہ واحد شخص ہے جو عوام کے ساتھ براہ رست رابطے کا ذریعہ ہے، باقی سب کا اللہ حافظ ہے۔ وہ یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔

تبدیلی کے دشمن، بدتمیز اور ناہنجار شخص نے حدیث مبارکہ کے استعمال پر مجھے ایسے گھورا جیسے کچا چبا جائے گا، بولا، سوشل میڈیا پرمیاں سعید ڈیرے والے سمیت دیگر انویسٹرز کے نام سامنے آچکے۔ انہیں یہاں مخیر حضرات کہنا درست نہیں کہ یہاں کوئی خیرات نہیں بانٹی جارہی، تاجر ہوں صحافی ہوں یا پی ٹی آئی کے چھ، چھ اضلاع سے بلائے گئے کارکن، یہ کوئی بھوکے ننگے غریب لوگ نہیں کہ انہیں اللہ واسطے افطاریاں کروائی جائیں، نہ ہی یہ وہ عام لوگ ہیں جو سیلفیاں بنانے آتے ہیں، یہ سیاست ہے، یہ پبلک ریلیشننگ ہے، یہ سرمایہ کاری ہے اور جب اصول یہ ہے کہ جب کوئی پچیس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا تو وہ اس میں سے پچیس کروڑسے پچیس ارب روپے تک نکالنے کی کوشش کرے گا۔ آیات اور احادیث کا ذاتی ، سیاسی اور گروہی مفادات کے لئے استعمال اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے ، ’ ایاک نعبد و ایاک نستعین ‘ سے تقریریں شروع کرنے والوں کو علم ہونا چاہئے کہ سرکاری کام ختم ہوجاتا تھاتو حضرت عمر فاروقؓ سرکاری تیل والا چراغ بجھا دیتے تھے۔ کیا ہمیں علم نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکوٰة کی وصولی پر عامل مقرر کیا اور جب وہ زکوٰة اکٹھی کر کے واپس آیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، یہ زکوٰة کا مال ہے اوریہ مال وہ ہے جو لوگوں نے مجھے تحفہ اور ہدیہ کیا ہے۔ میرے آقا اس پر برہم ہوئے اور فرمایا کہ تو اگر اپنے باپ کے گھر بیٹھا رہتا تو کیا پھر بھی لوگ تجھے یہ تحفے دیتے۔ معاملہ سو فیصد واضح ہے کہ گورنر ہاو¿س کا وہ استعمال ہو رہا ہے جو اس سے پہلے شائد صرف لطیف کھوسہ کرتے رہے۔ پنجاب کا گورنر ہاو¿س پنجاب کے خزانے سے چلتا ہے اور پنجاب میں گذشتہ دس ، پندرہ برسوں سے سرکاری خرچ پر افطار پارٹیوں پر پابندی عائد ہے لہٰذا یہ چور راستہ نکالا گیا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ گورنر ہاو¿س کا پارٹی سرگرمیوں کے لئے استعمال سردار ذوالفقار کھوسہ بھی کرتے رہے اور سلمان تاثیر مرحوم بھی اسے اپنے عروج پر لے گئے حالانکہ عمومی طور پر وفاق کا نمائندہ کسی سیاسی جماعت کا ذمہ دار تصور نہیں ہوتا۔ گورنر ہاو¿س میں ایسی سرگرمیوں کا انعقاد آئین میں درج گورنر کے عہدے کے فرائض اور وفاقی نظام کی روایات کے منافی ہے۔ پنجاب میں انتظامی معاملات اور ترقیاتی کاموں کی صورتحال چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی ایک شخص نہیں، بلکہ کئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دس ماہ گزرنے کے باوجود اس حکومت کی کوئی سمت واضح نہیں ہوئی۔ پنجاب کے عوام کو جس بدانتظامی اورنااہلی کا اس وقت سامنا ہے اس کا ازالہ گورنر ہاو¿س کے لان میں سیر کر کے یا کپڑے کی ملوں کے مالکان کے پیسوں سے ہونے والی افطاریوں سے نہیں ہوسکتا۔ مجھے تحریک انصاف کے ایک رپورٹر کے ساتھ چند روز قبل ہونے والی گفتگو کا حوالہ دینے دیجئے، اس نے کہا ،سب پر واضح ہو رہا ہے کہ خان صاحب کے نام پر جو لاٹری لگنی تھی وہ لگ گئی، اب کسی کو علم نہیں کہ یہ حکومت پانچ برس پورے کرے گی یا اسی بجٹ کے بعد ہی رخصت کر دی جائے گی مگر یہ سب کو علم ہے کہ اگر یہ حکومت ایک مرتبہ چلی گئی تو پھر دوبارہ کبھی نہیں آئے گی لہٰذا اس وقت ایک ہی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کون کتنا کما اور کتنا بچا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہی کمائی اور بچت ہی کام آئے گی۔


ای پیپر