آخر کیوں اور کب تلک
19 مئی 2018 2018-05-19

دس ماہ قبل نواز شریف کو ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ کے منصب سے برطرف کر دیا گیا۔۔۔ پھر ایک اور فیصلے کے نتیجے میں نااہلی کو عمر بھر کے لیے مسلط کر دیا گیا۔۔۔ پارٹی نے اسے صدر منتخب کیا تو اس عہدے سے بھی فارغ کر دیا گیا۔۔۔ اس کے ساتھ اس کی پارٹی کو اندر سے توڑنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔۔۔ ابھی تک جاری ہیں۔۔۔ بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو پائی مگر کچھ کچی اینٹیں جنہیں خاندانی لوٹے بھی کہا جاتا ہے گر گئی ہیں۔۔۔ غیرمعمولی اثر و رسوخ کی مالک مقتدر قوتیں اس کے در پے آزار ہیں۔۔۔ زیر اثر میڈیا کا ایک بڑا حصہ صبح شام اسے مطعون قرار دینے میں مصروف کار ہے اپوزیشن کی جماعتیں تمام تر سرگرمیوں کو اس کی جگہ لینے کے لیے مرکوز کیے ہوئے ہیں۔۔۔ عالمی طاقتوں کی نگاہیں بھی اس پر ہیں کہ دو ماہ بعد ہونے والی انتخابات کے دوران اور ان کے بعد اس کا کتنا کردار باقی رہ جائے گا۔۔۔ جیل چلا گیا تو کیا اثرات ہوں گے نہ گیا تو عوامی سطح پر کتنی طاقت کا مالک ہو گا۔۔۔ اس کے بیانات اور انٹرویوز کے ایک ایک لفظ کا ایسے تیا پانچا کیا جاتا ہے جیسے بال کی کھال اتاری جا رہی ہو۔۔۔ اس کی حب الوطنی تک مشکوک قرار دی جا رہی ہے۔۔۔ ہمارے ملک میں غدار سازی کی فیکٹری پچھلے ساٹھ ستر سال سے کام کر رہی ہے نواز شریف اس کی تازہ پیشکش ہے۔۔۔ دہشت گردی کے حوالے سے جو بات کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں نے کہی سرکردہ سیاستدانوں کے منہ سے نکلی اگر نواز شریف کی زبان سے ادا ہو گئی ہے تو یار لوگ غدار غدار پکار اُٹھے ہیں۔۔۔ حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے کچھ مبصرین کا کہنا ہے اگر ’’اوپر‘‘ والوں کو یقین ہو گیا کہ تمام تر مساعی کے باوجود اس کے ووٹ بینک پر کاری ضرب نہیں لگائی جا سکی تو ممکن ہے سر پر کھڑے انتخابات ملتوی کر دیے جائیں۔۔۔ بہانہ آسانی سے ڈھونڈا جا سکتا ہے اور سپریم کورٹ سے آرڈر لینا بھی چنداں مشکل نہ ہو گا۔۔۔ ساری سیاست کا محور ایک شخص بنا ہوا ہے۔۔۔ وہ بھی اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا ہے۔۔۔ للکار رہا ہے آؤ ہمت ہے تو میرا مقابلہ کھلے میدان میں کر کے دیکھو۔۔۔ گویا پاکستان کے حال اور مستقبل کا انحصار ایک نکتے پر ہے نواز شریف باقی رہتا ہے یا نہیں۔۔۔ منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید۔۔۔ ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے۔۔۔ ایک شخص کی ذات کو چونکہ ساری قومی و ملکی سیاست کا محور بنا کر رکھ دیا گیا ہے لہٰذا محسوس ہوتا ہے کہ قوم کی گاڑی کا پہیہ اس پر آ کر رک گیا ہے۔۔۔ معیشت ہماری سخت دباؤ میں ہے۔۔۔ سرمایہ کاری جو تھوڑی بہت شروع ہوئی تھی۔۔۔ رک گئی ہے۔۔۔ شرح نمو کی طرف آئی تھی۔۔۔ اس کا آگے کی جانب قدم رکھنا مشکوک سا ہو گیا ہے سخت غیر یقینی کی کیفیت ہے جس نے قوم و ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔۔۔
ایسا آخر کیوں ہے۔۔۔ امریکہ میں تقریباً اتفاق رائے ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ جیسا ناپسندیدہ صدر وہاں کبھی منتخب نہیں ہوا۔۔۔ روگ جان بنا ہوا ہے۔۔۔ لیکن کوئی اسے غیر آئینی غیر جمہوری طریقے سے یا عدالتی بیساکھی کا سہارا لے کر ہٹانے کی کوششوں میں نہیں لگا ہوا۔۔۔ وہاں کی عسکری قیادت پسند نہ بھی کرتی ہو تو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔۔۔ اسے وہائٹ ہاؤس سے نکال دینے کی خاطر سازشوں کے جال کہیں نہیں بچھا رکھے۔۔۔ نہ اپنے ملک کی طاقتور ایجنسیوں کو اس کے خلاف متحرک کر رکھا ہے۔۔۔ نہ میڈیا کو شہ دی جاتی ہے وہ ابلاغیت کی سطح پر امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ہراول دستے کا کام دے۔۔۔ سب کا خیال ہے چار سال کی آئینی مدت پوری کر کے اگلے انتخابات میں شکست فاش سے دو چار ہو جائے گا کیونکہ اسے ووٹ دینے والے بہت کم لوگ ہوں گے۔۔۔ مگر اس سے جان چھڑانے کی خاطر آئین مملکت کے الفاظ اور روح کو چھیڑا نہیں جا رہا۔۔۔ جمہوری نظام اور اس کے تسلسل پر حرف نہیں آنے دیا جا رہا۔۔۔ ایسا کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔۔۔ خواہ وہاں کے حاضر سروس جرنیل ہوں۔۔۔ میڈیا پر اجارہ داری رکھنے والے مہا قطب ۔۔۔ یا مخالف سیاستدان۔۔۔ امریکہ کی منتخب پارلیمنٹ جسے اس ملک کے آئین کی رو سے کانگریس کہا جاتا ہے۔۔۔ اس کے اندر ٹرمپ کی جماعت اور اس کے حامی بھی ہیں۔۔۔ مخالف بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔۔۔ یہ ادارہ تمام تر آئینی اختیارات کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔۔۔ باقی تمام کے تمام امریکی ادارے بھی حکومتی ہوں یا نجی شعبہ معمول کی رفتار کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔۔۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی تمام تر لن ترانیاں ان کی کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔۔۔ اس لیے کہ آئین اور آئینی نظام زندہ و توانا ہے جمہوری قدریں پوری آن بان کے ساتھ موجود ہیں۔۔۔ ہر کوئی اپنی حدود میں رہ کر اختیارات کا استعمال کرتا ہے۔۔۔ دوسرے کی زمین پر قدم رکھنے کی کسی کو جرأت نہیں ہوتی۔۔۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں ووٹروں نے غلط آدمی کا انتخاب کیا۔۔۔ سو ہو گیا۔۔۔ ڈیڑھ برس گزر گیا ہے اڑھائی باقی ہیں۔۔۔ اگلا چناؤ ہو گا اسے باہر نکال پھینکا جائے گا۔۔۔ نظام چلتا رہے گا۔۔۔ ملک کی دنیا بھر میں ٹرمپ کے آنے سے پہلے جو طاقت اور رسوخ تھا اب بھی ہے۔۔۔ اس نے وہائٹ ہاؤس خالی کر دیا تو بھی سپر طاقت اپنی جولانیاں دکھاتی رہے گی۔۔۔ اسی کو جمہوریت کا حسن کہتے ہیں۔۔۔ جسے ٹرمپ جیسے غیر مطلوب آدمی کے صدر بن جانے کے باوجود گرہن نہیں لگ پایا۔۔۔ بھارت کی مثال لے لیجیے امریکہ کی طرح ترقی یافتہ نہیں۔۔۔ شرح خواندگی بھی مطلوبہ معیار سے بہت کم ہے۔۔۔ غربت کے مہیب مناظر جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔۔۔ جمہوریت کی تاریخ بھی ہماری طرح ستر سال سے پرانی نہیں۔۔۔ وہاں اس وقت نریندر مودی جیسا نہایت درجہ مذہبی تعصب کا مالک منتخب
وزیراعظم کے طور پر اقتدار سنبھالے ہوئے ہے۔۔۔ اقلیتیں سخت نالاں ہیں۔۔۔ بھارت کے طول و عرض کے لبرل عناصر پریشان ہیں میڈیا معاف نہیں کر رہا۔۔۔ مخالف جماعتیں صبح و شام اس فکر میں مبتلا ہیں کہ 2019ء کے قومی انتخابات میں اسے کیسے شکست سے دو چار کیا جائے۔۔۔ خود نریندر مودی نے چند روز قبل کہا ہے مجھے روزانہ دو اڑھائی کلو گالیاں سننی پڑتی ہیں۔۔۔ اس سب کے باوجود فوج اسے ہٹانے کی خاطر دن رات ایک نہیں کر رہی۔۔۔ اپنی آئینی حدود کی پابندی کرتی ہے۔۔۔ دفاعی اور قومی سلامتی کے دیگر امور پر درون خانہ مشورہ یقیناًدیتی ہو گی لیکن اسے اپنی اجارہ داری خیال نہیں کرتی آخری اور حتمی فیصلے بہرصورت وہاں کی منتخب حکومت جیسی بھی ہو کرتی ہے۔۔۔ وہاں کی سب سے مشہور اور طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی را امور سیاست میں مداخلت نہیں کرتی کرپشن بھی کم نہیں لیکن اس کی کہانیاں گھڑی نہیں جاتیں۔۔۔ نتیجتاً مودی حکومت کی تمام تر خرابیوں کے باوجود بھارت کی معیشت پھل پھول رہی ہے۔۔۔ نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی بارش کے باوجود خارجہ پالیسی کامیابی کے ساتھ اپنی ڈگر پر چل رہی ہے۔۔۔ ملک کے مستقبل کے بارے میں سوال نہیں اٹھتے۔۔۔ ہر ایک کی نظریں اگلے عام انتخابات پر ہیں۔۔۔ جن کے ملکی آئین کے تحت تسلسل میں آج تک فرق نہیں پڑا۔۔۔ وہ غیر متنازع ہوتے ہیں نہ انہیں مصنوعی طور پر متنازع بنایا جاتا ہے۔۔۔
میں ابھی ترکی سے ہو کر آیا ہوں۔۔۔ رجب طیب اردوان مسلمہ سیاسی اور جمہوری لیڈر ہیں۔۔۔ 2002ء سے منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔ اگلے ماہ جون میں ایک مرتبہ پھر انتخابات ہونے والے ہیں۔۔۔ میں استنبول اور انقرہ جیسے اہم ترین شہروں میں گھوما پھرا۔۔۔ پارلیمنٹ ہاؤس گیا۔۔۔ ہمارے وفد کی ایک سرسری سی ملاقات جناب اردوان سے ہوئی۔۔۔ انہیں اس مرتبہ بھی اپنی انتخابی کامیابی کا پورا یقین ہے۔۔۔ غیر معمولی اعتماد سے سرشار ہیں۔۔۔ عام لوگوں کا خیال بھی ان کی کامیابی کے حق میں ہے۔۔۔ لیکن اپوزیشن چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھی ہوئی۔۔۔ صدر کو شکست دینے کے لیے پورا زور لگا رہی ہے۔۔۔ اپنے تمام آئینی و سیاسی حقوق کا کھل کر استعمال کر رہی ہے۔۔۔ فوج وہاں کی بہت زور آور ہے۔۔۔ سیاست میں بار بار کی مداخلت اپنا وتیرہ بنائے ہوئے تھی۔۔۔ حکومتیں الٹائی جاتی تھیں فوجی راج قائم کیے جاتے تھے۔۔۔ 2016ء میں رجب طیب اردوان کو بھی اڑا کر رکھ دینے کی سعی ناتمام کی گئی۔۔۔ منہ کی کھانی پڑی۔۔۔ لوگ ٹینکوں کے آگے آ کر لیٹ گئے۔۔۔ جمہوریت کی حفاظت کی۔۔۔ فوج اب دبی دبی حالت میں ہے۔۔۔ سامنے آنے کی جرأت نہیں رکھتی۔۔۔ حالانکہ یہ وہ فوج ہے جس نے ہمارے شہ زوروں کے برعکس جدید ترکی کے قیام میں براہ راست کردار ادا کیا تھا۔۔۔ مگر اب ملک کی آئینی ، جمہوری اور عوامی طاقت اس کے سیاسی عزائم پر غلبہ پاتی جا رہی ہے۔۔۔ اس کے فرائض کو سرحدات کی حفاظت تک محدود رکھنے میں خاص حد تک کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔۔۔ جبکہ رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکی نے شاندار اور متاثر طریقے سے اقتداری ترقی کی منازل طے کی ہیں۔۔۔ خارجہ امور میں اپنے ملک کا وہ مقام بنایا ہے کہ آج کے عالم اسلام کے اندر کوئی مؤثر ملک ہے تو وہ طیب اردوان کی قیادت والا جمہوری اور اسلامی قدروں کا پاسبان ترکی۔۔۔ اس وقت بھی اسرائیلی حکومت کی جانب سے یروشلم کے مسئلے پر فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف آواز اٹھانے میں پیش پیش ہے۔۔۔ او آئی سی کا ایک اہم اجلاس استنبول میں منعقد ہوا۔۔۔ ہمارے وزیراعظم بھی شریک ہوئے۔۔۔ رجب طیب اردوان کو عالمی لیڈر کی حیثیت حاصل ہے۔۔۔ امریکہ، بھارت اور دنیا کے کئی کامیاب جمہوری ممالک کے اندر سویلین بالادستی کا اصول امر مسلمہ کا درجہ رکھتا ہے۔۔۔ ترکی کی عوامی اور اسلام دوست قوتوں نے بڑی محنت اور لمبی جدوجہد کے بعد اس کا حصول ممکن بنایا ہے۔۔۔
پاکستان کا مسئلہ مگر کیا ہے۔۔۔ یہاں سیاسی انتشار اور خلفشار کیوں روگ جان بنا ہوا ہے۔۔۔ پائیدار استحکام کیوں جنم نہیں لیتا۔۔۔ ہماری معیشت غیروں کی محتاجی سے کیوں نجات نہیں پاتی۔۔۔ بیرونی دنیا کے اندر ہمارا ملک اپنا صحیح مقام کیوں حاصل نہیں کر پا رہا۔۔۔ کسی ایک بھی وزیراعظم کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کیوں نہیں دی گئی۔۔۔ سول ملٹری کشمکش نے پہلے اور بانی وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور سے لے کر آج تک کچھ ایسے طریقے سے ہمیں دبوچ کر رکھا ہوا ہے کہ بار بار آئین ٹوٹا۔۔۔ اس پر پیوند کاری کی گئی۔۔۔ جمہوریت پر شب خون مارے گئے۔۔۔ وزیراعظم قتل ہوئے۔۔۔ پھانسی پر لٹکائے گئے۔۔۔ جلا وطن کیے گئے۔۔۔ غدار کہلوائے۔۔۔ خاص فیکٹریوں میں ان کے لیے کرپشن کے پیراہن تیار کیے گئے۔۔۔ اعلیٰ عدالتوں کو استعمال کیا گیا۔۔۔ ہر اہم موڑ پر مرضی کے فیصلے حاصل کیے گئے۔۔۔ منتخب پارلیمنٹوں کو سر نہیں اٹھانے دیا گیا۔۔۔ سیاستدانوں کو آپس میں لڑایا گیا۔۔۔ جسد قومی کو ایسا مرض لاحق ہو گیا ہے کہ آکاس بیل کی مانند اس کا خون چوستا چلا جا رہا ہے۔۔۔ صبح شام فرد واحد نواز شریف کا تذکرہ ہوتا ہے۔۔۔ حق میں بھی اور سخت مخالفت میں بھی۔۔۔ گویا اس کے علاوہ ہمیں کوئی قومی مسئلہ درپیش نہیں۔۔۔ کیا یہ کسی بھی معنی میں معیاری صورت حال ہے۔۔۔ ایک سیاستدان سے نجات حاصل کرنا ہی ہماری والیان ریاست کا سب سے بڑا مطمح نظر بن کر رہ گیا ہے۔۔۔ اس سے قبل بینظیر اور ذوالفقار علی بھٹو تھے۔۔۔ ان سے پہلے سہروردی اور لیاقت علی خان تھے۔۔۔ یعنی وہ سیاستدان جنہیں تاریخ ہماری بانیان پاکستان میں شمار کرتی ہے۔۔۔ انہیں بھی معاف نہ کیا گیا۔۔۔ آج نوا زشریف اگر نہ رہا۔۔۔ کل عوامی امنگوں کو لے کر کوئی اور سیاستدان گلے میں آئینی و انتخابی مینڈیٹ کا ہار پہن کر سامنے آن کھڑا ہوا تو اس کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا جائے گا۔۔۔ آئینی تسلسل برداشت نہیں ہو پا رہا۔۔۔ ایک کھیل ہے جو روز اوّل سے کھیلا جا رہا ہے۔۔۔ اسی دوران اور اسی کھیل تماشے میں ملک ہمارا دو لخت ہوا۔۔۔ بھارت جیسے کمینے دشمن کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔۔۔ یکے بعد دیگرے آمر ہم پر راج کرتے رہے۔۔۔ غیروں کی جنگیں لڑتے رہے۔۔۔ ملکی وسائل ان میں جھونکتے رہے۔۔۔ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔۔۔ ملک ہمارا پوری دنیا کے سامنے رجعت قہقری کا نمونہ بن کر رہ گیا ہے۔۔۔ آخر کیوں اور کب تلک ۔۔۔ یہ ملک یہ عظیم وطن ہمارا کسی غیر آئینی ادارے کی چراگاہ کے طور پر نہیں بنایا گیا تھا۔۔۔ ایک جمہوری جدوجہد تھی۔۔۔ علیحدہ قومیت کا اسلامی جذبہ تھا۔۔۔ ایک آئین دوست سویلین لیڈر تھا۔۔۔ جمہوریت اس کی روح میں رچی بسی تھی۔۔۔سویلین بالادستی اور آئین کی حکمرانی کا وہ دل و جان سے قائل تھا۔۔۔ اپنے ان خیالات کو اس نے کبھی ڈھکا چھپا نہ رہنے دیا۔۔۔ ایک افسر نے اپنی رائے منوانے کی کوشش کی تو سر عام ٹوک دیا۔۔۔ اس کی وردی کا بٹن دباتے ہوئے متنبہ کیا آئندہ کار حکومت میں مداخلت کے بارے میں نہ سوچنا۔۔۔ ورنہ گھر بیٹھنا پڑے گا۔۔۔ زندگی کے آخری دنوں میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو ریمارکس دیے ہمارے افسروں کو آئین کی تعلیم دینا اشد ضروری ہے اور اس ملک میں سویلین بالادستی کو یقینی بنانا ہو گا۔۔۔ اس حوالے سے قائداعظمؒ کے خیالات کے بارے میں کبھی ابہام نہیں رہا۔۔۔ ہر ایک پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔۔۔ کھوٹے سکے شاید ان کی جیب میں بھی تھے۔۔۔ معلوم نہیں یہ بات کہی بھی تھی یا نہیں۔۔۔ لیکن سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی خاطر مشہور بہت کی گئی۔۔۔ اسے درست بھی مان لیا جائے تو کیا بانی پاکستان نے کبھی یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ کھوٹے سکوں کی جگہ غیر آئینی اداروں کے افرا دکو مسلط کر دیا جائے۔۔۔ اگر انہوں نے کھوٹے سکوں کی موجودگی پر اظہار تاسف کیا بھی تھا تو مراد یہ تھی کہ جمہوریت کے فطری عمل تطہیر کے ذریعے ان کی جگہ کھرے سکوں کو رائج کیا جائے۔۔۔ لیکن ہم نے کیا کیا ۔۔۔ کھرے کھوٹے میں تمیز باقی نہ رہنے دی۔۔۔ ہر کامیاب اور عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرنے والے مینڈیٹ یافتہ سیاستدان کے ماتھے پر بدنامی کا کلنک کا ٹیکہ لگایا۔۔۔ اس کا دامن تار تار کیا۔۔۔ سکیورٹی رسک ہونے اور غداری کے سرٹیفکیٹ عنایت فرمائے۔۔۔ یہاں تک کہ قائداعظمؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح جب اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر صدارتی انتخاب کے معرکے میں خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی آمریت کو للکارتے ہوئے میدان میں آن کھڑی ہوئیں تو اس نے انہیں بھی بھارت کی دوست قرار دینے سے گریز نہ کیا۔۔۔ اس چکر سے کب نکلا جائے گا۔


ای پیپر