سامانِ شیون
19 مئی 2018 2018-05-19

رمضان المبارک کاچاند بحمدللہ طلوع ہوگیا ۔ پوری دنیا چھٹ کر دو حصوں میں بٹ گئی! روزے کی فرضیت پہچاننے والے اور نہ جاننے پہچاننے والے !حزب اللہ اور حزب الشیطان ۔(المجادلۃ،19-22) مفلحون اور خٰسرون ۔ ناری شیطان تو بند ھ گیا۔ طینی شیاطین کھلے پھررہے ہیں۔ اب برسرزمین سارا فساد انہی کے دم قدم سے ہے۔ قدس پر ایک طرف فلسطینی نوجوانوں کے خون کے چھینٹوں کی برسات ہے۔ دوسری جانب اس پر گر یٹر اسرائیل ایجنڈے کے تحت امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کا سیاہ سایہ ہے۔ پوری مسلم دنیا کسی نہ کسی رنگ، خانہ جنگی، آمرانہ استبداد ، کفر کی یلغار سے آزمائی جارہی ہے۔ ایسے میں ہلال رمضان کی دعا ہر بن مو سے پکاربن کر اٹھتی ہے۔ اللھم اھلہٗ علینا ۔۔۔ الخ ’یا اللہ یہ چاند ہم پر نکال امن وایمان ، سلامتی و اسلام کے ساتھ‘۔ (آمین ) اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت ہر جا امن اور سلامتی ہے۔ تاہم امن، ایمان سے نتھی ہے اور سلامتی، اسلام ہی سے مل سکتی ہے !یہ پورا ایمان کا پیکج ہے۔ جو آگ کو گلزار کردیتا اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں سے نکال کر سلامتی کی چھاؤں میں لے آتا ہے۔ محفوظ ومامون کو دینے والا، امن دینے والا ’المؤمن‘ رب ہے۔ اسلام میں پورے داخل ہو جانے میں، اسے طرز زندگی بنالینے میں ہردکھ کا مداوا ہے۔ اسلم تسلم، اسلام لاؤ، سلامتی پاجاؤ گے۔ لیکن ہم سلامتی کو سلامتی کونسل میں ہی تلاش کرتے ادھ موئے ہوگئے۔ عالمی چوہدریوں کی اس لونڈی کے ہاں مسلمانوں کے لیے مگرمچھ کے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں رکھا !یہ آنسو بھی امریکی ویٹو نگل جاتاہے ۔ الٹا نہتے فلسطینیوں کو ان کے شہداء اور زخمیوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ایسے میں مسلمان کہاں ہیں؟ عرب آبادی میں بے قراری پائی جاتی ہے۔ مگر ان کے حکمران امریکہ/ اسرائیل کی محبت میں سرشار ہیں۔ سعودی ولی عہد کیونکہ امریکی داماد کشنر (یہودی) کی دوستی کا اسیر ہے اس لیے منہ موڑے بیٹھا ہے۔ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔ بحرین، امارات بھی اسرائیلی ظلم پرمنہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ فلسطینی یوم نکبہ (تباہی، آفت) منارہے تھے۔ وہ دن جو فلسطینی آبادی پر قیامت بن کر گزرا تھا (5مئی، 1948ء) ہرسال یہ دن فلسطینی اپنے خون میں نہاکر مناتے ہیں جب یہودیوں نے برطانیہ کی چھتری تلے فلسطین پر قبضہ کیا تھا۔ 5لاکھ فلسطینی مہاجر بناکر دنیا میں بکھیر دیئے گئے۔ یہودی آبادیاں عفریت کی طرح بڑھتی پھیلتی گئیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ مسلسل نہتے محصور فلسطینی غزہ، مغربی کنارے تک محدود کئے جانے کے بعد اسرائیلی جنگی جرائم کا نشانہ بنتے رہے۔ پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کا منہ چڑاتے ہوئے بالآخر ٹرمپ نے یہ آخری چھرا فلسطینی مظلومین اور امت مسلمہ کی پیٹھ میں گھونپ دیا۔ ارض مقد س ، مقبوضہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرکے اسرائیلی قبضے میں تازہ روح پھونک دی۔ صرف ایک نظر جشن جو اس موقع پر امریکہ اور اسرائیل نے امریکی سفارتخانے میں مل کر منایا ہے اسے ملاحظہ فرما لیجئے۔ اسے دیکھتے ہوئے پھٹی پھٹی آنکھوں اور حیرت سے گنگ ہوتی زبان اور کانوں میں پڑنے والے یہودی صہیونی جذبات کی تپش ناقابل یقین تھی۔ رمضان کی پہلی روپہلی راتیں اور مسلمانوں کی کسمپرسی !اقبال نے ہلال عید سے جوکچھ کہا۔ وہی آج بھی سچ ہے۔ ’بارش سنگ حوادث کا تماشائی بھی ہو۔۔۔ امت مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھ ۔۔۔ اوج گردوں سے ذرا دنیا کی بستی دیکھ لے۔ اپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے!رمضان کے شب وروز سے چند لمحے نکال کر گریٹر اسرائیل کے مرکز کا یہ افتتاح بہ چشم سردیکھئے۔ کس مذہبی جوش وخروش سے ڈاکٹررابرٹ جیفرسن جو (Baptist Mega Texan)چرچ کا پادری ہے، بند آنکھوں سے جذبات میں ڈوب کر اس تقریب کی اہمیت یہودی تاریخ کے تناظر میں بیان فرما رہے ہیں۔ اسے تین ہزار سالوں کے خوابوں کی تعبیر (یروشلم کا اسرائیل کا دارالخلافہ بنایا جانا) قرار دے رہے ہیں۔ یہودی وزیراعظم اور ٹرمپ پر دادوتحسین اور مبارکبادوں کے ڈونگرے برسارہے ہیں۔ ایک اور امریکی پادری جان ہاگی جو ’اسرائیل کے لیے متحد عیسائی‘ نامی تنظیم کا بانی ہے اور جوٹیلی ویژن پر فروغ عیسائیت کا زبردست مبلغ ہے ، نے کہا :یروشلم وہ مقام ہے جہاں مسیح (الدجال) کو آنا ہے اور لازوال بادشاہت قائم کرنی ہے۔ امریکی سفیر (یہودی) برائے اسرائیل کا گہرا۔ ذاتی دوست قدامت پرست یہودی ربی بھی ہمراہ کھڑا ٹرمپ کی درازئ عمر کے لیے دعا گو دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار Haaretzکے مطابق امریکہ کی ’فرسٹ یہودی بیٹی‘ ایوانکا اور کشنر نے یہودی عبادت گاہ میں عبادت فرمائی۔ یروشلم میں ٹرمپ کے تعریفی بینرز کی قیمت ’صہیون دوست عیسائی مبلغین‘ امریکی تنظیم اور عیسائی صہیونی مائیک ایوان نے ادا کیے۔ اس تقریب میں ان کی بڑی تعداد میں شرکت یہ بتارہی تھی کہ سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کے پیچھے اصل قوت کونسی کارفرما ہے ؟ یہ پوری تقریب آمد دجال کی بھرپور مذہبی تیاری کا منہ بولتا ثبوت اور گریٹر اسرائیل کے اہم ترین سنگ میل کی حیثیت سے دیکھی جاسکتی ہے۔ تقریب میں ڈھیروں لال پھول ، فلسطینی خون سے رنگین ہونے کا تاثر دے رہے تھے !آخر میں تمام حاضرین نے مل کر یہودی مذہبی نعرہ بلند کیا۔ مسلم دنیا کو قومیت، سیکولرزم، لبرلزم ، آزادی، بے راہ روی کی آگ میں جھونک کر، تمام باشعور مسلم دینی عناصر پر دہشت گرد کا لیبل لگاکر عقوبت خانوں میں ٹھونس کر خود کیا کررہے ہیں ؟ ایک طرف پرجوش مذہبیت کے ساتھ آمددجال کی تیاری اور دوسری طرف مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجارہے ہیں ۔ ایک طرف یہ جشن برپا تھا۔ صرف 50میل دور یہی یہود غزہ کے مسلمانوں پر سیدھی گولیوں کی باڑ برسا رہے تھے۔ جس سے 60فلسطینی شہید ہوئے جس میں 8ماہ کے معصوم پھول سمیت 61بچے شامل ہیں۔ 2700زخمی ہوئے جن میں شدید زخمی خطرے میں ہیں۔ امریکہ نے اس تقریب کے لیے یوم نکبہ کا انتخاب کیا۔ ٹرمپ نے فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے اس تقریب سے وڈیو لنک پر خطاب فرمایا اور کہا کہ امریکہ امن اور آزادی کے لیے اسرائیل کا پارٹنر رہے گا۔ کس کی آزادی اور کس کا امن ؟ اسرائیل کا! فلسطینی اسی طرح گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں کی برسات کا سامنا کریں گے۔ اسی دوران یہودیوں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا اور مسجد کی بے حرمتی کی۔ فلسطینیوں کے قتل عام کا مجرم امریکہ بھی ہے۔ عرب دنیا کی خاموشی اور بے حسی سے خون کے چھینٹے ان حکمرانوں کے دامن پر بھی صاف دیکھے جاسکتے ہیں ۔ مردہ ہیں مانگ کے لائے ہیں فرنگی سے نفس ۔۔۔ برانڈ مسلم حکمران !مزید یہ بھی تو ہے کہ اس وقت دنیا میں سب سے بڑا جرم مصیبت زدہ مسلمان کی مدد کرنا ہے۔ شام، فلسطین، کشمیر، افغانستان (پر غاصب امریکہ کا قبضہ )۔۔۔ کیا آپ ان تمام مقامات پر زخمی، شہیدوں کی بیواؤں ، یتیم بچوں کی مدد کرسکتے ہیں ؟ جی نہیں !اس کا نام ’ٹیرر فائیننسنگ‘ (دہشت گردی کی مالی امداد !)رکھ دیا گیا ہے۔ دنیا کے مہا دہشت گرد اسرائیل کو دامے درہمے سخنے امریکی مدد اس زمرے میں نہیں آتی! ہمارے خیراتی ادارے سب بند کردیئے جاتے ہیں۔ تازہ خبروں میں سعودی خیراتی، امدادی اداروں پر تفتیش کاروں کا غیرمعمولی دباؤ ہے۔ (امریکی حکم پر ) اب مساجد ، مدارس ، یتیم خانوں، روزہ کشائیوں کی بجائے فیشن انڈسٹری ، میوزیکل شوز میں مدد فراہم کرو۔ پانی کے کنووں کی جگہ بل بورڈز کا سیۂ جاریہ کھڑا کرو۔ ہماری اسلام پسندی کی حالتِ زار دیکھنی ہوتو ذرا پیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمان کا غم وغصہ ملاحظہ ہو! کس بات پر ؟ کہ نئے ایئرپورٹ پر اے ایس ایف کی خواتین اہلکاروں نے سرحجاب سے ڈھانپ رکھے تھے ! آگ بگولا ہوگئیں کہ یہ زبردستی کروایا جارہا ہے؟ تو کیا ان
خواتین کو کبوتر کے خون جیسی لال سرخی اور لمبے لال ناخن سے آراستہ کرکے چڑیل ، ویمپائر صورت بناکر ہوائی اڈے پر لاکھڑا کیا جائے؟ زبردستی جابجا یونیفارم میں مردانہ وار پینٹس تو پہنائی جاسکتی ہیں حجاب پہننا قیامت ہوگیا۔ رمضان (ریاست مدینہ سے مشابہت دی گئی تھی سرکاری بیانیے میں ) کا استقبال چترال میں سرکاری سرپرستی میں ’کالاش فیسٹول‘ کے میلے سے کیا گیا۔ سیاحت کے لوازم رقص، موسیقی، شراب وشباب غیرملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کے لیے فراہم تھے۔ دیوی ’جیتک‘ کی پوجا پاٹ (جوعورتوں اور بچوں کے تحفظ کی دیو ی ہے! پناہ بخدا !)اور دیوتاؤں کی پوجا پاٹ کی رسومات بھی میلے کا حصہ تھیں۔ عین 16مئی کو یہ مکمل ہوا۔ مزید یہ کہ نیلم وادی کے حادثے میں المناک اموات (جو سیلفیاں پل پر بناتے ہوئیں) کی خبریوں شائع ہوئی۔ نیلم ویلی حادثے کے شہید، شہادتوں کو اتنا ارزاں کردیا کہ کل شکاگو کے ’شہید‘ امریکی مزدورتھے۔ اب کالجوں سے رمضان سے عین پہلے نوجوان لڑکے لڑکیاں پکنک مناتے سیلفیاں لیتے تکلیف دہ حادثے کا شکارہوگئے۔ تو ’شہید‘ کالیبل لگادیا ؟ شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن ؟ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے؟ کشمیر کے اس پار آزادی اور ایمان کی قیمت چکاتے شہداء کو دیکھئے۔ فلسطین کو اقصیٰ کی حرمت پر لہو رنگ دیکھئے۔ اور پھر دشمنوں کے خون سے رنگیں قبا ہونے کی بجائے اپنے بچوں کے یہ روزوشب ملاحظہ ہوں! امت کے حال زار سے لاعلم ۔ بے حسی بے دردی کا لقمہ تر! ایک تصویر لاہور میں موٹرسائیکلوں پر سوار قوم کی بیٹیوں کے فاتحانہ نعروں کی بھی ہے! پنجاب حکومت مزید 26اضلاع میں خواتین موٹرسائیکل سواروں کی ریلی کروائے گی! ترقی کی معراج ملاحظہ ہو۔۔۔ موج کو آزادیاں سامان شیون ہوگئیں !


ای پیپر